انتخاب سخن جلد سوم سلسلۂ مومن


مرتب :حسرت موہانی
صفحات : 326 ،قیمت : 155 روپے ،سن اشاعت : 2018 ء
ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی
مبصر : عبدالباری قاسمی ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی
مولانا حسرت موہانی کا شمار اردو کے ان ممتاز شاعر اور ادیبوں میں ہوتا ہے جو بیک وقت شاعر ،نقاد، مرتب ،صحافی اور سیاسی لیڈر ہیں اور ان تمام فنون میں سے ہر ایک میں اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ اگر شاعر اور ممتاز جدید غزل گو شعرا میں ان کا شمار نہ بھی ہوتا، پھر بھی ان تمام میں سے کسی ایک کے ذریعہ ہی اپنی حیثیت منوا لیتے اور شہرت عام و بقائے دوام انہیں ضرور حاصل ہو جاتا ۔
مولانا حسرت موہانی کے جملہ کارناموں میں سے ایک اہم اور نادر کارنامہ ’’انتخاب سخن ‘‘ کے نام سے دوسو سے زائد اساتذہ کے کلام کا انتخاب ہے ،حسرت موہانی نے گیارہ جلدوں میں اساتذہ کے کلام کا انتخاب شائع کیا ،مجموعی طور پر یہ انتخاب تین ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ،ابتدا میں حسرت کا ارادہ انتخاب دواوین کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع کرنے کا ارادہ تھا مگر بعد میں حسرت ؔ کا ارادہ بدل گیا اور ’’ انتخاب سخن ‘‘ کے نام سے گیارہ جلدوں میں شائع کیا ۔
اس انتخابی سلسلہ کے ذریعہ حسرت ؔ موہانی نے بہت سے ایسے اساتذہ کو دوبارہ زندہ کیا اور قارئین سے روشناس کرایا جو گمنام ہو چکے تھے اور ان کا کلام ضائع ہونے کے کگار پر پہنچ چکا تھا ،انتخا ب کلیات جعفر علی حسرتؔ کے دیباچہ میں خود حسرت نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ’’ اردو زبان کی بدقسمتی سے اور ناقدردانوں کی غفلت کی وجہ سے بہت سے زبردست استادوں کا کلام برباد ہو گیا ،ایسا کہ اب تلاش کرنے پر بھی اس کا کہیں پتہ نہیں چلتا اور بہت کا کلام ضائع ہونے کے قریب ہے یعنی یہ کہ اگر بہت جلد اس کی حفاظت اور اشاعت کا انتظام نہ کیا جائے گا تو کچھ دنوں میں دنیا سے ناپید ہو جائے گا ‘‘،اس اقتباس سے جہاں حسرت کے اس اہم کارنامہ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں حسرت ؔ کا مقصد بھی واضح ہوتا ہے ،حسرت ؔ نے انتخاب کی شکل میں ایسا عمدہ شعری نمونہ اہل اردو کے سامنے پیش کیا کہ اگر ان کے دیگر علمی ،ادبی اور اہم سیاسی کارنامے نہ بھی ہوتے پھر بھی ان کو زندگی عطا کرنے کے لیے یہ انتخاب کافی تھا ۔
حسرت ؔ موہانی نے یہ اہم کارنامہ ایسے دور میں انجام دیا، جب پورے ملک میں انقلاب برپا تھا ،سیاسی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ تھی ،آہستہ آہستہ لوگ قدیم شعری سرمایے سے بیزار ہونے لگے تھے ،ایسے دور میں بیاضوں ،تذکروں اور کچھ مطبوعہ مواد کی مدد سے اہم شعرا کے کلام کا انتخاب مرتب کیا اور صر ف کیف مااتفق جمع ہی نہیں کیا ؛بلکہ غزل کی ہیئت کو بھی برقرار رکھنے کا مکمل التزام کیا؛ اس لیے کہ محدود صفحات میں مکمل کلام کو شائع کرپانا ممکن بھی نہیں تھا ،حسرت ؔ نے بڑی تعداد میں شعرا کے کلام کو مختصر صفحات میں جمع کرکے دریا کو کوزے میں سمونے کا کام کیا ہے۔
چوں کہ حسرتؔ خود ایک اچھے شاعر تھے اور تنقیدی بصیرت بھی عمدہ رکھتے تھے چنانچہ اس کا ثبوت اس انتخاب میں بھی پیش کیاہے ،غزلیات کے انتخاب میں مطلع اور مقطع کے ساتھ تین شعر کو ضرور شامل کیا، چاہے وہ عمدہ ہوں یا کمز ور اس کی وجہ سے قاری بسہولت شاعر کے کمزور اور مضبوط دونوں پہلؤوں کو سمجھ اور جان سکتا ہے اور شاعر کے کلام پر آسانی سے کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے ۔
