ان مدارس کویونہی رہنے دو!

اظہارالحق قاسمی بستوی
استاذمدرسہ عربیہ قرآنیہ ،اٹاوہ
دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں ۵؍اکتوبر۲۰۱۸کو ایک مضمون نظرسے گزراجس کے لکھنے والے ایک ڈاکٹرمظفرحسین غزالی صاحب ہیں جو بظاہر چہرے مہرے سے توکوئی عالم یا عالم نمانہیں دِکھتے کہ چہرے پر سنت کے کوئی آثار نہیں۔خیر،موصوف کے مضمون کا عنوان ہے’دینی مدارس کا نظام اور نصاب تعلیم‘۔مضمون کیاہے واہیات و ہفوات کا ایک پلندہ ہے جس میں موصوف نے جی بھرکر مغلظات بکاہے اور دینی مدارس کے تئیں خوب بھڑاس نکالی ہے۔
سمجھ میں نہیں آتاکہ ایسے لوگ ڈاکٹر کیسے بن جاتے ہیں جو معمولی عقل و شعور سے بھی کورے ہوتے ہیں،جوان موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں جن کی ابجد سے بھی واقف نہیں رہتےاور پھر جوچاہتے ہیں بکتے ہیں۔مضمون میں تضادات کی بھرمار ہے۔خود ہی ایک بات لکھتے ہیں اور انہی کی دوسری بات سے اس کی تردید ہوجاتی ہے۔ اللہ جزائے خیر دے مدرسہ عربیہ قرآنیہ ، اٹاوہ کے مدیرحضرت مولاناطارق شمسی صاحب کوجنھوں نے احقر کو اس بات کاحکم دیاکہ اس مضمون کاتجزیہ کیاجائے اور اس کاکافی وشافی جواب دیاجائے۔ذیل میں ہم موصوف کی موٹی موٹی باتوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کا پوسٹ مارٹم بھی کریں گے:
موصوف کے مضمون کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ بات جان لینے کی ضرورت ہے کہ مدارس اس ملک میں حفاظت دین وایمان کا سب سے بڑا ذریعہ رہے ہیں اور ہیں۔مدارس کا کردار ہر اعتبار سے دینی و ملی قیادت میں انتہائی اہم رہاہے ۔اگر چہ مدارس میں پڑھنے والے مسلم بچوں کا تناسب صرف تین فیصد ہے جیسا کہ سچر کمیٹی رپورٹ کہتی ہے لیکن پھر بھی ان تین فیصدمدرسہ جانے والوں نے قوم مسلم کی ہر محاذ پر قیادت کی چاہے وہ دینی ہویاملی، سیاسی ہو سماجی ۔
دوسری بات یہ ہے کہ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کیاہے اس کو بھی سمجھناچاہیے۔ہندوستان میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے قیام کا بنیادی مقصداس ملک میں تحفظ شریعت و علم دین اورمجاہدین آزادی کو تیار کرنا تھا۔ حصول آزادی کے بعد اس کا مقصد اور اس جیسے مدارس کا مقصد صرف تحفظ شریعت و علم دین اور تبلیغ دین ودینی امور میں امت مسلمہ کی قیادت ہے اور بس۔ ان مدارس کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں رہاکہ یہاں سے آئی اے ایس اور آئی پی ایس، ڈاکٹر اور انجینئر ،منشی اور بابو بنائے جائیں کہ یہ چیزیں مدارس کے مقاصد قیام کے بالکلیہ منافی ہیں اور مدارس بحمداللہ اپنے مقاصد میں بالکلیہ کامیاب ہیں ۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہاں ہر گلی کوچے میں کھلے ہوئے کچھ مدارس کے بارے میں بہت ساری باتیں منظرعام پر آتی رہتی ہیں لیکن ان کے تعلق سے بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ بھی کچھ نہ کچھ دینی کام سر انجام دیتے ہیں اور سومیں اگر معدود ے چند مدارس کسی غلط کام میں مصروف ہوں تو تمام مدارس کو تو متہم نہیں کیاجاسکتااور نہ ہی سب کے اخلاص پر شک کیا جاسکتاہے۔
