ایم جے اکبر:لوآپ اپنے دام میں صیادآگیا!

عبدالعزیز
ایم جے اکبر کو انگریزی کا بڑا صحافی سمجھا جاتا ہے اور ہیں بھی، کلکتہ سے ان کا عروج ہوا، بنگلہ روزنامہ ’’آنند بازار پتریکا‘‘ نے انگریزی ہفت روزہ ’’ سنڈے‘‘ کا انھیں ایڈیٹر بنایا ،پھر اپنے روزنامہ ’’دی ٹیلیگراف‘‘ کی ادارت کے فرائض انھیں سونپے، یہ ایم جے اکبرکے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات تھی، انھوں نے ایک بڑے ادارے کی امیدوں کو پورا کیا، ڈیلی ٹیلیگراف کو اونچائیوں تک پہنچایا، ’’ایشین ایج‘‘کے بھی ایڈیٹر ہوئے، کئی اور اخباروں اور رسائل کی ادارت بھی انھیں سونپی گئی،انھوں نے کئی معرکۃ الآرا کتابیں بھی لکھیں، جن کی شہرت بھی ہوئی، خاص طور سے جواہر لعل نہرو پر ان کی کتاب کو کافی مقبولیت و شہرت ملی۔
اکبر نے اپنی ترقی پسندی کا خوب خوب مظاہرہ کیا،اس کے لیے انھوں نے مسلمانوں پر بھی طنز کے تیر برسائے، آر ایس ایس کی فرقہ پرستی کو اجاگر کرتے کرتے جماعت اسلامی ہند کو بھی بیلنس کرنے کے لیے خوامخواہ مورد الزام ٹھہرایا، جس کی وجہ سے انھیں خوب داد و تحسین ملی، راجیو گاندھی سے دوستی ہوگئی، انھیں راجیو گاندھی نے لوک سبھا کاٹکٹ دے کر اور جتاکر اور مسلمانوں کے بہت مقبول اور مشہور لیڈر سید شہاب الدین کو ہراکر ٹھنڈی سانس لی،ایک عرصے کے بعد پہلے اکبر کانگریس سے ناراض و ناخوش رہے، اسے برا بھلا بھی کہنے لگے ،پھر بی جے پی کے پرستار بن گئے اور آخر کار مودی جی کے چرنوں میں نہ جانے کیوں پناہ لینے پرمجبور ہوئے ،جبکہ وہ بہت بڑے صحافی تھے، یہی مقام و مرتبہ کافی تھا، آر ایس ایس اور بی جے پی کے فلسفۂ ہندوتو کو قبول کرنے کے بعد ان کی مقبولیت دھیرے دھیرے ختم ہونے لگی ؛کیونکہ انھوں نے جو کچھ لکھا اور کہا تھا، اسے قے کرنے لگے اور وہ بھول بھی گئے کہ کبھی وہ ترقی پسند تھے، پورے طور پر زعفرانی رنگ میں رنگ گئے، شاید وہ راجیہ سبھا کی ممبری اور پھر وزارت کے خواہاں تھے، ان کی منشا بھی مودی جی نے پوری کر دی۔
مگر گزشتہ روز سے پھراکبر کا ستارہ گردش میں ہے، کل ایک لڑکی پریہ رومانی جو’ ’انڈیا ٹوڈے‘‘ میں کام کرتی تھی، اس نے ایم جے اکبر کے بارے میں بیان دیا کہ کس طرح اکبر نے اسے ہوٹل کے ایک کمرے میں بلایا، اس وقت وہ 43؍سال کے تھے اور وہ 23؍ سال کی تھی، اسے شراب کا پیالہ پیش کیا، بستر پر بٹھایا اور قریب کرنے کی کوشش کی ،جبکہ انٹرویوکے لیے بلایا تھا، انٹرویو کم ،دیگر چیزیں زیادہ ہوئیں، پرانی ہندی فلم کا گیت سنایا، رومانی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ اس نے پہلے اکبر کا نام لیے بغیر یہ سب لکھا تھا، مگر اب وہ ان کا نام لینے پر مجبور ہے کہ انھوں نے بہت سی لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا ہے اور مجھ سے کہیں زیادہ بدتر سلوک کا مظاہرہ کیاہے؛اس لیے میں ان کا نام لینے پر مجبور ہوں؛ تاکہ دوسروں کو بھی اپنی زبان کھولنے کی ہمت ہو۔
آج ایک انگریزی روزنامہ نے ایسی چھ اور لڑکیوں کی کہانی پیش کی ہے، کانیکا گہلوت، سپریہ شرما، شوما راہا، سیراما سنگھ بندرا، شوتاپا پال جیسی خاتون صحافیوں نے کھل کر اکبر کی برہنہ گوئی اور جنسی استحصال کا ذکر کیا ہے، مینکا گاندھی کے سوا بی جے پی کے کسی لیڈر نے اپنی چپی نہیں توڑی، مینکا گاندھی نے معاملے کی انکوائری کی بات کہی ہے ، بی جے پی ترجمان سمبت پاترا ،جو بہت بولتے ہیں ،اس معاملے میں انھیں شاید چپ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی نامہ نگاروں کے سوالوں کا اس سلسلے میں کوئی جواب نہیں دیا، مودی جی اور دیگر بی جے پی لیڈران خاموش ہیں، ایم جے اکبر نائیجریا کے دورے پر ہیں، انھوں نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیاہے۔
’’می ٹو‘‘ (Me Too) مہم جو امریکہ کی ایجاد ہے، اس تحریک سے سب لڑکیوں یا عورتوں میں اپنے جنسی استحصال کا حال کھل کر بولنے یا اظہار کرنے کا جذبہ بیدار ہوا ہے،کل سے سوشل میڈیا پر ایم جے اکبر کے خلاف مہم زوروں پر ہے، بی جے پی کے اندر سے جو بات چھن کر باہر آئی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ ایم جے اکبر پر منحصر ہے کہ وہ الزام تراشیوں کا جواب دیتے ہیں یانہیں دیتے ہیں، اپوزیشن کی طرف سے آواز اٹھائی جارہی ہے، خاص طور سے کانگریس کی طرف سے کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا ہے کہ معاملہ بہت سنگین ہے،خاموش رہنے سے کام نہیں چلے گا، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کواس معاملے پر اپنی خاموشی توڑنی ہوگی،’ ’ایڈیٹرس گلڈ‘‘ نے ایم جے اکبر کا نام تو نہیں لیا، مگر روئے سخن انہی کی طرف کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’ایسے لوگ، جو نیوز روم میں لڑکیوں کا شکار کرتے ہیں اور ذمے دارانہ عہدوں پر ہیں ،ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہے‘‘۔ گلڈ نے میڈیا سے گزارش کی ہے کہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے رپورٹنگ ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق مجرم کو سزا ملنی چاہیے؛ تاکہ دوسروں کو ایسی غلطی اور نازیبا حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو، غلط سوسائٹی یا آزاد سوسائٹی میں اس طرح کی وارداتیں اگر ہوتی ہیں، تو اسے معمول کے خلاف نہیں کہنا چاہیے، مگر موجودہ نظام میں ایک طرف ضرورت سے زیادہ آزادی دی جارہی ہے اور دوسری طرف ان سے کہا جارہا ہے کہ احتیاط کرو، یہ بس ایسا ہی ہے جیسے شراب کی بوتل یا سگریٹ کے پاکٹ پر لکھا جارہا ہے کہ ’’شراب یا سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘ جبکہ دوسری طرف حکومت لائسنس بھی دے رہی ہے اور ان کے اشتہارات بھی خوب دیے جارہے ہیں؛ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کی طرف یعنی خرابی کی طرف مائل ہوں۔
اکبر جیسے لوگ عورتوں کی آزادی، برابری اور عزت و وقار کی آواز ضرورت سے زیادہ اٹھاتے ہیں؛ تاکہ ان کو اس طرح کی سہولتیں میسر ہوں اور آسانی سے ہوٹل کے کمرے میں اپنی ہوس مٹاسکیں، خاتون صحافیوں سے بھی سوال کیا جاسکتا ہے کہ ہوٹل کے کمرے میں جب کوئی مرد تنہا بلا رہا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ کیا وہ سمجھنے سے قاصر ہیں؟ وہ بھی صحافی ہیں، جن کی نظر اور حس زیادہ تیز ہوتی ہے، یقیناًاکبر قصور وار ہیں ؛کیونکہ وہ ایک ذمے دار تھے اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہے تھے، مگر ان صحافی خواتین کے بارے میں بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ معصوم اور بے قصور ہیں، ان کو جو بے دریغ آزادی ان کے گھر والوں نے دی ہے اور اس کی وہ خواہشمند بھی ہیں ،تو پھر آگ اور سوکھی گھاس کو ایک ساتھ رکھنے کے بعد واویلا مچانے کی کیالاجک ہے؟ایسے لوگوں کو موجودہ مغرب سے درآمدکردہ سماجی و تہذیبی نظام کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے کہ یہ لڑکے اور لڑکیوں یا مردو خواتین کو کہاں لے جارہا ہے؟
ایم جے اکبر کے خلاف بی جے پی میں بھی ایسے لوگ ہوں گے ،جو ان کی مادی ترقی کو ناپسند کرتے ہوں گے، وہ یقیناًآواز اٹھائیں گے؛ لیکن معاملہ نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے، اگر ایم جے اکبر مودی جی کے بہت قریب ہوگئے ہوں گے، تو شاید اس طوفان سے بچ جائیں ؛لیکن اگرقربت گہری نہیں ہوگی ،تو مودی جی ان کو باہر کا راستہ دکھانے میں دیر نہیں لگائیں گے، وہ ان کی واپسی کا انتظار کر رہے ہوں گے، ایم جے اکبر کے دنیوی کیریئر کا یہ انت بھی ہوسکتاہے؛ کیونکہ ان پر شاید ہی اب کوئی اعتماد اور بھروسہ کرے گا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*