امپھال میں قومی کونسل کا انٹریکٹوپروگرام منعقد


امپھال: 28؍فروری(پریس ریلیز)
منی پور کی گورنرعزت مآب محترمہ ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی کے زیر اہتمام ہوٹل امپھال میں منعقدہ انٹریکٹو پروگرام میں کہاکہ اردوبے حد مقبول اور خوبصورت زبانوں میں سرفہرست ہے۔انھوں نے کہاکہ یہ درست نہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ عہد مغلیہ میں مختلف مقامات کے لشکرباہم رابطے کے لیے جو زبان بولتے تھے، وہ اردو کے نام سے معروف ہوئی۔انھوں نے اردو کو روزگار سے جوڑنے کے لیے قومی اردو کونسل کو عملی اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اردو بول سکتے ہیں لیکن لکھ نہیں سکتے،انھیں اس بات کے لیے ترغیب دی جائے کہ وہ اردورسم الخط بھی سیکھیں۔ انھوں نے کونسل سے شائع ہونے والے رسائل کو عام کرنے اور عوامی بنانے پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹرنجمہ ہپت اللہ نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ زبانوں کو مذہب سے اوپر اٹھ کردیکھاجاناچاہیے اور عوام تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف لسانی ومذہبی پس منظر کے لوگوں کو کسی مخصوص زبان پر مرکوز نہیں رہنا چاہیے بلکہ تعلیم اور تدریس کے میدان میں عملی اندازِ فکر اختیار کرنا چاہیے۔قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کونسل اردو موبائل ایپس اور آن لائن لغات جاری کرچکی ہے۔ انھوں نے کتابوں کی اشاعت اور اردو کی تعلیم کے لیے قومی اردو کونسل کے ذریعے فراہم کیے جانے والے تعاون سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔ڈائریکٹر نے مزید کہاکہ کونسل کے تحت مختلف کورسیز چل رہے ہیں جیسے یک سالہ ڈپلومہ کورس اِن کمپیوٹر ایپلی کیشن اینڈ بزنس اکاؤنٹنگ ملٹی لنگول ڈی ٹی پی، دو سالہ ڈپلومہ ان کیلی گرافی اینڈ گرافک ڈیزائننگ ، یک سالہ ڈپلومہ ان اردو لنگویج، دوسالہ ڈپلومہ کورس اِن فنکشنل عربک ، یک سالہ سرٹیفیکٹ کورس ان عربک لنگویجز اور یک سالہ سرٹیفکٹ کورس اِن پر شین ۔ سردست ان کورسوں میں 25ریاستوں کے 252اضلاع سے 1,41,683، طلبا کا اندراج ہے۔علاوہ ازیں مصنفین اور اخبارات کے لیے بھی کونسل کی کئی اسکیمیں چل رہی ہیں۔ہمارے ریکارڈ کے مطابق منی پور کے مختلف علاقوں میں اردو کے 13، عربک ڈپلومہ کے 03، عربک لنگویجز کے 09اور CABA-MDTPکے 30سینٹرز چل رہے ہیں۔
ڈائریکٹر شیخ عقیل احمدنے مزید کہا کہ منی پور کے CABA-MDTP ،عربی اور اردو سینٹرز کے انچارج کے ساتھ تبادلۂ خیال کا مقصد اردو کو فروغ دینے میں ان کا تعاون کرنا،کونسل کی اسکیموں سے آگاہ کرنا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے متعدد سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈومان نکوبار، نارتھ ایسٹ کے بعض علاقے، گوا اور جنوبی ہند کے کچھ علاقے بھی کونسل کی اسکیموں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاپارہے ہیں ،جب کہ ان علاقوں کے لیے منظور شدہ بجٹ کا کچھ فیصد مختص ہے۔انھوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے پروگرواموں کے ذریعے متعلقین اردو کے درمیان بیداری پیدا ہوگی اور کونسل کی مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کا ماحول بنے گا۔واضح رہے کہ کونسل پہلے بھی اس طرح کے پروگرام 09دسمبر2018کو گوامیں ، 11فروری 2019کو رانچی میں اور 16فروری2019کو ہوجائی،آسام میں منعقد کرچکی ہے۔