مذکورہ باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہم موصوف مضمون نگار کے مضمون کا تجزیہ کرتے ہیں اور جواب دیتے ہیں:
۱۔موصوف مضمون نگارصاحب لکھتے ہیں:’’بڑی تعداد میں مدارس کی موجودگی کے باوجود قوم کی تعلیمی حالت میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں آئی‘‘۔موصوف نے قوم کی تعلیمی حالت میں سدھار نہ آنے کا ٹھیکرامدارس کے سرپھوڑدیا۔ذراکوئی ان سے پوچھے کہ آپ ہی کے بقول صرف چار فیصد طلبہ مدرسوں میں جاتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کہ مدارس والے چھیانوے فیصد کی دینی تعلیم کی فکر کریں ، ان کو اللہ اوررسول سکھلائیں یاجاکر تعلیمی بیداری کے کارواں چلائیں؟ ظاہر ہے کہ وہ تو اپنے بنیادی کام میں لگے ہوئے ہیں ۔لیکن آپ اور آپ جیسے نام نہاد مفکرین اورڈاکٹرحضرات کیاکررہے ہیں؟ کیاآپ کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ مدارس والے باوجودیکہ یہ ان کا کام نہیں؛ لیکن ہرموقع پر ہرجگہ امت کے سوئے ہوئے لوگوں کو اچھی اور اعلی تعلیم دینے اور دلانے پر توجہ دلاتے رہتے ہیں لیکن آپ جیسے لوگوں کو ان پر پھبتیاں کسنے سے فرصت نہیں۔دینی تعلیم کے لیے ہمارے بزرگوں نے مفت مدارس ومکاتب کانظام قائم کررکھاہےاور مجھے صد فیصد امید ہے کہ آپ نے بھی بسم اللہ کسی عالم دین یاحافظ قرآن سے سیکھی ہوگی۔
آپ مسلمان ہوکر بھی وہی کہہ رہے ہیں،جو حکومت اور اسلام دشمن طاقتیں کہتی ہیں کہ مسلم قوم کی پسماندگی کے ذمہ دار یہی مدارس ہیں۔آپ نے کیاکیااور آپ جیسے مفکرین نے کیاکیا،وہ بھی ضرور عرض کریں۔اہل مدارس کے پاس تو امت کے صرف تین فیصد طلبہ ہیں اور آپ کے پاس چھیانوے فیصد۔آپ ان کی فکرکریں اور نام نہاد مفکرین کی غلطیوں کا الزام مدارس کے سرنہ دھریں۔
۲۔ موصوف مضمون نگار صاحب نے آگے فرمایا:’’قوم کی تعلیمی ضرورتوں کوپوراکرناتو دور،ان مدارس نے تعلیم کوہی دین ودنیاکے خانوں میں بانٹ دیا‘‘۔واہ ڈاکٹرصاحب واہ!کیا آپ قیام مدارس کی تحریک کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ؟مجھے یقین ہے کہ اگرآپ کو کچھ پتہ ہوتا،تو آپ یقیناًیہ جملہ استعمال نہیں کرتے۔آئیے مختصر ا میں آپ کو بتائے دیتاہوں کہ ان مدارس کے قیام کاپس منظر کیاتھا؟
اس ملک میں انگریزوں کے تسلط کے بعد اور ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں علما شہید کردیے گئے اور پورے ملک کو عیسائی بنانے کے لیے عیسائی مشنریزسرگرم عمل ہوگئیں۔نیزلارڈ میکالے اپنا نظام تعلیم لے آیا۔ان حالات نے اس وقت کے بابصیرت علماکوبے چین کردیاجس کے نتیجے میں ہندوستان میں علوم شریعت اور مسلمانوں کے دین کی بقا اور تحفظ کے لیے مدارس کا جال بچھایاگیا۔ اگراس وقت مدارس کا یہ جال نہ بچھایاجاتاتو اس ملک میں اسلامی شعائر کے ساتھ آج جینامشکل ہی نہیں، ناممکن ہوتا شایدآپ کے لیے بھی۔ اس لیے اب یہ سمجھیے کہ مدارس نے تقسیم کاکام نہیں کیا؛بل کہ آپ جس نظام تعلیم کے دلدادہ ہیں اس کے اداروں نے دین ودنیاکی تقسیم کی۔ ہم نے تو ہمیشہ ہی یہ نعرہ دیاہے کہ علم حاصل کرنے کا مقصد معرفت ربانی کا حصول ہے اور بس اور ہم تو یہ کہتے رہے ہیں کہ:
