بابری مسجد ملکیت مقدمہ اگلی سماعت ۱۳؍جولائی کو


غیر ضروری بیان بازی کرنے والوں کے خلاف عدالت ازخودنوٹس لے: مولانا سید ارشدمدنی
نئی دہلی 6؍جولائی ۔ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد آج ایک بار پھر سپریم کورٹ آف انڈیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے سامنے ہوئی جس کے دوران سب سے پہلے ہندوفریقین نے اپنی نامکمل بحث مکمل کی، اس کے بعد جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے مقررکردہ سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون نے عدالت میں اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ فریق مخالف کے وکلا کی جانب سے رام مندر کی حمایت میں سوائے آستھا کے عدالت کے سامنے ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ بابری مسجد رام مندرتوڑ کر بنایا گیا تھاانہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوفریقین نے حالانکہ اس معاملہ کو کثیر رکنی بینچ پرسماعت کئے جانے کی مخالفت کی ۔
ڈاکٹر راجیودھون نے کہاکہ اگرکثرت ازدواج اور رسم حلالہ کے معاملہ کو کثیر رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لئے بھیجا جاسکتا ہے تو پھر بابری مسجد مقدمہ کیوں نہیں ؟ ڈاکٹرراجیودھون نے عدالت میں آج ایک بارپھر بابری مسجد معاملہ کی سماعت کثیر رکنی بینچ کے ذریعہ کرائے جانے پر اپنے دلائل پیش کئے ، دوران سماعت آج اس وقت ہندوفریقین کے وکلاء میں بے چینی پھیل گئی جب چیف جسٹس نے ہندوفریقین کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ پی ، این ، مشراکو مسجد سے متعلق اسلامی احکامات پربحث کرنے سے روکتے ہوئے جمعیۃعلماء کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون سے کہا کہ وہ مسجد سے متعلق اسلامی احکامات پر روشنی ڈالیں اور عدالت کو یہ بتائیں کہ اسلام میں مسجد کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اس پر ڈاکٹر راجیودھون نے کہا کہ اسمعیل فاروقی فیصلہ کی وجہ سے مسجدوں کی شرعی حیثیت کو سخت زک پہنچا ہے، لہذا عدالت کو اسمعیل فاروقی فیصلے کے پیراگراف نمبر 81 کو تبدیل کردینا چاہئے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ نماز مسجد میں پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ نماز کہیں بھی پڑھی جاسکتی ہے ۔دوسری طرف صوبہ اترپردیش کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشارمہتا نے بھی بابری مسجد رام جنم بھومی معاملہ کو کثیر رکنی بینچ پر سماعت کئے جانے کی مخالفت کی جس پر جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء نے کہا کہ کسی ریاست کا وکیل کسی مخصوص فریق کے حق میں بات نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ کسی کا حمایتی نہیں ہوسکتا ، بعدازاں سہہ رکنی بینچ نے انہیں اس معاملہ میں یہ کہتے ہوئے زیادہ بحث نہیں کرنے دی کہ ہندومسلم فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت اس تعلق سے کوئی فیصلہ کریگی۔آج نرموہی اکھاڑے کی جانب سے ایڈوکیٹ سوشیل جین نے بھی بحث میں حصہ لیا اور یہ کہا کہ کثیررکنی بینچ کے حوالہ نہ کیا جائے ۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے بلکہ انتہائی حساس اور اہم معاملہ ہے اور چونکہ الہ آباد ہائی کورٹ کی تین رکنی بینچ پہلے ہی اس مقدمہ کی سماعت کرچکی ہے اس لئے حتمی مراحل میں اصولی طور پر اسے ایک کثیر رکنی بینچ کے حوالہ کردیا جانا چاہئے تاکہ مقدمہ کے ہر پہلوکا باریک بینی سے تجزیہ ممکن ہوسکے انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسجد کی شرعی حیثیت کے تعلق سے ہمارے وکلاء نے جو بات بینچ کے سامنے کہی ہے وہ بالکل درست ہے، مولانا مدنی نے اس بات پر ایک بار پھر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کچھ لوگ منظم طریقہ سے عدالت سے باہر اس معاملہ میں غیر ضروری بیان بازی کررہے ہیں یہاں تک کہ بعض ذمہ دارلوگ میڈیا کے سامنے آکر اسی مقام پر مندربنانے کی بات کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بڑا سوال یہ ہے کہ جب معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو اس طرح کی بیان بازی کا کیا جواز ہے ؟اس لئے میں گزارش کروں گا کہ معزز عدالت ازخود اس بات کا نوٹس لے اور جو لوگ ایسا کررہے ہیں انہیں انتباہ کرے ، کیونکہ اس طرح کی بیان بازی سے معاشرے میں انتشار واشتعال پھیل سکتا ہے انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کررہے ہیں غالباان کی منشاء یہی ہے اور یہ سب کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت ہورہا ہے مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ایک محب وطن شہری کی طرح مسلمان صبر وتحمل کے ساتھ عدالت کے فیصلہ کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور انہیں یقین ہے کہ عدالت دوسرے معاملہ کی طرح اس اہم مقدمہ میں بھی ثبوت وشواہد کی بنیاپر فیصلہ د یگی دوسری طر جولوگ غیر ضروری بیان بازی میں مصروف ہیں وہ اپنے رویہ سے برملااظہار کررہے ہیں کہ جیسے انہیں نہ تو عدالت پر اعتمادہے اور نہ ہی ان کی نظرمیں عدالت کی کوئی عزت ہے ۔
فریقین کے وکلاء کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے معاملہ کی سماعت 13 ؍جولائی تک ملتوی کردی آج بھی وکلاء کی بحث مکمل نہیں ہوسکی ۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین ماہ سے چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی اس تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیراور جسٹس بھوشن کے روبرو جاری جمعیۃ علماء کے وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ان کی معاونت کرنے والے سینئر وکیل راجو رام چندرن کی بحث کا اختتام عمل میں آیا تھا جس کے بعد عدالت نے دیگر فریقین کو بحث کرنے کا موقع دیا تھا۔آج ہندوفریقین کے وکلاء نے اپنی جاری بحث کو آگے بڑھایا واضح ہوکہ بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر بحث میں سینئر وکلاء کی معاونت کے لئے سینئر ایڈوکیٹ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے