ایران میں کچھ دن:سفرنامہ یاجھلک؟


نام کتاب: ایران میں کچھ دن
مصنف: محمد علم اللہ
صفحات:128
قیمت: 120روپے
ناشر:فاروس میڈیا اینڈپبلشنگ پرائیویٹ لمیٹیڈ،ڈی۔84،ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر،نئی دہلی 25
فون نمبر:011-26947483
مبصر: شکیل رشید (ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز)
محمدعلم اللہ کے سفرنامۂ ایران’’ایران میں کچھ دن‘‘نے مایوس نہیں کیا؛لیکن اپنے پیچھے ایک سوال ضرورچھوڑگیاکہ کیا یہ واقعی’ ’سفرنامہ‘‘ہے؟
اس سوال کے جواب سے پہلے محمد علم اللہ کاتعارف ضروری ہے۔کتاب کے بیک کورکی تحریر پڑھ کرچند باتیں سامنے آتی ہیں،ایک تویہ کہ مصنف کاتعلق رانچی،جھارکھنڈسے ہے،دوسرا یہ کہ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ وثقافت میں گریجویشن اورماس کمیونیکیشن اینڈجرنلزم میں ایم اے کیا ہے اورکئی روزنامو ں سے جڑے رہے ہیں،نامہ نگاری کی ہے،فیچر رائٹنگ،کالم نگاری اورترجمے کیے ہیں،ای ٹی وی اردوپر بھی ایک سال رہے اورڈاکیو مینٹری فلم بھی بنائی ہے، نیز سفرنامے لکھے ہیں اورکبھی کبھار کہانیاں بھی لکھی ہیں۔اس بات کابھی پتہ چلتا ہے کہ وہ’’آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت:ایک مختصرتاریخ‘‘کے مصنف ہیں اورفی الحال جامعہ ملیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طورپرکام کر رہے ہیں؛لیکن یہ محمد علم اللہ کاادھورا تعارف ہے۔محمد علم اللہ میرے اپنے خیال میں ایک ایسے نوجوان قلم کارہیں،جو اپنے بطن میں سماج کی اندھی روایات،فرسودہ نظام،اندھی تقلید،فضول احترام اورمذہبی شدت پسندی کے خلاف شدید ترین غصہ پالے ہوئے ہیں اورگاہے بگاہے اسے اپنی تحریروں کے ذریعے باہر نکالتے رہتے ہیں،(اپنی اس کتاب میں بھی انہوں نے کئی جگہ غصہ نکالاہے)اوراس عمل میں وہ نہ توسوچتے ہیں اورنہ ہی پروا کرتے ہیں کہ ان کی تحریروں میں جو’’کاٹ‘‘ہے، اس کے اثرات سماج،ملت اورقوم پر منفی پڑیں گے یامثبت۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے اپنے بہت سے مداح پیدا کیے ہیں؛ لیکن شاید اسی قدر دشمن بھی ،بالخصوص مذہبی حلقوں میں۔
اب بات ایران کے’’سفرنامے‘‘کی کرتے ہیں۔سفر نامہ ایک عجیب وغریب صنف ہے کہ اس میں دوسرے سارے اصناف سمائے ہوئے ہیں۔ داستان، کہانی،ناول،آپ بیتی،جگ بیتی کے ساتھ تنقید،تبصرہ اورتحقیق،سب کچھ؛لیکن ایک اچھا سفرنامہ وہی ہوتا ہے، جو ان سارے اصناف کو اپنے اندرسموئے ہونے کے باوجود اپنی ہیئت میں’’سفرنامہ‘‘ہی ہو، نہ کہانی،نہ ہی ناول اورنہ ہی آپ بیتی یا جگ بیتی اورنہ ہی اس میں تنقید،تبصرے اوررائے کا’’جبر‘‘پایا جاتا ہو،تحقیق بھی ایسی ہوکہ قبول کی جاسکے۔مصنف نے اس سفرنامے کو فکشن نہیں بننے دیا ہے، نہ ہی تحقیق سے بوجھل کیاہے۔’’سفرنامے‘‘کی ایک خوبی ’’منظرکشی‘‘بھی ہوتی ہے،ایسی منظرکشی کہ سارا لینڈاسکیپ اپنی خوشبوؤں اوراپنی سڑانڈ کے ساتھ قاری محسوس کرسکے۔محمد علم اللہ کا یہ’’سفرنامہ‘‘ ہمیں ’’معلومات‘‘اور’’علم‘‘تودیتا ہے؛ لیکن ایران کے شب وروز کو قاری کی نظروں کے سامنے اس طرح پیش نہیں کرپاتاکہ اس کی تاریکی،چاندنی،اس کی فضاؤں کی خوشبو،کھانو ں کی لذت اوراس کی عمارتوں کا حسن سامنے آسکے،قاری وہاں کی خوشبو اورسڑانڈ کو محسوس کر سکے۔محمد علم اللہ جب مسجدجمکر ان کاذکر کرتے ہیں، تو دل کرتاہے کہ مسجدکانقشہ نظروں کے سامنے پھر جائے ؛لیکن محمد علم اللہ صرف اتنا لکھ کر:’’دور سے ہی مسجدجمکران کی سبز،سرخ اورسنہری روشنیاں،ہلکی پھوارکے ساتھ بارش اورخاموشی مسافروں کو اپنی جانب کھینچ رہی تھیں،رات گئے جب ہم اپنی رہائش گاہ پہنچے،تواس منظرکو قریب سے دیکھنے کے لیے بے قرار ہوگئے…..مسجدکافی طویل وعریض اورخوبصورت تھی، جس سے ایرانیوں کے محض ذوقِ تعمیر کے حسن کااندازہ ہی نہیں ہوتا؛ بلکہ ان کی خطاطی،آرٹ اورفن کاری کے نادرنمونے بھی یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں‘‘رہ جاتے ہیں۔مسجدجمکر ان کاحسن سامنے آنہیں پاتا۔نہ جانے کیوں محمد علم اللہ نے اپنے قلم کو حسن کی تفصیل تحریر کرنے سے روکے رکھا۔تہران اورمشہد اورقم کی خوبصورتی کو بھی وہ نظرانداز کرگئے، بات سرسری انداز میں کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔مثلاًمشہدکے ذکر میں امام رضا کے مزارکاذکرتے ہوئے صرف اتنا لکھتے ہیں کہ:’’حرم کارقبہ کافی وسیع ہے،یہاں اندراورباہر چاروں طرف انسانوں کاہجوم تھا،اندرفضا میں بھینی بھینی خوشبوپھیلی ہوئی تھی،اندربڑے بڑے فانوس لگے تھے ،جوآنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے،انتہائی تیز برقی طاقت کے ہزاروں قمقموں سے پورا مزاربقعۂ نوربنا ہواتھا۔جدید طرز اورخوبصورت ترین قندیلوں اورفانوسوں میں برقی قمقمے عجب بارشِ انوار کر رہے تھے۔‘‘انہوں نے مزارکے باہر کی منظرکشی توکی ہے اورمنظر کو دیکھنے کے بعداپنے اس احساس کابھی ذکرکیا ہے:’’درگاہ نظام الدین اوردرگاہ معین الدین چشتی کاپورا منظرنظروں کے سامنے پھرگیا اوربے اختیارمیری زبان سے نکلا:’’اے اللہ!سیدھی راہ دکھا اوران لوگوں کے رستہ سے بچا، جن پر تیرا غضب نازل ہوا۔‘‘مگرمزار جیتی جاگتی شکل میں نظروں سے محو ہی رہتا ہے۔
البتہ یہ’’سفرنامہ‘‘منظرکشی کے فقدان اورایرانی ثقافت سے بے توجہی کے باوجودقاری کوتھکاتانہیں ہے۔قاری اکتاہٹ کاشکارنہیں ہوتا،وہ محمدعلم اللہ کی معلومات ،ایران کے تعلق سے ان کے علم ،ان کے تبصرے،ان کی تنقید اوران کی رائے۔جو کہیں کہیں جبرکاروپ دھارلیتی ہے۔کے سہارے کتاب کوپڑھے چلا جاتاہے۔اکتاہٹ کاشکارنہ ہونے کاایک سبب مصنف کی شگفتہ تحریر بھی ہے۔تحریر میں کاٹ ہے؛ لیکن کہیں بھی بوجھل نہیں ہونے پاتی۔ایران کاپندرہ روز کا یہ سفربقول مصنف:’’خالص علمی اورصحافتی نوعیت کاتھا،اس کا انتظام وانصرام معروف علمی وسماجی ادارہ’’موسسہ فرہنگی نسیم حیات معنوی‘‘ نے کیا تھا۔‘‘یہ سفرآسان نہیں تھا؛کیونکہ محمدعلم اللہ کے والدین انہیں ایران بھیجنے کے لیے ابتدامیں تیارنہیں تھے۔کیوں؟اس سوال کا جواب محمد علم اللہ کی ان چند سطروں سے مل جاتا ہے،صرف جواب ہی نہیں؛ بلکہ ان سطروں سے اس خوف کا بھی اندازہ کیاجاسکتا ہے، جس میں آج کے ہندوستانی مسلمان کچھ اس طرح سے مبتلا ہیں کہ ان کے دل اپنے بچوں کے مسلم ملکوں کے سفرپردھڑکنے لگتے ہیں:’’داعش اوراس طرح کی دہشت گردتنظیموں کانام لے کرملک میں چند سالوں سے دھڑپکڑکاجوماحول پیدا ہوا ہے،ایسے میں بڑوں کا تشویش میں مبتلا ہونا اوراپنے عزیزوں کو کسی بھی ناگہانی حادثے میں پھنسا دیے جانے کااندیشہ پیدا ہونا فطری بات ہے اورجب بات مسلم ممالک خصوصاً ایران،شام اورفلسطین وغیرہ کی ہو،تولوگ اوربھی محتاط ہوجاتے ہیں،اس کی کئی وجوہ ہیں،ایک تومغربی میڈیا نے مسلم ممالک کے تعلق سے اس قسم کے فرضی پروپیگنڈہ کو فروغ دیا ہے کہ حق اورباطل کوپہچاننامشکل ہوگیاہے۔دوسرے ان مسلم ممالک کے حکام کاطرزِعمل بھی بہت اچھا نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے والدین کے علاو ہ جن احباب نے بھی سناکہ میں ایران جارہاہوں،توانہوں نے کوئی بہت زیادہ مثبت رویے کااظہارنہیں کیا۔‘‘یہاں علم اللہ نے ہندوستانی سرکارکاذکر بس ایک سطرمیں کیاہے،وہ بھی نام لیے بغیرکہ ’’ملک میں چندسالوں میں دھڑپکڑکاجوماحول پیدا ہوا ہے‘‘حالانکہ سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ آج مسلم ممالک جانے اوروہاں سے لوٹنے کامطلب ملک کے حکام کی نظروں میں’’مشتبہ‘‘بننا ہے اوریہ ہورہاہے۔
محمد علم اللہ کایہ سفرچونکہ’’علمی اورصحافتی نوعیت‘‘کاتھا؛اس لیے انہیں پندرہ روز تک مختلف موضوعات پرعلما اوردانشوران کی آرا،تبصرے اورلیکچرسننے کو ملے، انہوں نے ان لیکچروں کاخلاصہ انتہائی دلچسپ انداز میں کیاہے۔اپنے خلاصوں میں محمد علم اللہ نے مسلکی اختلافات سے لے کر مشرق اورمغرب کے نظریاتی اختلافات تک وہ سبھی باتیں خوبی کے ساتھ پیش کردی ہیں، جو لیکچروں میں سامنے آئیں اورانہیں پیش کرتے ہوئے اکثرجگہ’’جائز‘‘اوربعض جگہ ’’ناجائز‘‘ تبصرے کیے ہیں۔مثلاًآغائی حسینی کے لیکچر میں’’مادی دنیا‘‘اور’’روحانیت‘‘کے تذکرے پر محمد علم اللہ نے ایرانی مقرر کی بعض باتو ں سے اعتراض کیا ہے، مصنف کے بقول’’اگردنیا (یعنی مادیت)کوچھوڑدیا جائے، تواس کامطلب ہے کہ آدھادین چھوٹ گیا۔‘‘میرے خیال میں یہ اعتراض اس لیے جائز نہیں ہے کہ علماعام طور سے جس ’’مادیت‘‘یا’’دنیا داری‘‘کی بات کرتے ہیں ،وہ مغرب کی وہ’’مادیت‘‘یا’’دنیاداری‘‘ہوتی ہے ،جو انسان کو حیوان بنادیتی ہے اور’’روحانیت‘‘وہ عمل ہے، جو انسان کو حیوان بننے سے روکتا ہے۔اس ’’سفرنامہ‘‘میں مصنف نے ایران کی’’ترقی‘‘کی تعریف کی ہے اوربات ہے بھی تعریف کی کہ عراق سے جنگ اورمعاشی پابندیوں کے باوجودایران آج بہت سی صنعتوں میں خودکفیل ہے یہاں تک کہ جنگی آلات بھی بناتا ہے اورجدیدٹیکنالوجی کااستعمال کرکے مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں بھی ڈالتا ہے۔مصنف نے ایران کے تضادات کوبڑی کامیابی سے پیش کیا ہے،ایک جانب توجگہ جگہ دیواروں پر مرگ بر امریکہ(امریکہ مردہ باد)اورمرگ براسرائیل(اسرائیل مردہ باد)لکھے نظرآتے ہیں اوردوسر ی جانب ایران کے لوگ جینزپہنتے ہیں اورمغربی رنگ ؛بلکہ خالص امریکی رنگ میں رنگے بھی نظرآتے ہیں۔مصنف نے ایران کی خبررساں ایجنسیوں اورٹی وی چینلوں کے تعلق سے یہ دلچسپ مشاہدہ کیا ہے کہ’’ہندوستان سے متعلق مواد کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو تیارکرنے والے ایرانی یا ہندوستانی نہیں ؛بلکہ کوئی تیسرا ہے، جو ہندوستان کے مسائل کو توڑمروڑ کرپیش کرتا ہے۔‘‘