اللہ سے کرے دور تعلیم بھی فتنہ
اولاد بھی املاک بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیرہی کیا نعرۂ تکبیربھی فتنہ
ہمارے اداروں میں ہمیشہ یہ توسع پایاگیاکہ اس کے طلبہ دنیاوی تعلیم گاہوں اور یونیورسٹیز میں گئے اوروہاں پر بھی انھوں نے اعلی مقام حاصل کیا۔ہاں لیکن ہم نے اپنے لیے اباحیت پسندی ،فکری آوارگی اور دین سے دوری کوکبھی پسند نہیں کیااور اپنے طلبہ کو اس ڈھرے پرجانے سے ہمیشہ روکا۔ آج بھی مدارس اپنے طلبہ کے لیے ضروری دنیاوی علم کا نظم رکھتے ہیں،یقین نہ آئے تو دارالعلوم دیوبند اور اس کے منہج پر چلنے والے اداروں میں جاکر دیکھ لیں ۔بہت ممکن ہے کہ ابتدائی لیول میں آپ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ نہ ملے لیکن اختتامی مرحلے پر آپ کو ضرور ملے گااس لیے آپ اپنے الزام کو واپس لیں اور مدارس کے تئیں اپنے اندرون قلب میں پائی جانے والی نفرت کو ختم کریں۔
۳۔موصوف لکھتے ہیں: ’’سرسید نے محسوس کیاکہ تعلیم کو قرآن وحدیث تک محدود کرناعلما کی اجتہادی غلطی ہے‘‘ سرسید نے کیامحسوس کیا اور کیا نہیں اس سے اہل مدارس پرنہ کوئی فرق پڑاہے اور نہ پڑے گا۔کیوں کہ مدارس حفاظت دین وعلم شریعت کے قلعے ہیں، وہاں قرآن وحدیث کو ان کے اصل ماٰخذ سے مربوط کرکے پڑھایااورسکھایاجاتاہے اس لیے سرسیدمرحوم کی بات اور احساس اہل مدارس پر نہ تھوپیں کہ اس سے ان پر کوئی فرق پڑنے والانہیں۔ ہمارے نزدیک کامیابی و کامرانی قرآن وحدیث پڑھنے اور ان پر عمل کرنے میں ہے اور بس۔ہاں ہم دنیوی تعلیم سے کبھی کسی کو منع نہیں کرتے بل کہ ہم تواعلی تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔لیکن اکبرمرحوم کے اس قول کی بھی یاد دہانی کراتے ہیں:
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
۴۔ موصوف فرماتے ہیں:’’دنیاکاکوئی بھی نظام تعلیم ایسانہیں ہے جس میں ضرورت زمانہ کے لحاظ سے تبدیلی کا عمل جاری نہ ہو۔ صرف بھارت کے دینی مدارس ایسے ہیں جن میں تقریبا ۱۵۰؍سال سے ایک ہی طرح کی تعلیم دی جارہی ہے‘‘۔ کیاڈاکٹر صاحب!جب آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں تو کیوں قلم چلانے بیٹھ گئے؟آپ ڈاکٹری کریں اور جیب بھریں۔کیوں جھوٹ بول کر اہل مدارس کے خلاف تبرے بازی کررہے ہیں۔ میں آپ کوبتادوں کہ مدارس کے نظام تعلیم میں بھی وقت وضرورت کے اعتبارسے مسلسل؛ لیکن جزوی تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے جو نصاب چلتاتھا،اس میں ا ور اب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔لیکن اگرآپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم پورا نظام ہی تبدیل کردیں ۔عربی کی جگہ ہندی اور سنسکرت پڑھائیں۔فقہ ،حدیث اور تفسیرکی جگہ ،سائنس اور حساب ، علم فزکس وکیمیاپڑھائیں تو آپ یہ کان کھول کر سن لیں کہ ہم ایسا کبھی نہیں کرسکتے ۔کیوں کہ یہ ہمارے مدارس کے مقاصد قیام کے بالکل خلاف ہے۔جزوی تبدیلی حالات وضرورت کے اعتبار سے ہم کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے لیے ہمیں آپ کے مشورے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں!
