امارت شرعیہ:ملک کی ایک مثالی دینی وشرعی تنظیم

رضوان احمد ندوی
اسلام مسلمانوں کو نظم واتحاد کے ساتھ زندگی گذارنے کی تعلیم دیتا ہے وہ انتشار اور خود سری کو قطعا بر داشت نہیں کرتااس لئے کسی مسلمان کے لیے یہ ہرگزجائز نہیں کہ وہ انفرادی زندگی میں تو خدا کے احکام کی پیروی کرے مگر اجتماعی زندگی میں من مانی اورخودرائی کی راہ اختیارکرے ایسی زندگی کسی طرح بھی اسلامی زندگی نہیں کہی جاسکتی۔ جس اسلام نے خالص عبادات جیسے انفرادی اعمال کو بھی ایک خاص نظم وڈسپلن کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا ہو وہ اجتماعی زندگی میں انتشار او رخود سری کو کیسے برداشت کرسکتاہے، اسلام کا یہ خاص وصف ہے جواسے سارے ادیان ومذاہب سے ممتاز کرتاہے کہ اس کے جملہ احکام ونظام میں اجتماعیت کی روح کارفرماہے۔ اسلام کی یہی وہ خصوصیت ہے جس نے عرب کے وحشی اور آپس میں پشتہا پشت تک لڑنے والے قبائل میں اخوت وہمدردی کا بے پناہ جذبہ پیدا کردیا اورایک ایسی طاقت بنادیا جس کو قرآن پاک کے بلیغ الفاظ میں بنیان مرصوص(سیسہ پلائی ہوئی دیوار ) سے تعبیر کیاگیا ہے۔ لہٰذا اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ تنظیم واتحاد اورطاقت وقوت کا اصل سرچشمہ اسلام کی بتائی ہوئی جماعتی زندگی میں پوشیدہ ہے۔ اوریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جماعتی زندگی کا کوئی تصور مرکزیت کے بغیرنہیں کیاجاسکتا۔ اسلامی حکومتوں میں یہ مرکزیت خلیفہ یاحکمرانوں کو حاصل ہوتی ہے، جس کے ذریعہ اسلام کے تمام اجتماعی احکام وقوانین جاری ونافذ ہوتے ہیں اورسارے مسلمان اس کی اطاعت کرتے ہوئے ایک اجتماعی نظام میں منسلک رہتے ہیں۔ اب یہ سوال پیداہوتاہے کہ جہاں قوت واقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ ہوتو کیاایسے ملک میں وہ سارے احکام وقوانین جو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے متعلق ہیں ترک کردئیے جائیں گے؟نہیں ہرگز نہیں۔بلکہ ایسی صورت میں اسلامی شریعت کی رو سے مسلمانوں پرواجب ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی صالح اور دین دار شخص کو اپنا امیرشریعت (شرعی سردار) منتخب کرلیں اوراس کے ذریعہ ممکن حد تک تمام شرعی امور کا اجراء ونفاذعمل میں لائیں اور ان کوامیر کی اطاعت کاجو حکم دیاگیا ہے اسے پورا کریں۔’’یٰاَیُّہاَ الَّذِیْنَ آمَنُوْااَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔‘‘اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی ،اوراس امیر کی اطاعت کرو(یعنی حکم مانو) جوتم مسلمانوں میں سے ہو۔
خدا کا شکر ہے کہ علماء کرام اور دردمندانِ ملت اس فریضہ سے غافل نہ رہے اورآج سے تقریباً۹۹؍سال پہلے انہوں نے صوبہ،بہارواڑیسہ کے مسلمانوں کی ایک شرعی تنظیم قائم کردی جوامیرشریعت کے ماتحت مسلمانوں کو منظم ومتحدرکھنے اورنظام شرعی کے قیام وتحفظ کے لیے مسلسل کوشش کررہی ہے۔ پورے یقین کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ اسلام جس اجتماعی زندگی کا مسلمانوں سے مطالبہ کرتاہے، موجودہ دور میں امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ اس کی بہترین عملی شکل ہے۔
۱۳۳۹ ؁ھ میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادرحمۃ اللہ علیہ نے اس فریضۂ دینی کی طرف علماء کو متوجہ کیا، اجتماعی نظام کے قیام کی دعوت دی اور حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ ، حضرت مولانا شاہ بدرالدین صاحبؒ سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ، قطب دوراں حضرت مولانا محمدعلی مونگیررحمۃ اللہ علیہ خانقاہ رحمانی مونگیر کی تائید وحمایت سے۱۹۲۱ء میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میںآیا۔ ملک کے مشاہیرعلماء اورمشائخ نے روزاول ہی سے امارت شرعیہ کے قیام، اس کے نصب العین اور طریقۂ کار کی پرزور تائید کی اور یوم تاسیس سے اب تک ننانوے سال کی مدت میں امارت شرعیہ ملت کی عظیم خدمات انجام دے رہی ہے اوراس کا اثربہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ اور بنگال سے باہر پورے ملک میں محسوس کیاجاتاہے۔ اہم ملی مسائل میں اس کے جرأت مندانہ فیصلوں پراعتبار کیاجاتاہے۔اس وقت امارت شرعیہ امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کی قیادت اور ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی کی نظامت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
