ای۔کچرا…خدشات کا سدباب ضروری


ڈاکٹر منور حسن کمال
عالمی سطح پر اس وقت اکثر ممالک مختلف طرح کے صبرآزما مسائل سے دوچار ہیں۔ کہیں بارش ہے، کہیں طوفان ہے، کہیں برفانی طوفان ہے اور کہیں طوفانِ بادوباراں۔ ان سب کے ساتھ اس وقت دنیا کا ایک سب سے بڑا مسئلہ الیکٹرانک پرانا اور ناقابل استعمال سامان اور آلات ہیں، اس کو ’ای۔کچرا‘ کا سائنٹفک سا نام دیا گیا ہے۔ دراصل آج دنیا بھر میںیوز اینڈ تھرو ’استعمال کرو اور پھینک دو‘ کا چلن عام ہے، جس کے سبب ای۔کچرا کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس کچرے کو ٹھکانے لگانا ایک سنگین مسئلہ نظر آرہا ہے۔ اسے کہیں سمندروں میں پھینکا جارہا ہے اور کہیں بڑی جھیلوں اور نہروں میں ڈالا جارہا ہے، جس سے پانی کی آلودگی میں تو اضافہ ہوگا ہی، ساتھ ہی آبی مخلوقات کو اس سے کتنا نقصان پہنچے گا، اس کا ابھی اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن اب ای۔کچرا کی مارکیٹنگ سے یہ مسئلہ جلد حل ہونے والا ہے۔ ساتھ ہی امریکہ اور دیگر یوروپی ملکوں کے وزرائے ماحولیات الیکٹرانک کمپنیوں کو ایسی تجاویز بھیج چکے ہیں کہ الیکٹرانک آلات بنانے والی کمپنیاں ایسے آلات بنائیں، جو دیرپا اور طویل وقت تک کام آسکیں اور اگر وہ خراب ہوجائیں تو آسانی سے ان کی مرمت ہوسکے۔ ہندوستان میں کئی سماجی اور غیرسرکاری تنظیموں نے بھی ان کی آواز میں آواز ملاکر یہ کہا ہے کہ اس تجویز پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اس مہم کے بعد امریکہ کی 18ریاستوں نے رائٹ ٹو ریپئر(مرمت کرنے کا قانون) کے قانون پر غوروخوض کرنا شروع کردیا ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنا ای۔کچرا سمندر میں خراب ہوچکے جہازوں میں لاد کر بحرہند کی بندرگاہوں کے نزدیک چھوڑ جاتے ہیں۔ اس سے ہندوستان کے سمندر کے کناروں پر ای۔کچرا کا انبار لگ گیا ہے۔ اس ای۔کچرے میں کمپیوٹر، ٹی وی اسکرین، اسمارٹ فون، ٹیبلیٹ، فریج، واشنگ مشین، انڈیکشن کوکر، اے سی اور بیٹریوں جیسے سامان کثرت سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ای۔کچرے سے نمٹنے کے لیے اپنے یہاں بھی مناسب انتظامات کررکھے ہیں۔ اس لیے یوروپی ممالک میں ای۔کچرے سے وہاں کے باشندوں کی صحت پر کوئی خطرات نہیں ہیں۔
یہ ای۔کچرا کتنا نقصان دہ ہے، اس پر غور کریں اور صرف موبائل کی بات کریں تو اس میں استعمال ہونے والی پلاسٹک اور اس کے دیگر آلات اگر زمین میں بھی دفن کردیے جائیں تو سیکڑوں برس تک ختم نہیں ہوتے۔ صرف ایک موبائل فون کی بیٹری 6لاکھ لیٹر پانی کو آلودہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک کمپیوٹر میں 3.8 پونڈ خطرناک قسم کا سیسہ، فاسفورس، کیڈمیم اور مرکری جیسی چیزیں ہوتی ہیں، جو جلائے جانے پر سیدھے فضا میں تحلیل ہوجاتی ہیں اور اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
الیکٹرانک سامان بنانے والی کمپنیاں اپنے صارفین سے خراب اور ناقابل استعمال سامان کو واپس لینے کی زحمت نہیں اٹھاتیں، کیوں کہ اس میں صرفہ بہت زیادہ آتا ہے اور حکومتوں کی جانب سے بھی انہیں اس کے لیے ضروری قرار نہیں دیا گیا ہے۔اسی طرح صارفین بھی ان نقصانات کے تئیں بیدار نہیں ہیں کہ خراب تھرمامیٹر سے لے کر سی ایف ایل بلب اور موبائل فون وغیرہ یوں ہی کباڑ میں پھینک دیتے ہیں، انہیں ان کے خطرناک اور شدید نقصانات کا اندازہ نہیں ہے۔ای۔کچرے سے پیدا خدشات کا سدباب ضروری ہوگیا ہے۔
ہندوستان، پاکستان اور چین جیسے ایشیائی ممالک ای۔کچرے کی بڑھتی درآمدات سے پریشان ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیا میں ماحولیاتی تنظیمیں اس کے سنگین خطرات کو اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی محسوس کررہی ہیں۔ ای۔کچرے کی درآمدات پر پابندی لگانے کے لیے 1989میں بنے قانون کو نظرانداز کرکے اس کی درآمد جاری بتائی جاتی ہے۔ امریکہ، جاپان، چین اور تائیوان جیسے ممالک تکنیکی سامان فیکس، موبائل، فوٹوکاپیئر، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹی وی، بیٹریاں، کنڈنسر، مائیکروچپس، سی ڈی اور فلاپی وغیرہ خراب ہوتے ہی انہیں یہ جنوب مشرقی ایشیا کے جن ممالک میں ٹھکانے لگاتے ہیں، ان میں ہندوستان کا نام سب سے اوپر ہے۔