۵۔ڈاکٹرصاحب فرماتے ہیں کہ: ’’آج بھی مدارس میں غلاموں کی مثالیں دی جاتی ہیں جب کہ دنیاسے غلامی ختم ہوئے زمانہ ہوچکا‘‘۔ ڈاکٹر صاحب ! کیاآپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ باپ جب بالکل بوڑھاجائے اور وہ کسی کام کا نہ رہے، تو اسے لے جاکر کہیں پھینک دیا جائے یازندہ درگور کردیا جائے؟یاآپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن سے غلاموں وغیرہ سے متعلق جو آیات ہیں ان کو حذف کردیاجائے؟ اگرآپ کی یہ منشا ہے تو پلیز! ہمارے اندر یہ دم نہیں کہ ہم ایسا کچھ اقدام کر سکیں کہ قرآن ہمارے نزدیک غیرقابل تحریف کتاب ہے۔اور اگرآپ یہ کرناچاہتے ہیں توآپ اپنی خیر منائیں!ع خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں۔کیانامعقول بات آپ نے کہہ دی !!ہمیں تو شک ہوتاہے کہ آپ واقعی ڈاکٹرہیں یا۔۔۔
۶۔ موصوف فرماتے ہیں:’’حکومت نے جدید مضامین کی تعلیم کے لیے Modernization of Madrasa Scheme چلائی۔لیکن اس اسکیم کو عام طور پر مدارس نے مسترد کردیا؛کیوں کہ اسکیم سے جڑنے کے لیے مدارس کو اپنے کوائف جمع کرنے تھے جو مدارس کسی بھی صورت ظاہرنہیں کرناچاہتے‘‘۔ڈاکٹر صاحب !آپ کی یہ بات بھی مدارس کے تئیں آپ کے قلبی بغض کی غماز ہے۔ مدارس کے سارے کوائف ہمیشہ درست رہتے ہیں؛کیوں کہ انھیں حکومت دنیاسے نہیں بل کہ احکم الحاکمیں سے خوف رہتاہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ سرکاری امداد اور پھراس کے ذریعے سرکاری مداخلت کو پسند نہیں کرتے۔آپ حکومتی مراعات کے لیے اپنے دین وعقیدے کا سودا کرسکتے ہیں، اہل مدارس نہیں ۔اس لیے مدارس کے بارے میں ان شکو ک و شبہات سے خود باہر نکلیے اوراپنے حواریین کو بھی نکالیے۔آپ جب چاہیں کسی بڑے مدرسے میں جائیں اور تحقیق کریں ۔صرف دشمنان اسلام کی باتیں سن کر ان پرلٹو نہ ہوجائیں۔
۷۔ ڈاکٹرصاحب فرماتے ہیں:’’مدرسہ نے نفع بخش کاروبارکی شکل اختیارکرلی ہے‘‘۔ہاں ہاں کیوں نہیں!نفع بخش یہی ناکہ آج بھی اہل مدارس کی تنخواہیں ۵ سے ۱۰ ہزا رکے درمیان بل کہ بعض جگہوں پر تو اس سے بھی کم ہیں۔کیاآپ بتلائیں گے کہ آپ مدارس کی کتنی فنڈنگ کرتے ہیں؟آپ کے بغض و عناد کو دیکھ کر مجھے تو لگتاہے کہ آپ اپنی زکات وصدقات خود ہی کھا لیتے ہوں گے۔
