اپنے بچوں کو سب سے پہلے اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کرائیں :مولانااشرف عباس

جامعہ رشیدالعلوم چترا میں منعقدسہ روزہ پروگرام برائے تدریب المعلمین کے اختتامی اجلاس سے متعدد علماء کاخطاب

چترا: وفاق المدارس الاسلامیہ کے زیر اہتمام منعقد سہ روزہ پروگرام برائے تدریب المعلمین کے موقع پر ’’عربی زبان و ادب کی تدریس‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا اشرف عباس قاسمی نے کہا کہ عربی زبان ہماری دینی ضرورت ہے اس کے بغیر ہماری شریعت نا مکمل ہے۔ تاہم زبانوں کا اختلاف اللہ تعالی کی جانب سے ہے اس لئے ہمیں کسی زبان سے گریز و پرہیز نہیں۔انہوں نے عربی زبان کی تدریس سے متعلق نہایت قیمتی اور معلومات افزا باتیں بتائیں نیز عملی طور پر تدریس کا طریقۂ کار بھی سکھلایا۔ مولانا اختر امام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منوروا شریف نے ’’فقہ و اصول فقہ کی تدریس‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے اہل علم اور ارباب فقہ کے سامنے اپنے تجربات پر مشتمل مفید و کارآمد باتیں رکھیں۔ جامعہ کے استاذ حدیث مفتی شعیب عالم قاسمی نے اپنے متعینہ موضوع ’’منطق و فلسفہ کی تدریس‘‘ کے تعلق سے گفتگوکرتے ہوئے جہاں اسکی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی وہیں اسکی اہمیت و ضرورت سے بھی روشناس کرایا۔ جامعہ کے مہتمم و شیخ الحدیث مفتی نذر توحید مظاہری نے ’’ترجمہ قرآن پاک کی تدریس ‘‘ کے حوالے سے اپنے طویل تدریسی تجربے کی بنیاد پر اہم ترین باتوں کی طرف اساتذۂ ترجمہ و تفسیر کی توجہ مبذول کرائی۔ ناظرہ و حفظ قرآن کے لئے مخصوص نشست میں مدرسہ حسینیہ ،رانچی کے معروف استاذ قاری محمد احسان ،جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذ قاری نظام الدین اور مدرسہ تجوید القرآن ،خیروا کے استاذ قاری محمد عباس کے علاوہ متعدد اساتذہ نے بھی اپنے تجربات کی روشنی میں رہنمائی کی۔
اختتامی نشست کا آغاز قاری محمد احسان کی تلاوت اور قاری محمد صہیب کی نعت سے ہوا۔ مولانا اشرف عباس نے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان دنیا میں جس سے محبت رکھتا ہے اس کا حشر اسی کے ساتھ ہونا ہے۔ چنانچہ علماء سے محبت رکھنے والے اور ان کے عزت و توقیر کا معاملہ کرنے والے اس جہان کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی کامیاب ہے۔ والدین کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو زمانے کے بہترین علوم سے ضرور آراستہ کریں مگر اس سے پہلے ہمارے اوپر لازم ہے ہم انہیں اسلام کے بنیادی عقائد سے واقف کرائیں۔ورنہ خدا نخواستہ آنے والے دنوں میں لا علمی کے سبب اگر وہ گمرہی کی طرف چلا جاتا ہے تو اس نقصان کا ذمہ دار صرف وہ بچہ نہیں بلکہ اس کا بوجھ اس کے والدین کے گردن پر بھی ہوگا۔ انہوں نے کسب حلال اور اکل حلال پر زور دیتے ہوئے مال حرام کی نحوست اور اس کی قباحت و شناعت بیان کر کے اس سے کلی طور پر بچنے کی ترغیب بھی دی۔ وفاق المدارس کے ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے جامعہ کے مہتمم ، اساتذہ، طلبہ و اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حسن انتظام پر جامعہ کے تمام متعلقین کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ادارے کی ترقیات کے لئے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں۔ انہوں نے اصلاح اعمال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کے بدلنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ اعمال کے بدلنے سے حالات تبدیل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالات سے مایوس ہونے کے بجائے اللہ پر یقین رکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ ہمیشہ مؤمنوں ہی کے ساتھ ہے مگر اس کی مدد اعمال کی بہتری کے ساتھ مشروط ہے۔وفاق کے صدر اور صاحب نسبت عالم دین مولانا قاسم مظفرپوری نے آیت قرآنی کے حوالے سے قرابت داروں کے حسن سلوک ، معاملات میں عدل، ہر ایک کے ساتھ بھلائی کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہوشیار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کا متفقہ ایجنڈا لوگوں کو بے حیا بنانا ہے اور اللہ کے ارشاد کے مطابق اس سے بدامنیاں اور بے چینیاں پھیلتی ہیں۔ اس لئے ہمارے اوپر لازم ہے کہ اس پر فتن دور میں ہم حیا کی تقاضوں کی مکمل پاسداری کریں ۔ انہوں نے اسلام کے امتیازات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام تمام انسانیت کی خیر خواہی کا مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کبھی کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ اس موقع پر المعہد العالی الاسلامی کے استاذ مولانا نورالحق رحمانی ،مولانا احمد (رانچی)، ڈاکٹر اقبال نیر(بالوماتھ)، مولانا فاروق قاسمی(گیا)، مولانا اسماعیل قاسمی (گیا)،مولانا اکبر قاسمی(چاکند)، مولانا زاہد حسامی (کوڈرما)، مفتی محمد یونس (ہزاریباغ)، مولانا عبید اللہ قاسمی (بھدیہ)،مفتی ثناء اللہ قاسمی (ہزاریباغ)وغیرہ نے بھی مختصر انداز میں اپنے خیالا ت کا اظہار کیا۔ اس بین المدارس اجتماع کااختتام پروگرام کے منتظم مفتی نذر توحید مظاہری کے کلمات تشکر اور صدر وفاق مولانا قاسم مظفر پوری کی دعا پر ہوا۔ اس میں جھارکھنڈ کے تقریبا تما م اضلاع کے علاوہ بہاراور چھتیس گڑھ کے دو سو سے زائد مدارس کے ذمہ داران ،اساتذہ و نمائندگان نے شرکت کی۔اجتماع کے تمام نشستوں کی نظامت کے فرائض احمدبن نذر نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا۔