اے لوگو! اپنے جہل اور بے شعوری کو چھپاؤ کہ شریف لوگ یہی کرتے ہیں

محمدطارق غازی
ایک ہوتی ہے تاریخ ، ایک ہوتا ہے تاریخ کا گمان اورایک ہوتا ہے اس جہل پر اپنے علم کا پندار، تاریخ، گمان اور پندار میں بڑا فرق ہے۔چند بے شعور اردو داں اردو میں اکثر ایسی تحریریں آگ کی طرح پھیلاتے ہیں کہ مثلاً شاہ جہاں نے تاج محل بنایا، کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی اور صنعتی انقلاب نہیں لایا، اول توشاہ جہاں کے زمانے کے انگلستان میں صنعتی انقلاب کا کوئی تصور پیدا ہی نہیں ہوا تھا،دوسرے یہ سوال بھی تو کرو کہ کیا تاج محل تعمیر کرنے والے آرکیٹکٹ، انجینئر، مستری اور مزدور کسی یورپی یونیورسٹی سے درآمد کیے گئے تھے؟ وہ سب ہندستان کے باشندے اور اسی کے تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ ماہرین تھے، انگریزوں سے پہلے کاہندستان اور اس ہندستان کا مسلمان ان لوگوں کی طرح جاہل، بے علم،بے شعور نہیں تھا ،جو آج اپنے ان بزرگوں کو جاہل، بے علم اور بے شعور کہنے کی جسارت کرتے ہیں۔
تاریخ کیا ہے؟
تاریخ یہ ہے کہ بے شک ہلاکونے معتصم کو کھانے کے لیے ہیرے جواہرات پیش کیے تھے اور طعنہ دیا تھاکہ اس دولت سے ہتھیار کیوں نہ بنائے؟
تاریخ یہ ہے کہ ہلاکو نے بغداد کے سارے محلات کو مٹی کا ڈھیر بنادیا تھا۔
تاریخ یہ ہے کہ اسی بغداد میں بیت الحکمت قائم تھا، جس نے دنیا کو مادی علم کی روشنی دی تھی، یہ یونان کی نقل نہیں تھی، جہاں عملی سائنسوں کی جگہ فلسفہ یا زیادہ سے زیادہ طب پر توجہ مرکوز تھی۔
تاریخ یہ ہے کہ بغداد اور اس کے بعد قرطبہ نے عملی سائنسی ایجاد ات کیں اور انہیں دنیاکے لیے مفید بنایا تھا۔
تاریخ یہ ہے کہ شاہ جہاں نے تاج محل بنایا تھا۔
یہ سب سنتے ہی تنخواہ دار ماہرین قلم کا جھپٹا ماریں گے کہ پھر ’’پدرم سلطان بود‘‘ کہا!
ارے یہ بتاؤ کہ آج کا مسلمان کیا کررہا ہے؟ مگر یہ بتانے سے پہلے یہ تو جانو کہ تاریخ وہ نہیں ،جو لوگ ایک لاکھ روپے فی کالم والے اخباری کالموں میں لکھ کر دنیا کوبے وقوف بناتے ہیں۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ تاج محل الہ دین کے جادوئی جن نے ایک شب میں نہیں بنا دیاتھا اور نہ ان کے لیے شاہ جہاں نے انگلستان پرتگال،فرانس یاجرمنی سے انجینئربلائے تھے۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ اس کام میں دنیا کے بہترین انجینئر، ماہر معمار، نقشہ نویس،نقشہ خواں، مستری اور بیس ہزار مزدور بائیس سال تک لگے رہے تھے (بائیس سال کامطلب ہے دو نسلیں)
تاریخ یہ بھی ہے کہ تاج محل کا سنگ مرمر جے پور کے پاس کی مرمر کی کانوں سے آ رہا تھا، اسے نکالنے، پتھر کو مختلف سائز کی سلوں میں کاٹنے کے لیے مزدور،کاریگر، مستری اور ماہرینِ فن سنگ تراش درکار تھے اور سب مقامی راجپوت انسان تھے، یورپ سے نہیں آئے تھے۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ ان پتھروں کو جے پور سے آگرہ لانے کے لیے ایک مربو ط مواصلاتی نظام درکار تھا، جس میں:
(۱)بیل گاڑیاں ،ان کو بنانے کے کارخانے ،ان کارخانوں کے کاریگر، ان گاڑیوں کو جے پور پہنچانے کا مواصلاتی نظام۔
(۲)پکی،کچی سڑکوں کا سسٹم ۔
(۳) بیل گاڑیوں کے بیل، ان کی مستقل ضرورت، ان کی افزائشِ نسل کے ادارے، ان میں کام کرنے والے علمِ حیاتیات کے ماہر افراد، بیلوں کو سدھانے والے لوگ۔
(۴) مرمر کی سلوں کو تاج محل کے مختلف حصوں کے مطابق کاٹنے ،ڈھالنے اورسنگ تراشی کے ماہرین کی فوجیں مصروفِ کار تھیں(ساٹھ سال سے آگرہ میں دیال مندربن رہا ہے، کبھی موقع ہو ،تو وہاں کام کرنے والے سنگ تراشوں سے جاکر ملو اور پوچھوکہ اس کام نے ان کی کتنی نسلوں اور کتنے ہزار انسانوں کو روزگار دیا ہے؟)
تاریخ یہ ہے کہ اکبر نے فتح پور سیکری میں قلعہ(دار الحکومت) تعمیر کیااور تاریخ یہ بھی ہے کہ دارالحکومت سیکری کی تعمیر میں ہزاروں انجینئر، نقشہ نویس، مستری، مزدوربرسہا برس لگے رہے اور اس کے پتھر،اینٹیں، چونااورگچ ملک کے مختلف علاقوں سے آرہے تھے اور لاکھوں خاندان روزگار سے لگے ہوئے تھے۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ سعودی بادشاہ فیصل کے بیٹوں نے ریاض میں کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال ۱۹۷۵ء میں قائم کیا تھا۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ سعودی حکومت نے جدہ میں کنگ فہد جنرل ہسپتال قائم کیا، جس میں مفت علاج ہوتا ہے اور تاریخ یہ نہیں ہے کہ کنگ ایڈورڈ نے کوئی ہسپتال قائم کردیا تھا،ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کا لندن تنگ و تاریک گلیوں اور بمبئی کی زبان میں جھونپڑ پٹیوں کا اندھا اور اندھیرا شہر تھا، جس کی شبیہ ٹاور آف لندن میں جاکر دیکھی جاسکتی ہے، اُس وقت دلی کا چاندنی چوک اور حیدرآباد کا چارمینارروشنیوں سے جگمگاتا شہرکا مرکز تھا، چاندنی چوک کی چوڑی سڑک کے درمیان سے مرمریں سلوں سے گزرتی ہوئی نہر بہتی تھی۔
تاریخ یہ ہے کہ اکبر نے تان سین جیسے گویے کو دربار میں بٹھایا تھا۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ پندرہویں صدی میں برطانیہ کے شاہ اڈورڈ چہارم کا بستر داشتاؤں کے لیے وقف تھا اور ان بے شمار داشتاؤں سے اس کے لاتعداد ناجائز بچے ہوئے۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ اڈورڈ ہفتم کو بھی داشتائیں رکھنے اور ناجائز اولاد پیدا کرنے کا بڑاشوق تھا۔
تاریخ یہ بھی ہے کہ جہانگیر کا ہم عصر شاہ چارلس دوم ایک تھیٹر میں سنترے بیچنے والی لڑکی نیل گوین کو اٹھا لایا تھا۔
اور تاریخ یہ نہیں ہے کہ صنعتی انقلاب کسی یورپی بادشاہ کی وجہ سے آگیا تھا، وہ الگ داستان ہے۔