۸۔موصوف اور آگے فرماتے ہیں کہ ’’ مدارس میں صرف چار فیصد پڑھتے ہیں لیکن سوفیصد زکوۃ وعطیات پر ہاتھ صاف کرجاتے ہیں ‘‘۔واہ واہ کیازبان ہے!اللہ آپ کی زبان کی اصلاح فرمائے اور آپ کے اندرون سے مدارس کے تئیں یہ بغض ختم فرمائے!آمین!! آپ ہی کے بقول مدارس میں چار فیصد بچے آتے ہیں۔اب یہ سمجھیے کہ لوگ اپنی رقوم کاصرف ڈھائی فیصد زکات دیتے ہیں ۔اس اعتبار سے اگر وہ ڈھائی فیصد ان چار فیصد پر خرچ ہوجائے تو پیسوں کا تناسب کم اور طلبہ مدارس کا تناسب بڑھ جائے گا۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسلمانوں میں کتنے فیصد مالدار لوگ ہیں ؟ظاہر ہے کہ پندرہ بیس فیصد سے زیادہ لوگ امیرنہیں ہوں گے۔پھر ان میں بھی کچھ ہی فیصد لوگ اپنی زکاتیں پوری دیتے ہیں، ورنہ بہت سارے لوگ تو دیتے ہی نہیں یا اٹکل پچوسے تھوڑی بہت دے دیتے ہیں۔اس صورت حال کو دیکھیں اور اپنے جملے پر غور کریں کہ کیا آپ نے مدارس پرسوفیصد زکات وعطیات لے لینے کا بھداالزام نہیں لگایا؟پھر یہ بات بھی انتہائی محقق ہے کہ مسلمان قوم مدارس کو اپنی زکاتوں کاکچھ ہی حصہ دیتی ہے ۔ لوگ مدارس والوں کو سو پچاس روپے دیکر احسان جتلاتے ہیں حالانکہ قوم کی زکاتوں کا اکثرحصہ تو آپ جیسے ہوشیار مزاج ڈاکٹراور دانشورلوگ دباکے بیٹھ جاتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے یہ بات کہ لوگ سوسائٹی اور ٹرسٹ کے نام پر اندرون ملک اور باہر کے ملکوں کی کروڑوں روپئے کی زکاتیں کھاکرڈکار بھی نہیں لیتے ۔اس لیے یہ مدارس پر سراسر الزام ہے خدارا اپنی اس بات کو واپس لیجیے اور توبہ کیجیے۔
نیز آپ اسی ضمن میں فرماتے ہیں :’فطرہ و زکوۃ پر جن غریبوں اور مسکینوں کا حق تھاوہ منہ تاکتے رہ جاتے ہیں ‘‘۔ہائے رے معصومیت! محترم! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مدارس میں پڑھنے والے نوے فیصد سے زائد طلبہ غریب ومسکین رہتے ہیں؟جب بات یہ ٹھہری تو بات واضح ہوگئی کہ زکا ت وفطرہ وصدقہ جن کا حق تھے ان تک پہونچ گئے۔اتنی معمولی بات کی فہم سے اگرآپ قاصر ہیں تو ہم کیاکریں۔اسی لیے میں نے شروع میں کہاتھاکہ تضادات کی بھرمارہے۔
۹۔موصوف آگے فرماتے ہیں:’’رہامدرسے میں پڑھنے والے بچوں پر خرچ کا تو اس کا اندازہ وہاں جانے کے بعد ہوتاہے۔۔۔۔ مہتمم کے عیش وعشرت میں کوئی کمی نہیں ہوتی‘‘۔ڈاکٹرصاحب!آپ تو مدارس والوں کو زکات و عطیات بھی نہیں دینے دینا چاہتے،پھرمدارس والے معیاری تعلیم ورہائش وطعام کیسے دیں گے؟ذراسوچ کر بولیے! بولناچاہ رہے ہیں کچھ اور نکل جارہاہے کچھ اور۔