ایک مشہورِزمانہ محقق کی رحلت

ابن الحسن عباسی
اسلامی تاریخ کے نابغۂ روزگار محقق ڈاکٹر فؤاد سیزگین کا ترکی میں30 جون 2018 کو انتقال ہوا، آج نماز ظہر کے بعد استنبول کی جامع مسجد سلیمانیہ میں ان کی نماز جنازہ اور اس کے بعد سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین ہوئی، ان کی عمر 94 سال تھی، وہ 24اکتوبر 1924 کو ترکی کے نواحی علاقے بطلس میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، پھر استنبول آئے اور جامعہ استنبول سے 1947 میں گریجویشن کیا، 1950 میں ایم اے عربی کیا اور اسی یونیورسٹی سے 1954 میں عربی زبان و ادبیات میں پی ایچ ڈی کر کے اس میں استاذ مقرر ہوئے۔
جامعہ استنبول میں اسلامی علوم اور عربی ادبیات کے پروفیسر کے طور پر ایک جرمن مستشرق ہیلمیٹ ریٹر کام کر رہے تھے، ڈاکٹر فواد نے ان ہی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیا اور انہوں نے ان کو علم و تحقیق کا ایک نیا رخ دیا،1960 میں فواد سزگین جرمنی گئے، فرینک فرٹ یونیورسٹی سے دوبارہ پی ایچ ڈی کی اور وہیں سائنسی علوم کی تاریخ کے استاذ مقرر ہوئے اور یہیں انہوں نے شاندار علمی اور تاریخی خدمات انجام دیں۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور یادگار کارنامہ ان کی کتاب "تاریخ التراث العربی” ہے، یہ بارہ جلدوں میں جرمن زبان میں لکھی گئی ہے، اسی کتاب پر ان کو 1979 میں پہلی بار سعودی حکومت نے اپنے سب سے بڑے "فیصل ایوارڈ” سے نوازا تھا۔
ان کا دوسرا بڑا کارنامہ جرمنی کی فرینک فرٹ یونیورسٹی میں اسلامی اور عربی علوم کے لیے ایک مستقل معہد اور ذیلی ادارے کا قیام ہے، 1982 میں انہوں نے اس شعبے کی بنیاد رکھی، اس کے لیے انہوں نے مختلف عرب ملکوں، تنظیموں اور دوستوں سے مالی تعاون کی درخواست کی، ان کی درخواست پر کئی ملکوں نے بھرپور تعاون کیا، خاص طور پر کویت نے اس ادارے کی تمام تعمیرات کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھائی اور کروڑوں کی رقم فراہم کی، اس ادارے کے کتب خانے میں دنیا بھر سے مخطوطات اور نادر اسلامی کتابوں کے مسودات کو جمع کرکے محفوظ کیا گیا، جن کی تعداد 25000سے زائد ہے، 300 اصل مخطوطات اور 7000 مخطوطات کی فوٹوکاپیاں ہیں، موضوعاتی فہرستیں تیار کر کے اس نادر ذخیرے سے استفادےکو آسان کر دیا گیا ہےـ
اس ادارے سے اسلامی تاریخ اور مختلف اسلامی علوم و فنون پر اشاعتی سلسلوں اور منشورات کو اگر جمع کیا جائے، تو اسکی جلدیں ہزار سے اوپر بنتی ہیں۔
جرمن یونیورسٹی میں ڈاکٹر فواد سیزگین کے قائم کردہ اس ذیلی ادارے نے اپنے مقالات، مضامین اور اپنی لیبارٹریوں کی ایجادات و تجربات سے یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ آج کی جدید ٹیکنالوجی کی بنیادوں میں مسلم سائنسدانوں،مسلمان ریاضی دانوں اور ماہرین کی علمی محنتوں کا بڑا حصہ ہے اور مغرب کے ماہرین نے اس علمی میراث سے استفادے کے باوجود اس کا کماحقہٗ اعتراف نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر فواد سیزگین نے 2010 میں استنبول یونیورسٹی میں اور 2013میں سلطان محمد فاتح یونیورسٹی میں علمی اور تحقیقی شعبوں کی بنیاد بھی رکھی اور ایک بانی کی حیثیت سے وہ ان شعبوں کی سرپرستی اور رہنمائی کرتے رہے۔
ڈاکٹر فواد سیزگین کو جرمن اور ترک حکومت نے بھی ان کے علمی کاموں کے اعتراف میں سب سے بڑے سرکاری ایوارڈ واعزاز سے نوازا،مختلف ملکوں کی کئی یونیورسٹیوں نے انہیں اعزازی ڈگریاں دیں۔
انہوں نے جرمنی ہی کی ایک مستشرق خاتون "اورسولا” سے شادی کی، جو زندگی بھر ان کے علمی کاموں میں ان کی معاون رہیں۔ڈاکٹر فواد کو ترکی،عربی،جرمنی ،انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور حاصل تھاـ
ڈاکٹر فواد سیزگین نے بہت مصروف زندگی گزاری، وہ 80 سال کی عمر میں بھی اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے مسلسل کام کرتے رہے، کہتے تھے: "50 سال زندگی کے اور مل جائیں، شاید تب میں اپنے منصوبوں کو مکمل کر سکوں”50 سال مزید تو انہیں نہیں مل سکے، وہ حیات مستعار کے کئی منصوبوں کو مکمل اور کئی کو نامکمل چھوڑ کر آج دفینۂ خاک ہوگئے، رہے نام اللہ کا!
اللہ ان کی مغفرت تمام کر دے اور ان کے اگلے مرحلے کی مشکل منزلوں کو آسان کر دے ـ