امریکہ کی افریقی نژاد آبادی نے لنچنگ کا مقابلہ کیسے کیا؟!


یاسر ندیم الواجدی
ماب لنچنگ نہ بھارت کے لیے نئی چیز ہے اور ناہی ملک سے باہر کی دنیا کے لیے۔ البتہ منظم ماب لنچنگ کی روایت بھارت میں نئی ہے، جب کہ امریکہ میں 1882 سے شروع ہوکر 1981 میں ختم ہوئی۔ لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ افریقی نژاد لوگوں نے منظم ہجومی تشدد کا کیسے مقابلہ کیا اور وہ کیا اسباب وعوامل تھے جن کی بنیاد پر سو سال کے عرصے میں 3446 لوگوں کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ عدد ایک اندازے کے مطابق ماب لنچنگ کے مجموعی کیسز کا ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔ اس اعتبار سے امریکہ میں ہر ڈھائی دن میں ایک لنچنگ کا واقعہ ہوا ہے۔
1899 میں دی لنچنگ پرابلم کے عنوان سے ایک کتاب شائع ہوئی تھی جو اس وقت لائبریری آف کانگریس میں محفوظ ہے۔ مصنف نے اس وقت جو کچھ لکھا ہے، اس کا آج سے موازنہ کیجیے اور دیکھیے کہ بھارت میں ہجومی تشدد کرنے والوں اور امریکہ میں لنچنگ کرنے والوں کے درمیان کس قدر یکسانیت ہے، گویا آج کے دہشت گردوں نے اس دور کے دہشت گردوں کے حالات پڑھ کر یہ اقدامات شروع کیے ہیں۔ کتاب کے مطابق: "لنچنگ کا مقصد کالوں میں خوف پیدا کرنا اور معاشی، معاشرتی اور سیاسی میدانوں میں اپنی برتری برقرار رکھنا ہے”. ایک افریقی نژاد شخص رچرڈ رائٹ کہتا ہے کہ "گوروں کے سامنے میرا خوف سے بھرا رویہ کسی تشدد کا نتیجہ نہیں تھا، مجھ پر کبھی تشدد نہیں ہوا، لیکن گوروں کے ذریعے اپنی نسل کے لوگوں پر ہونے والے جس تشدد کا مجھے علم تھا اس نے میرے رویے کو بدل کر رکھ دیا”۔
ان افریقی امریکیوں پر جو ایک طویل عرصے سے غلامی کی زندگی گزار رہے تھے اس وقت تشدد شروع ہوا، جب انھوں نے دستور میں دی ہوئی آزادی کا مطالبہ کیا اورسیاست میں حصے داری کی غرض سے ووٹ کے لیے رجسٹریشن شروع کیا اور مقامی سطح کے الیکشن میں کھڑے بھی ہوگئے۔ کچھ علاقوں میں کالوں نے تجارت میں بھی قسمت آزمائی کی، جس کی وجہ سے مقامی گورے تاجروں نے ان کو دبانے کے لیے ہجومی تشدد کا سہارا لیا۔ کالوں پر عام طور سے تین طرح کے الزامات لگاکر تشدد کیا جاتا۔ یا تو ان کو کسی کے قتل میں ملوث مان لیا جاتا، یا پھر گوری عورت کے ساتھ ریپ کا الزام لگایا جاتا، حالانکہ وہ عورت اپنی مرضی سے کالے شخص کی محبت میں گرفتار ہوتی اور یا پھر مویشی چرانے کے الزامات لگاکر ہلاک کردیا جاتا۔ آج بھی بھارت میں مویشی سے متعلق الزامات کے تحت ہی ماب لنچنگ کے اکثر واقعات ہورہے ہیں۔
مذکورہ بالا کتاب کے مطابق: "لنچنگ کو ایک عوامی اجتماع کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ باقاعدہ مقامی اخبارات یا پھر پوسٹرز کے ذریعے لنچنگ کی اطلاع دی جاتی اور وقت مقررہ پر لوگ پہنچ جاتے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اپنی مخصوص طرز زندگی کا محافظ سمجھتے تھے۔ آج بھی واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے آنا فانا دہشت گرد جمع ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ایک مخصوص ثقافت کا علمبردار سمجھتے ہوے، وہ اپنے جرم کو انجام دیتے ہیں۔