ایسی چند نہیں، ہزاروں حقیقتیں کتابوں میں دفن ہیں اورعہدِ رواں کے مُردہ دماغوں میں زندگی کی لہر نہیں دوڑاتیں،یہ مردہ دماغ کن بے روح جسموں کے سروں کا تعفن ہیں؟یہ وہ لوگ ہیں ،جو ہمارے زمانے کی زندگی کی تڑپ کو قبرستان کی خاموشی میں گم کردینا چاہتے ہیں،یہ وہ تنخواہ دار لوگ ہیں، جو ہمارے زمانے کی ترقی کی امنگوں کومحرومیوں کے نوحوں میں بدل دینے کے آرزومند ہیں،یہ وہ لوگ ہیں ،جوہمارے دماغوں کی اپج، اختراعی صلاحیتوں، ایجادی استعداد کے ہر مظاہرے کوہماری نگاہوں سے اوجھل کرکے امت کے اثباتی وجود کو عدم کی کھائیوں میں ختم کرڈالنے پرکمر بستہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک زندہ قوم کو اپنے وجود کا نوحہ بنادیں،یہ لوگ نہیں جانتے یا ارضی حقیقتوں کودیکھنے والی آنکھوں سے محروم ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۶۰ء کے بعد انڈونیشیا چھوٹے اور درمیانے درجے کے بحری جہازاور چھوٹے ہوائی جہاز بنانے لگا تھا،صنعتی ارتقا کے میدان میں اس کے پڑوسی ممالک ملیشیا اور تھائی لینڈ کی اقتصادیات کو ’’ایشین ٹائگر‘‘ کہا جانے لگا تھا، ملیشیا کے محاضر محمد نے ان ملکوں کے لیے ۲۰۲۰ ء کو نقطۂ عروج قرار دیا تھا، پھر ایک شخص،فقط ایک شخص نے بقول شاعر ’’دولت کا سہارا لے کر‘‘جنوب مشرقی ایشیا میں کرنسی کا بحران پیدا کیا اور اس خطے کی معاشیات کو دوبارہ مغربی مہاجنوں کی اقتصادیات کی غلامی میں واپس لانے کا چکر چلایا، اس صدمہ سے جانبر ہونے کے بعداب بیس سال بعد انڈونیشیا پھر انگڑائی لے کر اٹھ رہا ہے، نتیجہ ایک دن یا ایک سال میں نہیں آئے گا، مگر پانچ سال میں آجائے گا۔
یہ تاریخ پڑھانے والے ’’اہلِ قلم‘‘ پھر دنیا میں مایوسی کے بادل طاری کررہے ہیں کہ خبر دار! مہاجنوں کی غلامی سے مت نکل جانا، بس ماضی پر روتے رہو، ٹسوے بہانے میں ہم مدد کریں گے،حقیقت یہ ہے کہ چوتھائی صدی سے زیادہ ہوئی، ملیشیا مقامی مہارت کی بہ دولت موٹرکاریں بنا رہاہے ،مگر وہ ملک ،جنہوں نے جاپان اور جنوبی کوریا کی کاریں خرید کر انہیں اقتصادی طاقتیں بنایا ،ملیشیا کی کاروں کو ہاتھ نہیں لگاتے، حقیقت یہ ہے کہ ترکی میں پچاس سال سے مقامی مہارت موٹر کاریں بنارہی ہے اور قومی لیڈر وہی کاریں استعمال کرتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ ترکی کی ڈیری دودھ کی صنعت ڈ نمارک کی اسی صنعت سے بدرجہابہتر ہے، مگرمسلم دنیا اس کی ان مصنوعات؛ مکھن، دہی، ایرن وغیرہ کی خریدار نہیں ہے۔
اور زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان حقیقتوں سے بے پروایا لاعلم یا انہیں دانستہ نظر اندازکرنے والے اُس ماضی کا رونا روز روتے ہیں، جودرحقیقت مسلم ماضی نہیں تھا، ہندستان میں آر ایس ایس کی دماغی سطح سے بات کرنے والوں سے شکوہ نہیں کہ وہ مسلم ہندستان کی تاریخ کے مقابلے میں احساسِ کمتری کا نتیجہ ہیں، باقی جو لوگ اس احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوئے ،وہ سچائی سے بے خبر نہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے۔