آپ کیاجانیں مہتممین کا دردکہ مضمون لکھناآسان ہے ،اعتراض داغنااور بھی آسان لیکن بچوں کے لیے ایک ایک پیسے جوڑنے بٹورنے میں مہتمم کو کتنی مشکلات درپیش ہوتی ہیں وہ صرف مہتمم ہی بتاسکتاہے۔آپ کا یہ مانناہے کہ مہتمم کوفقیرملنگ رہناچاہئے اور اس کے پاس اچھا گھراور اچھی گاڑ ی نہیں ہونی چاہیے ،کیوں؟کیا آپ نے ان کی کچھ قربانیاں نہیں دیکھا؟دیکھیے !دونوں چیزیں دیکھیے پھر آپ کو مہتممین کے درد وتکلیف کا اندازہ ہوگا۔
۱۰۔موصوف فرماتے ہیں: ’’بڑی تعداد میں بچوں کا مستقبل برباد کیاجارہاہے۔۔۔ مستقبل سے کھلواڑ کے سوال پر مدارس کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ بے کارنہیں رہتے۔غورکرنے کی بات ہے کہ مسجد کی امامت کیاایساروزگارجس سے وہ عزت کی زندگی گزارسکیں؟اگر یہ صحیح ہے توپھرائمہ مساجد کوجھاڑ پھونک ،تعویذ گنڈے کرنے،ٹیوشن پڑھانے یاسیاسی بیان بازی کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
محترمی!آپ کی اس مجرمانہ جرأت پر اللہ آپ کومعاف فرمائے کہ بچوں کو دین سکھانے اور قرآن وحدیث کے علم دینے کو آپ یہ کہتے ہیں کہ بڑی تعداد میں بچوں کا مستقبل برباد کیاجارہاہے۔آپ کو اس بیالیس فیصد کا جو اسکول یامدرسے نہیں جاتے کوئی خیال نہیں آیا؟نیزاہل مدارس کیاغلط کہتے ہیں کہ ان کے فارغین بے کارنہیں رہتے کیوں کہ اس میں تو صدفیصد سچائی ہے۔ہاں یہ ضرورہے کہ کم ظرف متولیان مساجد اور ظالم اور حق تلفی کرنے والے ذمہ داران ائمہ مساجد کو ان کی ضروریات کے بقدربھی تنخواہ نہیں دیتے ۔ایسی صورت میں آپ کا قلم متولیان و ذمہ داران مساجد کو بیدار کرنے کے لیے جولانی نہیں دکھاسکا۔ امامت تو کارنبوت اور سرداری و قیادت کا منصب عظمی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ آپ جیسے لوگ آگے بڑھیں اور مدارس پر اپنی بھڑاس نکالنے کے ساتھ تھوڑامتولیان وذمہ داران مساجد کو بھی بیدار کریں۔
۱۱۔موصوف آگے قلم بند فرماتے ہیں:’’جمعیۃ علماء ۔۔وغیرہ۔اور بڑے اداروں کے ذمہ داران کو غوروفکرکرکے ایک طرف نظام ونصاب تعلیم کو آج کے حالات کے مطابق از سر نوترتیب دیناچاہیے تاکہ یہاں سے نکلنے والے طلبہ ملک و قوم کی بہتر خدمت کرسکیں۔دوسری طرف نئے مدارس کھولنے پر پابندی لگادی جائے‘‘۔جناب!نظام ونصاب تعلیم آج کے حالات کے مطابق ازسر نوترتیب دینے سے آپ کی کیامراد ہے ؟کیاوہ جو ہم نے پہلے بتلایاکہ ہمارے پاس آنے والے تین فیصد کو بھی ہم دین پڑھانابند کردیں اور وہی حساب ،سائنس وغیرہ ان کو بھی پڑھائیں۔یاآپ کے ذہن میں کچھ اور ہے؟ذرا کھل کے آئیں!!!
