Home خاص کالم ایک مضمون ہم سب کے لیے

ایک مضمون ہم سب کے لیے

by قندیل

سید محمد سلمان فلاحی

آج کے اس دور میں ہم میں سے اکثر لوگ شخصیتی بحران(Identity crises) کے شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ محفلوں میں بھی تنہائی محسوس کرتے ہیں اور اپنے اندر حوصلے اور اعتماد کی کمی پاتے ہیں اس کی بڑی وجہ حوصلہ افزائی کی کمی ہے
آج ہم میں سے اکثر لوگ آپس میں طنز تو بہت کرتے ہیں  لیکن حوصلہ افزائی بہت کم اسی طرح چاپلوسی اور بے جا تعریف تو بہت کرتے ہیں لیکن صحیح رہنمائی بہت کم
کس قدر کنجوس ہو گئے ہیں ہم لوگ کہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہمارے پاس الفاظ ہی نہیں، وقت ہی نہیں، اور سب سے بڑی چیز جذبہ ہی نہیں حالانکہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ہم سب کو اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمیں کوئی سراہے، ہمارے حوصلے کو بڑھائے، ہمارے جذبے کو ہماری ہمت کو Boost up کرے اسے انرجی دے اسے صحیح سمت دے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہم اس پار کھڑے ہیں تو ہم ہی اُس پار بھی ہیں ہمیں اگر کسی کے حوصلوں کی ضرورت ہے تو کسی کو ہمارے حوصلوں کی بھی ضرورت ہے ہمیں اس مثبت سوچ کو بیدار کرنا ہوگا پروان چڑھانا ہوگا کہ ہم لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں اور اس منفی سوچ سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا کہ حوصلہ افزائی کرنے سے ہماری عزت و اہمیت پے حرف آئے گا……..
اقبال کے اس مصرعہ کی  معنویت کو بھی ہمیں سمجھنا ہوگا
*جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں…………*

اور یہ کہنے والے نے بھی کیا خوب کہا ہے
Be an encourager, the world has plenty of critics already.
اور یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ جس طرح زبان کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے اسی طرح حوصلہ افزائی اور میٹھے الفاظ کا احساس بھی صدیوں رہتا ہے اور حوصلہ افزائی کرنے والے کو دل دل سے سلام کرتا ہے

     دوسری بات جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ ہمیں انفرادی طور پر اپنے آپ کو اتنا مضبوط کرنا چاہیے کہ ہمیں دوسروں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہی نہ پڑے ہم اپنی رفتار، اپنی سمت خود ہی متعین کریں
*اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی……* کے مصداق بنیں
اقبال کے اس شعر کی گہرائی کو سمجھیں
*پھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میں………. یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو*
ہمارے اندر وہ جذبہ ہونا چاہیے جو کسی باہری حوصلے کا محتاج نہ ہو ہم اپنے زخم خود ہی بھریں اور اپنی انرجی خود ہی بنیں اور اس فلسفے کو بھی سمجھیں کہ انسان زمین پر گرتا ہے تو زمین کا ہی سہارا لے کر اٹھتا ہے

     مختصر یہ کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی اگر ان دونوں پہلوؤں کو سمیٹ لے کہ ہم انفرادی طور پر اپنی فکر اور اپنے مقصد میں کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی کے محتاج نہ ہوں اور اجتماعی طور پر ہم اپنے اوپر اس ذمیداری کو عائد کرلیں کہ ہم اپنے متعلقین اور احباب کی صحیح رہنمائی کریں گے اور ضرور کریں گے تو ہم ایسے زندہ اور متحرک سماج کی تشکیل کر سکتے جو سسکتی اور کراہتی انسانیت کے درد کا مداوا بن سکے…

ریسرچ اسکالر،  دہلی یونیورسٹی

You may also like

Leave a Comment