بزرگ شاعروادیب اور سماجی خدمت گارنیرقریشی گنگوہی کا انتقال

سہارن پور (پریس ریلیز )
قصبہ گنگوہ کی معروف سماجی شخصیت شاعراورادیب الحاج سعیداحمدعرف نیرقریشی کا طویل علالت کے بعد کرنال کے ایک پرائیویٹ اسپتال امرت دھارامیں انتقال ہوگیاـ وہ چھیاسی برس کے تھےـ نیرقریشی اپنی خوش اخلاقی، شگفتہ مزاجی اور ستھراشعری وادبی ذوق رکھنے کے باعث سماجی اور ادبی حلقوں میں محبوبیت رکھتے تھے، ان کا کلام ملک کے مختلف رسائل ومجلات میں چھپتا تھاـ انہوں نے نصف درجن سے زائد مطبوعہ کتابیں بطور یادگارچھوڑی ہیں ـ سماج کی خدمت اوردلجوئی کا بھی ان کا فطری ذوق تھا اسی لئے سیاسی میدان میں بھی انہوں نے قصباتی سطح پر قسمت آزمائی کی ـ مرحوم کی نمازجنازہ شیخ الحدیث مفتی خالدسیف اللہ نقشبندی نے پڑھائی،جس میں مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی ـ مرحوم کے پس ماندگان میں تین بیٹے اوردوبیٹیاں ہیں، بڑے بیٹے عمران عظیم ایڈوکیٹ شعروادب سے جڑے ہیں، جبکہ منجھلے صاحبزادے عرفان علیم سوشل ورکرہیں ـ
ان کی وفات پر مفتی خالدسیف اللہ، مولانا محمد سلمان بجنوری، مولاناندیم الواجدی، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،مفتی محمدساجدکھجناوری،صوفی ظہیراختر، مولاناعبدالواجد ندوی، یونس رہبر، مولانا ازہرمدنی، شبیرشاداور نسیم انور ایوبی سمیت سرکردہ شخصیات نے اظہارتعزیت کیا ہےـ