آپ کا یہ فرمانا ’تاکہ یہاں سے نکلنے والے طلبہ ملک وقوم کی بہتر خدمت کرسکیں ‘سے کیا آپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ آج تک ساری خدمات آپ جیسے چڈی دھاری لوگوں نے انجام دیاہے اور ہم اہل مدارس ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہے ہیں۔ارے صاحب !انصاف کے ساتھ تاریخ کے صفحات کو الٹیے تو آپ کوزندگی کے ہرمیدان میں انھیں مدارس والوں کی خدمات جلی حرفوں میں نظرآئے گی۔
آپ فرماتے ہیں کہ نئے مدارس کھولنے پرپابندی لگادی جائے۔ کیوں صاحب!کیاامت مسلمہ کی ساری ضرورتیں اتنے مدارس و مکاتب سے پوری ہوجارہی ہیں؟ کیاآپ کو زمینی حقائق کا کچھ بھی علم نہیں ؟کیاآپ حالیہ دنوں میں عام ہوئے ارتداد کی قصوں سے بے خبرہیں؟ اگربے خبرہیں توواقفیت حاصل کریں اور اگرباخبر ہیں تو پھر صرف تین فیصد لوگوں کے اعتبار سے جو مدارس موجود ہیں آپ ان میں اضافے سے رنجور کیوں ہیں؟کیاآپ یہی بات اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں بھی فرمائیں گے جو کہ موٹی فیسیں الگ اور حرام کے دیگر فنڈس الگ وصول کرتے ہیں۔کیاآپ ان کے بارے میں بھی یہی فرمائیں گے؟آپ یہ سمجھ لیں کہ مدارس میں پڑھنے والے نوے فیصد طلبہ غریب ہوتے ہیں جو آپ کی تعلیم گاہوں اور نام نہاد دانش گاہوں کی فیس برداشت نہیں کرپاتے اس لیے ان مدارس میں آتے ہیں۔پہلے ان کے لیے کسی متبادل کا انتظام کریں پھر ایسے مضمون لکھنے کا شوق پورافرمائیں۔
اورہاں اخیرمیں یہ بات بھی عرض کردوں کہ آپ اپنے تعلیمی اداروں کی آپ زیادہ فکرکریں کہ وہاں ارتداد کی تیز وتندآندھیاں ملت کی بیٹیوں اور بیٹوں کو اپنے لپیٹ میں لے رہی ہیں اس لیے ان کی فکرکیجیے۔عقلمند وہی ہے جو دوسروں کے گھر کی آگ بجھانے سے پہلے اپنے گھر کو مامون ومحفوظ کرلے۔ان مدارس کو اپنے حال پر رہنے دیں،ان میں جو کمیاں درآئی ہیں ان کواہل مدارس اور ان کے ذمہ داران خوب سمجھتے ہیں اور ان کی اصلاح کے لیے کوشاں ہیں۔نیزہم ملت کے تمام بچوں اور بچیوں کے ایمان وعقیدے کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔یہی مدارس ومکاتب تو ہیں جنھوں نے مختلف طریقوں سے ملت کے بچوں کے دین وایمان کو بچاکر رکھاہواہے:کہیں مدارس کے ذریعے ،کہیں مکاتب کے ذریعے ،کہیں مدارس نسواں کے ذریعے تو کہیں مساجد میں صباحی اور مسائی مکاتب چلاکر۔اس لیے ان مدارس کی فکر آپ جیسے لوگ کرنا چھوڑ دیں تو اچھاہے۔