جو قارئین اخبارات پابندی سے پڑھتے ہیں، انہیں یاد ہوگا کہ گزشتہ برسوں میں اس کباڑ میں آگ لگنے اور سیلنڈر پھٹنے جیسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ خاص طور پر اقتصادی راجدھانی ممبئی اور راجدھانی دہلی میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اس لیے کہ دوسرے کئی ملکوں کی طرح ہندوستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عورتیں، مرد اور بچے الیکٹرانک کچرے کو نمٹانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کچرے کو آگ میں جلاکر اس میں سے ضروری دھات نکالی جاتی ہے، اسے جلانے کے دوران زہریلا دھواں نکلتا ہے، جو کہ بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ ہندوستان میں راجدھانی دہلی اور بنگلور ای۔کچرے کو نمٹانے والے اہم مراکز ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر الیکٹرانک انقلاب سے جہاں ایک طرف یہ سامان عام آدمی کی زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے، وہیں دوسری طرف الیکٹرانک کچرے سے پیدا ہونے والے خطرے نے پورے جنوبی ایشیا، علی الخصوص ہندوستان کی پریشانیوں میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ماحولیات کے خطرات اپنی جگہ دیگر خطرناک اور پیچیدہ امراض کا بھی ہندوستان مسکن بنتا جارہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2004میں ای۔کچرا ایک لاکھ 46ہزار 800ٹن تھا، جو 2012 میں بڑھ کر تقریباً آٹھ لاکھ ٹن ہوگیا اور اب اگرچہ اعدادوشمار دستیاب نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ اس سے دوگنا تو ہو ہی گیا ہوگا، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی طرف اگر خصوصی توجہ نہیں دی گئی تو اس کے خطرناک نتائج سے بچنا ایک مشکل ترین امر ہوگا۔ ہندوستان میں ٹیکنالوجی کا مسکن بنگلور ہے، یہاں گزشتہ دہائی میں تقریباً 1700آئی ٹی کمپنیاں کام کررہی تھیں اور ان سے ہر سال6ہزار سے 8ہزر ٹن ای۔کچرا نکل رہا تھا، اس سے نہ صرف ماحولیات کو خطرہ ہے، بلکہ زیرزمین پانی کے ذخائر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سافٹ ویئرٹیکنالوجی پارک آف انڈیا(ایس ٹی پی آئی) کے اس وقت کے ڈائریکٹر جے پارتھ سارتھی کے مطابق بڑی مقدار میں نکلنے والے ای۔کچرے کو صحیح طریقے سے نمٹانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جب تک اس کو بہتر طریقہ پر نمٹانے کے طریقوں پر غور نہیں کیا جاتا، وہ پانی اور ہوا میں زہر پھیلاتے رہیں گے۔ ملک میں نکلنے والا ہزاروں ٹن کچرا کباڑی خرید رہے ہیں، ان کے پاس اس طرح کے کچرے کو خریدنے کا نہ سرٹیفکیٹ ہے اور نہ انہوں نے اس کی اجازت ہی حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی سائنٹفک طریقے پر اس کچرے کو نمٹانے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ای کچرے کو سائنٹفک طریقے پر نمٹانے کے لیے لائسنس والے کباڑی شاذونادر ہی نظر آئیں گے۔
بین الاقوامی سطح پر ای۔کچرے کے نقصانات سے بچنے یا اس کے ازالے کے لیے کئی قانون بنائے گئے ہیں۔ چین نے اپنے یہاں ای۔کچرے کی درآمدات پر پابندی لگارکھی ہے، ہانگ کانگ میں بیٹریاں اور دیگر آلات درآمد نہیں کیے جاتے۔ جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان نے یہ قوانین بنارکھے ہیں کہ جو کمپنیاں الیکٹرانک سامان اور آلات بناتی ہیں، وہ اپنی سالانہ پیداوار کے 75فیصد سامان اور آلات کی ری سائیکلنگ کرتی ہیں۔ ہندوستان میں ابھی ری سائیکلنگ کے قومی سطح پر کوئی انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کمپیوٹر کے چلن اور دوسرے الیکٹرانک سامان اور آلات کی تعداد بے تحاشہ بڑھنے سے اب ای کچرے کو نمٹانے اور اس کی ری سائیکلنگ کے لیے سخت قوانین بنانا عوامی مفاد کے لیے ضروری ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں تمل ناڈو آلودگی کنٹرول بورڈ نے الیکٹرانک ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کو ای۔کچرے کو مناسب طریقے سے نمٹانے کی ہدایت دی ہے، لیکن اس پر پوری طرح عمل نہیں ہوپارہا ہے۔ انڈو۔جرمن سوئزای۔ ویسٹ کمپنی کے تعاون سے بنگلور میں کام کررہی ایک تنظیم ای۔ویسٹ ایجنسی ای۔کچرے کو نمٹانے کے لیے حکومتی سطح پر کوشش کررہی ہے۔ اگر وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ہمارے ملک میں بھی اس کے خطرات سے بچنا آسان ہوجائے گا۔