بابری مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ جلد فیصلہ سنائے :مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی :3؍فروری ( قندیل نیوز)
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ چاہتا ہے کہ بابری مسجد۔ایودھیا معاملے میں عدالت کا فیصلہ جلد آئے۔ اس معاملے سے وابستہ حقائق اور دستاویزات پر غور کیا جائے اور فیصلے جلد کیے جائیں۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں ایودھیا معاملے پرسماعت آٹھ فروری کوہونی ہے۔ سپریم کورٹ میں سماعت سے پہلے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ہفتہ کو قانونی ماہرین کے ساتھ ملاقات کی ۔اس کے ساتھ اطلاع یہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈماڈل نکاح نامہ تیارکررہاہے جس میں تین طلاق نہ دینے کی شرط مندرج ہوگی۔تین طلاق کے واقعات کو روکنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نکاح نامے میں اس شق کے تئیں نکاح نامہ میں اس باب کو کالعدم قرار دینے کی تیار کررہا ہے ۔ اس کے تحت اب نکاح کے وقت ہی شخص کو ایک بار میں تین طلاق نہ دینے کا وعدہ کرنا ہوگا۔ ایک طرف حکومت تین طلاق کو جرم قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں بورڈ حتی الامکان اس کے عدم نفاذ کے لیے کوشش کررہا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ تین طلاق کے خلاف ہے لیکن اس کے اوپر قانون بنائے جانے کو بورڈ مسلم پرسنل لاء میں دخل مانتا ہے جو کہ قانونی شق کے سراسر خلاف ہے ۔پرسنل لاء میں تبدیلی نہیں لانے کے لئے بورڈ پر اہرمنی صفات کی طرف سے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس طرح کی تنقید ہوگی۔تاہم اس بار ے بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے بتایا ہے کہ نکاح نامے میں ایک کالم ہوگا جس میں لکھا ہوگا کہ میں نے کبھی تین طلاق نہیں دوں گا ۔ اس شق کو تسلیم کرنے کے بعد ہی نکاح خوانی ہوسکے گی ۔ بورڈ کے ایک اہم رکن ظفریاب جیلانی نے کہا کہ بورڈ کی رائے ہے کہ اس معاملے میں تفصیلی سماعت کرکے تمام حقائق اور دستاویزات پر غور کیا جائے اور جلد فیصلہ کیا جائے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ملاقات کے بعد جیلانی نے بتایا کہ آٹھ فروری کو سماعت ہونے جا رہی ہے اور اس سے پہلے ہم نے قانونی ماہرین کے ساتھ ملاقات کی اور اپنی تیاری کو لے کر گفتگو کی ۔ جیلانی نے کہا کہ ہمارا ابتدا ء سے یہ موقف رہا ہے اور ابھی بھی یہی ہے کہ معاملہ کی جلد اور وسیع سماعت کی جائے اور تمام حقائق اور دستاویزات پر غور کیا جائے۔ تمام فریقین کی باتوں کو سنا جانا چاہئے اور معاً اس کافیصلہ بھی جلد آنا چاہیے ۔ بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے کہا کہ ہم پوری تیاری کے ساتھ عدالت عظمیٰ میں اپنا موقف رکھیں گے اور امید ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔اجلاس میں بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ سپریم کورٹ کے کئی سینئر وکیل موجود تھے۔ ایودھیا میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی ملکیت کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر دیوانی اپیلوں پر عدالتِ عظمیٰ آٹھ فروری کو سماعت کرے گی۔