محمد علم اللہ نے ایران میں شیعہ سنی تنازعے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔وہ لکھتے ہیں:’’دوسرا لیکچرعقائد سے متعلق تھا،شیعہ سنی مسائل پر بھی جم کر بحث ہوئی اوراستاد نے نہایت پرلطف انداز میں تاریخی اورالٰہیاتی مسائل کو بیان کیا،اس دوران مجھے شدت سے محسو س ہوا کہ اگرہم آپس میں بیٹھ کر اسی طرح باوقار عالمانہ انداز میں گفتگو کریں اورایک دوسرے کااحترام ملحوظ ہو، توفرقہ واریت کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔‘‘ایک جگہ ان کے درد مندقلم سے یہ جملے بھی نکلتے ہیں:’’اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی جو حالت ہے،ایسے میں ضرورت اتحادکے امکانات کی تلاش کی ہے اورابلاغی اداروں کو بھی اس جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔‘‘کتاب میں کئی جگہ محمد علم اللہ نے مثبت انداز میں اتحاد کی باتیں کی ہیں۔
محمد علم اللہ نے’’آخری بات‘‘کے عنوان سے’’سفرنامے‘‘کااختتام کیا ہے،انہوں نے دوبارہ ایران جانے کی تمنا کی ہے؛ لیکن یہ سوچ کر غمگین بھی ہیں کہ آج تمام مسلم ممالک منظم سازش کی زد میں ہیں۔وہ سوال کرتے ہیں کہ’’جب اس ملک میں لوٹ کرآناہو،تو جس ایران کو میری آنکھیں دیکھیں گی، وہ آج کے ایران سے زیادہ ترقی یافتہ اورزیادہ خوبصورت اورپرامن ہوگا یاپھر صورت حال کوئی دوسری ہوگی؟خدا نہ کرے مگرحالات ایسے ہی ہیں‘‘۔وہ افسوس کااظہار کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں’’پتہ نہیں کب ایسا ہوگا کہ ہماری آپس کی دشمنیاں ختم ہوں گی اورکب وہ مبارک گھڑی آئے گی، جب پوری امت شیروشکر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر آکھڑی ہوگی،شیعہ کے لیے سنی سب سے بڑا دشمن ہے اورسنی کے لیے شیعہ سب سے بڑا حریف،ان میں سے کوئی بھی امریکہ وروس کادوست ہو سکتا ہے ،مگریہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے دوست نہیں ہو سکتے‘‘!وہ یہ تمنا کرتے ہیں کہ’ ’ہم ایک بارپھر سے ایک امت بن جائیں‘‘۔یہ کتاب محمد علم اللہ کی اس تمنا کو، اس خواب کوسچ ثابت کرنے کے لیے ضرورپڑھناچاہیے۔اس کتاب میں ایران کی روزمرہ کی زندگی کی جھلکیاں نظرنہیں آتیں،شاید اس لیے کہ محمد علم اللہ کو وہی چیزیں دکھائی گئیں ،جنہیں ایرانی حکام دکھاناچاہتے تھے۔عام لوگ کیسے زندگی گذارتے ہیں،سنی کس طرح رہتے ہیں،غریبوں کاکیا حال ہے،یہ سوال تشنہ رہ جاتے ہیں۔محمد علم اللہ نے ایک جگہ لکھا بھی ہے کہ درخواست کے باوجودسنی افراد سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔اسی لیے اس’’سفرنامہ‘‘میں ایران کی بس ایک جھلک نظرآتی ہے،وہی جھلک ،جو حکام دکھاناچاہتے تھے۔میں نے ابتدا میں سوال اٹھایاتھاکہ کیا یہ واقعی ’’سفرنامہ‘‘ہے؟میرے خیال میں یہ’’سفرنامہ‘‘سے کہیں زیادہ ایک’’رپورتاژ‘‘ہے۔اسے پڑھ کر ریشاردکاپوشنسکی کے ایران کے رپورتاژ’’شہنشاہ‘‘کی یاد آجاتی ہے۔اگر محمد علم اللہ نے اسے مزیدغوروفکرکے ساتھ کچھ’’کتربیونت‘‘کرکے بغیرکسی رائے یاتبصرے کے لکھا ہوتا،تویہ ایک شاندار رپورتاژمیں ڈھل سکتاتھا۔بہرحال محمد علم اللہ مبارکبادکے مستحق ہیں کہ اس ’’سفرنامے‘‘سے ایران کے تعلق سے بہت کچھ جاننے کوملتاہے۔فاروس میڈیا نے اسے بہت ہی شاندارانداز میں،اچھے کاغذ پر شائع کیا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*