امارت شرعیہ مسلمانوں کی ملی اجتماعیت کا نمونہ

امارت شرعیہ کے یوم تاسیس کی مناسبت سے اجلاس عام میں علما و دانشوروں کا خطاب

پٹنہ:(رضوان احمد ندوی)
امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ نے ملت کی اجتماعی شیرازہ بندی کے لیے ہر جہت سے کام کیا ، جس کے خوشگوار اثرات صوبہ و بیرون صوبہ بھی پڑ رہے ہیں ، مسلک و مشرب کے فاصلے کم ہو تے جا رہے ہیں ، اور مختلف مسالک کے لوگ ایک اسٹیج پر جمع ہو نے اور ملی اتحاد کو باقی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس لیے ہمیں حالات سے مایوس نہیں ہو نا چاہیے ، حق اور صداقت کی آواز کو بلند کرتے رہنا چاہئے ۔‘‘ان خیالات کا اظہار ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے یوم تاسیس امارت شرعیہ کے موقع پر المعہد العالی لتدریب الافتاء و القضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف کے پر شکوہ کانفرنس ہال میں شہر کے ممتاز علماء و دانشوروں کے ایک منتخب مجمع میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ سنہ ہجری کے ماہ وسال کے لحاظ سے آج امارت شرعیہ کے قیام کو سو سال کا عرصہ گذر گیا ، اس طویل عرصہ میں امارت شرعیہ نے ملی ،سماجی اور تعلیمی میدان میں بہت سارے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ، جن کی ایک روشن تاریخ ہے ، امارت شرعیہ نے ابتداء میں بہت ہی بے سر و سامانی کے ساتھ کام شروع کیا لیکن اس کے بزرگوں اور خدمت گاروں کے اندر اخلاص و للٰہیت کا جو جذبہ تھا اس کے اثر سے اللہ نے اس ادارے کو بڑی مقبولیت اور محبوبیت عطا کی ، انہوں نے فرمایا کہ۱۹۵۷ء ؁ میں امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب امارت شرعیہ کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے نئی نسل کی ایک ٹیم تیار کی اور ان کی صلاحیتوں سے ادارے کو قوت پہونچائی ، نوجوان نسل ملک و ملت کے مستقبل کے لیے قیمتی سرمایہ ہو اکرتی ہے ، اور ان سے ملت کا بڑا کام لیا جا سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کرام کو بھیجا ، سبھوں کو چالیس سال سے پہلے ہی نبوت سے سرفراز فرمایا ، یہ ایک مثال ہے کہ اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارا جائے اور انہیں میدان کا رکے لیے تیار کیا جائے تو آنے والے دنوں میں ان سے بڑا کام لیا جا سکتا ہے ، ناظم صاحب نے فرمایا کہ امارت شرعیہ نے دینی و عصری تعلیم کے میدان میں امت کو بیدار کرنے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے پر کافی زور دیا ہے ، امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی قیادت میں امارت شرعیہ نے گریڈیہہ اور رانچی میں سی بی ایس ای طرز پر عصری درسگاہ قائم کر کے ملت کے لیے ایک نمونہ پیش کیا ہے ، آپ حضرات بھی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے آگے بڑھیں ، ناظم صاحب نے کہا کہ یو پی کی حکومت کے ایک وزیر نے مدارس کے طلبہ کو بھی شرٹ اور پینٹ پہنانے کا شوشہ چھوڑا ہے ، یہ سب الیکشن کا ایجنڈ اہے ،اور ہم مسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔
جمیعۃ علماء بہار کے ناظم الحاج حسن احمد قادری صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ کو تاریخ کے ہر دور میں رجال کار ملتے رہے ہیں ، جس کی وجہ سے یہ ادارہ مختلف میدانوں میں ترقی کرتا جا رہا ہے ، اس پر ہم سب کو اللہ کا شکر اد کرنا چاہئے۔ جناب امتیاز احمد کریمی ڈائرکٹر راجیہ بھاشا اردو ڈائرکٹو ریٹ حکومت بہار نے کہا کہ امارت شرعیہ ملت کا ایک عظیم سرمایہ ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اس کی عظمت و وقار کو محسوس کریں اور اس کو ہر جہت سے قوت پہونچاتے رہیں ، امارت شرعیہ نے ملی مسائل کے حل کے ساتھ تعلیمی میدان میں بڑا کارنامہ انجام دیاٍ ، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ادارے کے ذریعہ سائنس اور تکنیک کی تعلیم کو مزید فروغ دیا جائے ۔ان کے علاوہ دیگرشخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں ڈاکٹر ریحان غنی مدیر روزنامہ پندار، جناب جاویداختر صاحب روزنامہ انقلاب، جناب انوار الہدیٰ صاحب ،جناب جاوید اقبال ایڈووکیٹ، بزرگ صحافی جناب ریاض عظیم آبادی، جناب الحاج سلام الحق بہار شریف، جناب ایس ایم شرف صغریٰ وف اسٹیٹ بہار شریف ، جناب مولانا عبد الباسط صاحب ندوی سکریٹری المعہد العالی ، جناب نجم الحسن نجمی ڈائرکٹر نجم فاؤنڈیشن،مولانا رضوان احمد صاحب جامع مسجد سرائے دانا پور، مولانا فاروق صاحب پاٹلی پترا کالونی، مولانا گوہر امام قاسمی امام شاہی سنگی مسجد ، مولانا سجاد ندوی ، مولانا خالد سیف اللہ امام کالونی، جناب انجینئر احسان الحق صاحب ، جناب عزیز الحسن صاحب، جناب مرزا حسین بیگ صاحب انچارج بیت المال امارت شرعیہ ،جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال امارت شرعیہ ، مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ ، مولانا سہیل اختر قاسمی معاون قاضی امار ت شرعیہ،مولانا مفتی احتکام الحق صاحب نائب مفتی امارت شرعیہ، مولانا قمر انیس قاسمی رئیس المبلغین، مولانا افتخار احمد نظامی معاون ناظم، جناب اصفر صاحب وارڈ کاؤنسلر سبزی باغ، جناب سید خبیب صاحب، جناب ارشد رحمانی صاحب،جناب شکیل حسن ایڈوکیٹ، جناب ایم ٹی خان صاحب،جناب اعجاز صاحب، جناب شمس الحق صاحب نگراں شعبۂ تعلیم امارت شرعیہ، جناب نصیر الدین انصاری پرنسپل ایم ایم آر ایم ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، مولانا راشد العزیری ندوی، جناب عرفان صاحب کے علاوہ المعہد العالی کے اساتذہ و طلبہ ، ٹیکنیکل و اسپتال اور امارت شرعیہ کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