مصنف کے مطابق: "مقامی اور ملکی میڈیا میں ان خبروں کو فوٹوز اور مکمل تفصیلات کے ساتھ شائع کیا جاتا۔ لنچنگ کرنے والے لوگ، لاش کے ساتھ فخریہ پوز دے کر فوٹو اترواتے اور خود ہی اخبارات کو ارسال کردیتے۔ اخبارات بھی ان تصاویر اور فراہم کردہ تفصیلات کو مرچ مصالحہ لگاکر شائع کرتے۔ مثلا دی نیویارک ورلڈ ٹیلی گرام میں چھپنے والی ایک سرخی کچھ یوں تھی: "ٹیکساس میں ہجوم نے ایک نیگرو کو ذبح کیا، مسلح لوگوں نے اس کا سینہ چاک کرکے دل نکال لیا”۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی سرخیوں سے ماب لنچنگ کا اثر دور تک جاتا تھا اور کالوں کو خوف میں مبتلا کر دیتا تھا۔
یونیورسٹی آف الینوائے کے کارلوس ہل نے دو ہزار نو میں اپنا پی ایچ ڈی مقالہ لکھا، جس کے عنوان کا ترجمہ ہے: "ھجومی تشدد کا مقابلہ: کالوں کی لنچنگ کے مقابلے کے لیے زمینی محنت”۔ اس کتاب میں مؤلف نے کالوں کے ذریعے لنچنگ کی بڑھتی ہوئی واردات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے تین طریقے ذکر کیے ہیں۔
1- علاقے سے راہ فرار۔ یہ طریقہ عام طور پر وہ شخص اپناتا تھا جس کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ گورے اس کا شکار کرسکتے ہیں۔ وہ عام طور پر امریکہ کے جنوبی صوبوں سے شمالی صوبوں میں اپنے خاندان سمیت ہجرت کرجاتا تھا۔ لاکھوں افریقی نژاد لوگوں نے جنوبی علاقوں سے شمالی علاقوں میں ہجرت کی ہے۔
2- مسلح دفاع۔ کالے یہ طریقہ آخری علاج کے طور پر ہی اختیار کرتے تھے۔ انھیں جب یہ لگتا تھا کہ وہ مارے جائیں گے اور بھاگنے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں پچتا تھا، تو وہ آخری دم تک اپنی جان کے تحفظ کے لیے لڑتے تھے۔ وہ عام طور پر اس طریقے کو اس لیے اختیار نہیں کرتے تھے کہ کہیں جواب میں گورے مزید کالوں کا قتل نہ کرنے لگیں۔
3- سوشل کیپیٹل تھیوری: یعنی کالوں نے اپنے مشترکہ خطرات کے پیش نظر اور اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر جگہ جگہ ادارے، تنظیمیں اور سوسائٹیاں قائم کرنی شروع کردیں، جن کے نتیجے میں کالے ایک ہی علاقے میں آس پاس رہنے لگے، ان کی تعلیمی صورت حال کچھ بہتر ہوئی اور اس کے نتیجے میں ان کے حقوق کے لیے اٹھنے والی مضبوط آوازیں پیدا ہوگئیں۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور مالکم ایکس ان چنندہ لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے گوروں کے ظلم کے خلاف اپنی کمیونٹی کو بیدار کیا اور طاقتور تحریکوں کی قیادت کی۔ مالکم ایکس جنھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا تعلیمی بیداری میں بھی فعال رہے۔ شکاگو میں قائم کردہ ان کا کالج آج بھی موجود ہے۔ انھوں نے ڈیموکریٹس (ان کی مثال بھارت میں کانگریسی ہندو ہیں) اور ریبپلیکنز (ان کی مثال بی جے پی والے ہیں) کے درمیان موازنہ کرتے ہوے ریپبلیکنز کو ایسے بھیڑیے سے تشبیہ دی جو کھل کر حملہ کرتا ہے اور ڈیموکریٹس کو ایسی لومڑی سے جو بظاہر تو ساتھ رہتی ہے لیکن موقع ملتے ہی اپنا نوالہ بنالیتی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کا ردعمل امریکی کالوں سے بدتر ہے، جب کہ وہ ایک طویل عرصے تک غلام رہے تھے اور مسلمان طویل عرصے تک حکمراں۔ کالوں کا اپنایا ہوا دوسرا طریقہ وقتی اور انفرادی طور پر کارگر تھا، جب کہ تیسرا طریقہ اجتماعی طور پر۔ بھارت میں مسلمانوں کو اس تعلق سے وسیع پیمانے پر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