حسرت نے یہ انتخاب گیارہ جلدوں میں شائع کیا اورہر جلد کسی نہ کسی سلسلہ سے منسوب ہے ،پہلی جلد سلسلۂ شاہ حاتم ہے ،دوسری جلد سلسلۂ ذوق ؔ ،تیسری جلدسلسلۂ مومن ؔ ،چوتھی جلد جزو اول سلسلۂ مظہر ؔ اور جزو دوم سلسلۂ میر درد و سوز ،پانچویں جلد سلسلۂ جرأ ت ،چھٹی جلد سلسلۂ مصحفی ،ساتویں جلدسلسلۂ آتش ،آٹھویں جلد سلسلۂ اسیر و امیر ،نویں جلد سلسلۂ ناسخ ،دسویں جلدسلسلۂ غالب اور گیارہویں و آخری جلد متفرق ہے۔
ان تمام جلدوں کے سلسلوں سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حسرت ؔ نے کیسے کیسے کلاسیکی مشہور اور غیر مشہور اور کچھ ہم عصروں کے کلام کو محفوظ کر دیا ہے۔
زیر تبصرہ انتخاب سخن جلد سوم سلسلۂ مومن ہے یہ دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصہ میں مومن،نسیم دہلوی،تسلیم اور خود حسرت موہانی کے کلام کا انتخاب ہے جبکہ دوسرے حصہ میں شیفتہ ،اشرف،قلق،شگفتہ ،مہر لکھنوی ،اصغر گونڈوی،عرش گیاوی،ہادی مچھلی شہری اور شفیق جونپوری جیسے جلیل القدر اور مستند شعرا کے کلام کا انتخاب شامل ہے ۔اس انتخاب سے حسرت ؔ کی ذہانت اور فن ترتیب پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس حصہ میں ویسے تو نظم ،رباعی ،قطعہ ،منقبت ،نعت اور حمد وغیرہ سب کچھ موجود ہے مگر بیشتر حصہ غزلیات پر مشتمل ہے۔ابتدا سے شیفتہ تک حسرت نے کسی شاعر کے ساتھ استاد کا نام نہیں، لکھا مگر بعد میں اشرف سے لے کر شفیق جونپوری تک سوائے ہادی مچھلی شہری کے سب کے اساتذہ کا نام لکھنے کا بھی التزام کیاہے ؛تاکہ شاعر کی حیثیت اور وقعت کے ساتھ اس کے کلام کی اہمیت کا بھی اندازہ لگایا جا سکے ۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ حسرت ؔ موہانی نے خود اپنے کلام کا دو حصوں میں انتخاب کیا، پہلے حصہ میں ردیف کے اعتبار سے الف سے ی تک ترتیب ہے،اس حصہ میں صرف غزل شامل ہے، جبکہ دوسرے حصہ کوتاریخ اور مقام کے اعتبارسے ترتیب دیاہے،اس میں رباعی،نظم ،مدح،نعت،اور قطعہ وغیرہ متفرق چیزیں شامل ہیں ۔
اس اہم اور قابل قدرانتخاب کلام کی اشاعت کے لیے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی اور اس کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم لائق تحسین اور قابل مبارکباد ہیں؛اس لیے کہ قومی کونسل نے پہلی مرتبہ اس انتخاب کو اس خوبصورتی سے شائع کیاہے کہ یہ عوام وخواص دونوں کے لیے یکساں مفید ہے ، قومی کونسل نے ایک توحسرت موہانی جیسے جلیل القدر شاعر ،صحافی،ناقد اور مبصر ومرتب کے قیمتی سرمایہ کو دوبارہ قارئین کے رو برو کروایا اور دوسری اہم بات یہ کہ قومی کونسل نے اس کتاب کوکمپیوٹر سے ٹائپ کراکے شائع کیاہے اس کی وجہ سے ہر قسم اور ہر سطح کے اردو والے اسے بہ سہولت پڑھ سکتے ہیں، اس سے قبل دو مرتبہ اشاعت ہوئی ایک کانپور سے اور دوسری لکھنؤسے ،پہلی میں تو صرف مومن ،نسیم ،تسلیم اور حسرت کے کلام ہی شامل تھے ،جبکہ لکھنؤ سے مکمل شائع ہواتھا، مگر قدیم طرزِتحریر کی وجہ سے ہر کس و ناکس اس سے استفادہ نہیں کرسکتا تھا؛ اس لیے اس کے قارئین کا دائرہ محدود ہو گیاتھا ،قومی کونسل کے اس اقدام سے قارئین کا دائرہ بھی بڑھے گا اور ہر کس و ناکس استفادہ کر پائیں گے ۔کاغذ اور جلد کی عمدگی کے ساتھ ساتھ قیمت بھی بہت مناسب ہے ،طلبہ ،اساتذہ اور عوام سبھی کے لیے انتہائی مفید ہے ،امید ہے کہ قارئین پسند کریں گے۔