شکوہ ظلمت شب سے تو یہی بہترتھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اخیرمیں یہ بات بھی جان لیجیے کہ انھیں مدارس ومکاتب کے بارے میں علامہ اقبال مرحوم نے اندلس میں قرطبہ اور غرناطہ کو دیکھنے کے بعد کہاتھا:’’ان مدرسوں کوانھیں کے حال پر رہنے دو۔غریب مسلمانوں کے بچوں کو انھیں مدارس میں پڑھنے دو ۔اگریہ ملا ودرویش نہ رہے جانتے ہوکیاہوگا؟جو کچھ ہوگامیں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیاہوں۔مدارس کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگاجس طرح اندلس میں کی گئی آٹھ سوسالہ حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوااسلام کے پیروکاروں اوراسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا‘‘۔( ’خوں بہا‘ازحکیم احمد شجاع:حصہ اول،ص ۴۳۹)
ذمہ داران مدارس کی خدمت میں ایک گزارش:
جیساکہ آپ نے مضمون میں ملاحظہ فرمایاکہ موصوف ڈاکٹر صاحب نے کس طرح اپنی بھڑاس نکالی ہے اور جی بھرکرجق بق بکاہے۔یہ تو صرف چندموٹی موٹی چیزیں ہیں جن کا ہم نے تجزیہ کیاہے ورنہ موصوف کا پورامضمون تبرے بازی اور الزامات واتہامات کا مظہرہے۔ خیرہمیں اس سے نہ متاثر ہونے کی ضرورت ہے اور نہ گھبرانے کی۔لیکن یہ بات ضرورہے کہ اس وقت مدارس کی ہمہ جہت خدمات کی اس ملت کو سخت ضرورت ہے جس کے لیے مدارس کے فضلا کی نئے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریننگ اور تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔چنددنوں قبل ایک بڑے اسکالر نے اس بات پر توجہ دلائی باوجودیکہ ان کا اندازتحریر قطعاغیردرست تھالیکن جوپوائنٹ انھوں نے رکھاوہ یقیناقابل توجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیاکی تمام بڑی تعلیم گاہوں اوردانش گاہوں چاہے وہ یہودیوں کی ہوں یا نصرانیوں کی یاہمارے برادران وطن کی نظریاتی اورفکری تنظیموں کی، ان کے یہاں اسلام پر تنقیدی مطالعہ کا شعبہ رہتاہے لیکن ہماری تعلیمی گاہوں میں دیگر مذاہب کے تنقیدی مطالعے کا کوئی شعبہ موجو دنہیں۔ظاہرہے کہ یہ ملت آفاقی ملت ہے اور اس کا پیغام بھی آفاقی ۔اگراس کاکریم طبقہ جو علماء وفضلا کہلاتاہے اگر وہ بھی دیگر مذاہب کی باتوں سے لاعلم رہے، تو وہ تبلیغ دین متین کا کام کیوں کرانجام دے سکے گا۔بطور خاص اس وقت میں جب کہ مسلمانان ہند پر اس وقت چوطرفہ علمی اور فکری ،نظریاتی اور تہذیبی یلغارہے۔ایک طرح کی تہذیب وثقافت کو مسلمانان ہندپر تھوپنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ایسی صورت حال میں اگرعلماء امت نے اپنوں کے ساتھ ساتھ اگر بردارران وطن کی ذہن سازی کافریضہ انجام نہیں دیااور ان کے بارے میں خود ان کی کتابوں سے حق کو واضح نہ کیا اور ان کے باطل ہونے کی بات دعوتی انداز میں ان تک نہ پہنچائی، تو وہ دن دور نہیں، جب مسلمانان ہند پر ایک تہذیب تھوپ دی جائے گی اور پھرتب کچھ کرنے اور کرپانے کے لیے شایدبہت دیرچکی ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*