مسئلہ وہ لوگ ہیں ،جو اسلامی ناموں کے ساتھ وہی باتیں کرتے ہیں، جوہندستان میں آرایس ایس کے کارندے کرتے ہیں، ان لوگوں میں نمایاں پاکستان کے کئی مشہوراخباری اور ٹیلی ویژن کے صحافی ہیں، ایسے پڑھے لکھے لوگ اپنے مقالوں اور ٹیلی وژن پروگراموں میں مسلسل ایسی باتیں لکھتے اور کرتے ہیں کہ مثلاً ہندستان کے سارے مسلم حکمراں بد معاش، عیاش، ملک کی دولت کو ضائع کرنے والے تھے، انہوں نے کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی، نہ بھاری صنعتوں کے کارخانے لگائے، نہ ملک میں یورپ جیسا صنعتی انقلاب لائے، نہ ان کے پاس علاج معالجہ کا کوئی انتظام تھا، نہ انہیں کھانے پہننے اور رہنے سہنے کی تمیز تھی، وغیرہ وغیرہ۔
کوئی انہیں بتانے والا نہیں ؟یا وہ سننے والے کانوں سے عاری ہیں کہ قطب مینار،تاج محل، دہلی،آگرہ،لاہور کے لال قلعے، جامع مسجد ٹھٹہ ، جامع مسجد چنیوٹ، بادشاہی مسجد لاہور، احمدآباد کی مسجد مینار لرزاں، بیجاپور کا گول گنبد (جو دنیا کا سب سے بڑا گنبد ہے) حیدرآباد کا چار میناراور قطب شاہی مقبرے تعمیر کرنے کے لیے یورپ سے انجینئر اور مستری درآمد نہیں کیے گئے تھے اور یہ کہ ان سارے پروجیکٹوں سے لاتعداد لوگوں کو روزگاراور عزت کی روٹی فراہم کی جاتی تھی اور وہ سب اسی ہندستان کے باشندے تھے اور ان سب نے اسی ہندستان میں اعلی تعلیم حاصل کی تھی یعنی اس مسلم ہند ستان میں اعلی تعلیم کے ادارے اس وقت سے موجود تھے ،جب ابھی یورپ کے بادشاہوں کو داشتاؤں کی گنتی سے فرصت نہیں تھی۔
یہ کون لوگ ہیں ،جو مادی علوم میں عہدِ رواں کے مسلمانوں کی مہارت کا کھلا انکارکرنے کی ناروا جسارت کرتے ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں ،جواس میدان میں مسلمانوں کی ’’ظاہری‘‘ پسماندگی کا رونا دن رات روتے ہیں، مگر رکاوٹوں کا اندازہ نہیں رکھتے؟امریکہ اوریورپ میں مقیم عرب، ترک، ہندستانی، پاکستانی، بنگلہ دیشی مسلمان سائنسی ماہرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ترقی کی سیڑھیوں پر چڑھنے کے لیے شراب کی پارٹیوں میں نہیں جاتے،اس مقصد کے لیے عورتوں کا سہارا نہیں لیتے، یہ لوگ نچلی اور درمیانی سطح سے اوپر نہیں اٹھتے اور انہی نچلی سطحوں پر اپنی صلاحیت کا تماشا دیکھتے رہ جاتے ہیں، جبکہ وہ ایشیائی ،جو ترقی کی ’’مطلوبہ‘‘ شرائط پوری کرتے ہیں، صنعت وتجارت و سیاست کی اونچی گدیوں تک پہنچ جاتے ہیں، یہ سنی سنائی نہیں، دیکھی بھالی اور جانی بوجھی کہانیاں ہیں، ایسے قصے بہت سے لوگوں پر بیتتے دیکھے گئے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ دنیا میں رائج مہاجنی نظام ’’اپنے گھر کے باہر‘‘ کسی ترقی پررضامند نہیں ہے، اسے دنیا کو معاشی غلام بنائے رکھنے سے دلچسپی ہے۔ کوئی کیوں نہیں سوچتاکہ وہ ترکی ،جہاں ۱۹۸۲ء میں ایک امریکی ڈالر میں پچیس ہزار ترکی لیرے آتے تھے، پھرجب ایک لیرے میں ۱۷؍ امریکی سینٹ آنے لگے، تووہاں اچانک’’مالیاتی بحران‘‘ آگیا اور بھلا کیوں آگیا؟
(مضمون نگار انگریزی کے معروف صحافی اورسعودی گزٹ کے سابق ایڈیٹرہیں،فی الحال کنیڈامیں مقیم ہیں)