این ڈی اے کے اتحادی بھی بجٹ سے ناراض

ٹی ڈی پی نے پارپارلی کے اندراورباہراحتج​اج کیا
خصوصی پیکیج کی مانگ پرکیاہنگامہ،وعدہ پورانہ کرنے کالگایاالزام
نئی دہلی، 06 فروری(قندیل نیوز )
مودی حکومت نے 2019 لوک سبھا انتخابات سے پہلے اپناآخری بجٹ پیش کیاہے لیکن بجٹ سے اپوزیشن کے ساتھ مودی حکومت کی اتحادی پارٹیاں بھی خوش نہیں ہیں ۔ اپوزیشن پارٹیاں توبجٹ کوبیکاربتارہی ہیں۔وہیں تیلگو دیشم پارٹی بھی بجٹ کولے کرمودی حکومت سے ناراض ہے۔ منگل کو ٹی ڈی پی نے پارلیمنٹ کے باہر واقع گاندھی مجسمہ پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ منگل کوپارلیمنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی تیلگو دیشم پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر مظاہرہ کیااور نعرے لگائے۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے یہ دعوی کیا ہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے وقت ریاست سے جو وعدے کئے گئے تھے ،وہ پورے نہیں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے دوران آندھرا پردیش کی تقسیم کے باعث ہوئے نقصانات کی بھرپائی کیلئے جس پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے وہ ابھی تک نہیں ملا ہے اور بجٹ میں بھی اس معاملے میں انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ٹی ڈی پی ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں بھیاس مسئلے کو زوردارطریقے سے اٹھایا اور پارلیمنٹ کی کاروائی شروع ہوتے ہی ان کے احتجاج کے باعث کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ تیلگو دیشم پارٹی ویسے تو این ڈی اے میں ہے لیکن بی جے پی کے ساتھ اس کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے جارہے ہیں اور یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی سے ناطہ توڑلے گی۔
دوسری طرف ترنمول کانگریس نے بھی منگل کو پارلیمنٹ کے گاندھی مجسمے کے سامنے بجٹ کے خلاف ایک زبردست احتجاج کیا۔ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے ہاتھوں میں جو پوسٹرلے رکھے تھے اس میں کہاگیا تھا کہ کیسے مسلسل خام تیل کی قیمتوں کے کم ہونے کے باوجود حکومت اس کافائدہ عام لوگوں تک نہیں پہنچارہی ہے، پیٹرول اور ڈیزل سستے ہونے کے بجائے مہنگے ہی ہوتے جارہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے پہلے ہی کہا ہے کہ یہ بجٹ عام لوگوں کے خلاف ہے۔ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے یہ بھی الزام لگایاکہ اسکولی بچوں کوفری میں ملنے والے مڈڈے۔میل میں بجٹ کم کردیاگیاہے جبکہ ترنمول کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ کو بڑھایا جائے۔ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمان نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلہ کو اٹھائیں گے اور عوام کو بتائیں گے کہ حکومت تیل کاکھیل کس طرح کر رہی ہے۔ایم پی سردپ بندوپادھیائے نے کہا کہ اگر یہ اچھے دن ہیں، تو لوگوں کو اس طرح کے اچھے دن نہیں چاہئے۔