این آئی اے کی جانب سے سیل کئے گھر کو حاصل کرنے کے لیے جمعیۃ علماء کاسپریم کورٹ سے رجوع

ملزم کے اہل خانہ سڑکوں پر زندگی گذارنے پر مجبور
ممبئی:16؍فروری ( قندیل نیوز)
مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ کی جیل میں مقید دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ایک ملزم کے گھر کو این آئی اے نے سیل کردیا ہے جس کی وجہ سے گذشتہ تین سالوں سے ملزم کے اہل خانہ سڑکوں پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جس کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی ہے جس پر سماعت مارچ کے پہلے ہفتہ میں متوقع ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے نے اخبار نویسوں کو دی ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ استغاثہ کے مطابق ۲؍ اکتبور ۲۰۱۴ ء کو مغربی بنگال کے شہر بردوان کے کھاگرا گڑھ نامی علاقے میں واقع ایک گھر میں بم سازی کرتے وقت بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد پولس نے اس گھر کی دو خواتین سمیت دیگر ملزمین کو گرفتار کیا تھا ، حالانکہ خواتین اور دیگر ملزمین کا کہنا ہیکہ بم دھماکہ نہیں ہوا تھا بلکہ گیس سلنڈر پھٹا تھا لیکن این آئی اے نے انہیں دہشت گردانہ معاملات کے تحت ملزم بنا کر پیش کیا ہے ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم ریجاؤل کریم عبدالطیف کے گھر کو قومی تفتیشی ایجنسی نے سیل کردیا ہے جس کی وجہ سے اس کے والدین اور دیگر اہل خانہ سڑکوں پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جس کے خلاف سب سے پہلے کولکاتہ سیشن عدالت سے رجوع کیا گیا تھا لیکن سیشن عدالت نے گھر کاقبضہ ملزم کے اہل خانہ کودینے سے انکارکردیا تھا ، سیشن عدالت کے فیصلہ کو کولکاتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا لیکن وہاں بھی ملزم کو مایوسی ہاتھ لگی جس کے بعد جمعیۃ علماء کے توسط سے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے تیار کیا ہے اور وہ خود عدالت میں بحث کریں گے ۔ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عرضداشت داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اب جبکہ اس معاملے کی تفتیش تقریباً مکمل ہوچکی ہے ملزم کے گھر سے جو حاصل کرنا تھا تحقیقاتی دستہ حاصل کرچکا ہے ملزم کے گھر کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردینا چاہئے کیونکہ گھر ملزم کے نام پر نہیں ہے بلکہ وہ وہاں اس کے والدین کے ساتھ رہتا تھا ۔ ایڈوکیٹ اگروال نے عرضداشت میں تحریر کیا ہیکہ این آئی اے کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہیکہ وہ ملزم کے والدین کے گھر کو سیل کردے لہذا عدالت کو چاہئے کہ وہ این آئی اے کو حکم دے کہ وہ فوراً ملزم کے والدین کے گھر کی سیل کو کھول کر اسے اس کے اہل خانہ کے حوالے کرے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں ابتک ۲۶؍ ملزمین کو گرفتار کیاجاچکا ہے جن کی پیروی کے لیئے جمعیۃ علماء نے سینئر ایڈوکیٹ شاہدامام کی سربراہی میں ایک وکلاء کی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ایڈوکیٹ ابو سلیم، ایڈوکیٹ فضل احمد، ایڈوکیٹ شاہجان، ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان و دیگر وکلاء شامل ہیں نیز عدالت میں ابتک ۹؍ سرکاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں ۔