برادران وطن سے سماجی تعلقات بنائیے اور فاصلے دور کیجیے

 
محمد قمرالزماں ندوی
ہندوستان کے موجودہ حالات (بلکہ پوری دنیا کی صورت حال) ہم مسلمانوں کے لئے یقینا انتہائی نازک، مشکل اور ناگفتہ بہ ہیں ۔ ان حالات نے ہم میں سے ہر شخص کو جس کے اندر ذرا بھی انسانیت،ملی درد اور تڑپ ہے حالات کے تجزئیے پر مجبور کر دیا ہے ۔ ہمارے مذہبی اور ملی قائدین ان حالات کے تدارک کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور دکھتی رگ پر انگلی رکھنے کے ساتھ مرض کی تشخیص اور اس کے طریقئہ علاج کو بتا رہے ہیں ۔ جن سخت حالات سے ہم مسلمان دو چار ہیں اور نفرت و تعصب منافرت و عصبیت ظلم و سفاکی اور حیوانیت و درندگی کی جو آندھی چل رہی ہے یہ حالات مسلمانوں کے ساتھ کوئ پہلی مرتبہ پیش نہیں ائے ہیں بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطے اور مختلف علاقوں میں یہ حالات اور اس طرح کے مسائل و مشکلات آتے رہے ہیں ۔ بلکہ اس بھی سخت اور مشکل حالات کا مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا ہے ۔
تاریخ میں بے شمار ایسے واقعات اور مواقع ائے ہیں جب یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اب اسلام کا چراغ گل ہوجائے گا ؛ لیکن جو چراغ ہمیشہ جلنے کے لئے آیا تھا ،اسے کیوں کر بجھا سکتا ہے ۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے چراغ بجھایا نہ جائے گا
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
جب ایمان والوں پر یہ حالات اور اس طرح کے نازک مواقع آئے انہوں نے اپنے عزم و حوصلے صبر و استقامت اور اپنی غلطیوں کی اصلاح سے بہت جلد حالات کا رخ موڑ دیا ۔ موجودہ حالات میں بھی مایوسی یا شکست خوردگی اور پست حوصلگی کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ ضرورت ہے کہ قرآن و حدیث کا گہرائ سے مطالعہ کیا جائے اور نقوش سیرت، آثار صحابہ اور مکی اور مدنی حالات کا جائزہ لیا جائے اور ان حالات کا جائزہ اور تجزیہ آج کے حالات کے تناظر میں کیا جائے ۔
راقم الحروف کے نزدیک سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطالعے کی روشنی میں آج کے حالات پر قابو پانے کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے نفرت اور دشمنی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ برادران وطن سے سماجی تعلقات قائم کئے جائیں،ان سے خوش گوار تعلق پیدا کئے جائیں ، سیکولر سیاسی جماعتوں سے معاہدے کئے جائیں، جائز اور مباح حد تک ان سے راہ و رسم قائم کئے جائیں ان کے ساتھ حق پڑوس نبھایا جائے کسی بہانے ان کی دعوتیں کی جائیں ان کو ہدیہ تحفہ بھی دیا جائے غیر مسلم بھائیوں کے یہاں کسی کی موت ہوجائے تو شریعت کی حد میں رہتے ہوئے ان کی مدد کی جائے ، ان کی خوشی کے موقع میں بھی شریک ہوا جائے ، جو سماجی قدریں مشترک ہیں انسانی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہیں اور ہر مذہب اور سوسائٹی میں ان کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے ان قدروں میں برادران وطن کے ساتھ بھی یکساں سلوک کیا جائے ۔ مثلا ان کے بڑوں کی عزت کی جائے ہم عمروں کی توقیر کی جائے ان کا خیال رکھا جائے ان کے چھوٹوں کو بھی اپنے ہی چھوٹوں کی طرح سمجھا جائے ان سے شفقت کا معاملہ کیا جائے ۔
غیر مسلموں کے ساتھ سماجی تعلقات قائم کرنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یہ کسی طرح شریعت کے منافی چیز نہیں ہے ارشاد خداوندی ہے:
لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم الخ( الممحتنة ۸)
جو لوگ تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے ،اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھر سے نکالا ہے ،اللہ تعالی تم کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور انصاف برتنے سے نہیں روکتے ،بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں ۔
یہ آیت کریمہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو غیر مسلم مسلمانوں سے بر سر پیکار نہ ہوں ،مسلمانوں پر ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا ضروری ہے ۔ قرآن مجید نے اس کی بھی وضاحت کر دیا کہ کسی قوم کا ہدایت کے راستہ پر آنا اور دین حق کو قبول کرنا یہ خدا واحد کی توفیق پر منحصر ہے اس کی وجہ سے کسی گروہ کے ساتھ بے تعلقی کا معاملہ کرنا اور حسن سلوک سے رک جانا درست نہیں، مسلمان ان کے ساتھ جو بہتر سلوک کریں گے انہیں بہر حال اس کا اجر مل کر رہے گا سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۲ میں اللہ تعالی نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے ۔
حدیث شریف میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ بعض انصار کی بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہودیوں سے قرابت تھی ،انصار ان پر اس لئے صدقہ (نافلہ) نہیں کیا کرتے تھے کہ جب ضرورت مند ہوں گے تو اسلام قبول کریں گے ،اللہ تعالی نے ان کے اس رویہ کو پسند نہیں کیا اور فرمایا ان کی ہدایت کا تعلق اللہ سے ہے لیکن تم اس کی وجہ سے اپنا دست تعاون نہ کھینچو کیونکہ تم کو تمہارے انفاق اور خرچ کا اجر مل کر رہے گا ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء نے عملی طور پر اس کو برت کر دکھایا ،مکہ میں شدید قحط پڑا، لوگ مردار وغیرہ کھانے پر مجبور ہو گئے، یہ زمانہ مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان شدید اختلاف اور گرما گرمی کا تھا ،اس کے باوجود آپ نے مکہ کے قحط زدہ مشرکین کے لئے پانچ سو دینا بھیجا،حالانکہ اس وقت خود مدینہ کے مسلمان سخت مالی دقتوں اور فاقہ مستیوں سے دوچار تھے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم سرداران قریش ابو سفیان اور صفوان بن امیہ کو بھیجی ،جو مسلمانوں کی مخالفت میں سب سے پیش پیش تھے اور مشرکین مکہ کی قیادت و سیادت کر رہے تھے ( رد المحتار ۳/۳۰۲ بحوالہ حقائق اور غلط فہمیاں از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
ملک کے موجودہ ستم ظریفانہ حالات میں ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسوئہ صحابہ سے سبق حاصل کریں اور ان کی روشنی میں حالات کا تجزیہ اور پھر اس کا مقابلہ کریں اور اس حقیقت کو ذھن میں رکھیں کہ اگر نفرت کے رد عمل میں نفرت کا اظہار ہوگا تو ہر طرف نفرت ہی کے کانٹے اگ جائیں گے، محبت کے پھول باقی نہیں رہیں گے اس لئے ہم مسلمانوں کا فریضہ ہے اس نفرت انگیز مہم کا جواب محبت انسانیت مانوتا اور اخلاق کے ذریعہ دیں برادران وطن سے (کفر و شرک میں بلا کسی سمجھوتے کے) خوش گوار تعلق قائم کریں اس کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئیں ان کے دل اپنے مومنانہ زندگی اور کردار سے جیت لیں اور اس تدبیر کے ذریعہ موجودہ ماحول کو بدلنے کی کوشش کریں ۔
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