امارت شرعیہ کا نظامِ کار
امارت شرعیہ کانظام کار آٹھ بنیادی اوراہم شعبوں شعبۂ تبلیغ، شعبۂ تنظیم،شعبۂ تعلیم، دارالقضاء، دارالافتاء، دارالاشاعت، تحفظ مسلمین، بیت المال پر مشتمل ہے جن کے ذریعہ دین وملت کی جملہ اہم خدمات انجام پارہی ہیں اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت اور کار گذاری روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے،ان کے علاوہ بھی کچھ دیگر ذیلی شعبے ہیں ، جو اپنے دائرے میں کام انجام دے رہے ہیں۔
۱۔شعبۂ دعوت وتبلیغ:
شعبۂ دعوت و تبلیغ امارت شرعیہ کا اہم ترین شعبہ ہے جو مسلمانوں میں دین سے گہراتعلق پیدا کرنے اور غیرمسلموں تک اسلام کی دعوت کاکام انتہائی نامساعد حالات میں بھی انجام دیتارہاہے، غیراسلامی رسم کو مٹانے، اتحاد وتنظیم کے ساتھ زندگی گذارنے، معاشرہ کی اصلاح، معروف کو جاری کرنے اور منکرات کو مٹانے کی راہ میں اس شعبہ کے ذریعہ بیش بہا خدمات انجام دی گئی ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ قدرتی حادثات اورفرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کرنا( جو بڑااہم کام ہے) حضرات مبلغین وعمال ہی کی محنت اورجذبۂ اخلاص وایثار سے ا نجام پاتاہے۔شعبہ دعوت میں کئی ممتاز علماء کرام کی بھی خدمات حاصل ہیں۔
۲۔شعبۂ تنظیم:
اس شعبہ کے ذریعہ مسلمانوں کو کلمہ کی بنیاد پر متحد کیا جاتاہے افتراق وانتشار سے بچایا جاتاہے اورایک امیر کے ماتحت رہ کر زندگی گذارنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اب تک بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ کے تقریباً۸۵۰۰مقامات پر امارت کی تنظیم قائم ہوچکی ہے، لیکن پوری آبادی کے تناسب سے کام ابھی بہت باقی ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں تنظیم قائم نہ ہو۔مسلمانوں کی طاقت کی اصل بنیاد تنظیم ہی ہے۔تنظیم واتحاد ہی کے ذریعہ ملت اسلامیہ کی تعمیرنو کا کام ہوسکتاہے۔اسی لئے اس کے ذریعہ بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں وفود کے دورے ہوا کرتے ہیں۔
۳۔دارالافتاء:
امارت شرعیہ کے اس اہم شعبہ سے ملک وبیرون ملک سے آئے ہوئے ہزاروں دینی مسائل کے جواب دیئے جاتے ہیں، اب تک ساڑے پانچ لاکھ سے زائد فتاویٰ کے جوابات دئیے جاچکے ہیں ۔ان فتاویٰ کی پانچ جلدیں’’فتاویٰ امارت شرعیہ‘‘ کے نام سے طبع ہوکر منظر عام پرآچکی ہیں، چھٹی جلدکی ترتیب کا کام جاری ہے۔یہ اہل علم کے لئے گرانقدر علمی سرمایہ ہے۔
۴۔دارالقضاء:
امارت شرعیہ کا یہ سب سے اہم اوراپنی نوعیت کا منفرد شعبہ ہے،یہاں مسلمانوں کے باہمی جھگڑے بالخصوص طلاق، فسخ نکاح اوروراثت وغیرہ کے مقدمات کافیصلہ ہوتاہے۔ دوسری نوعیت کے سول مقدمات بھی یہاں فیصل ہوتے ہیں۔اب تک ۷۳۰۰۰ ہزار مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں،مرکزی دارالقضاء کے علاوہ بہار ، جھارکھنڈ اور بنگال کے ۶۶؍ مقامات پر دارالقضاء قائم ہیں اور قضاۃ مقرر ہیں۔ مرکزی دارالقضاء میں اوسطاً سالانہ پانچ سو مقدمات دائر ہوتے ہیں ۔دارالقضاء میں صرف ڈاک خرچ کے لیے فیس لی جاتی ہے۔
۵۔دارالاشاعت:
امارت شرعیہ کے اس شعبہ سے دینی ومذہبی موضوعات پرکتابیں اور رسالے شائع ہوتے ہیں۔ اب تک ایک سو سے زیادہ کتابیں اور رسالے شائع ہوچکے ہیں۔امارت شرعیہ کاترجمان ’’نقیب‘‘ ہفتہ وار اسی دارالاشاعت سے شائع ہوتاہے۔ جو امارت شرعیہ کا تحریری چہرہ ہے، نقیب کی ایک نہایت روشن تاریخ ہے۔ اس نے ہمیشہ دین وملت کی ترجمانی نہایت دلیری اورجرأت کے ساتھ کی ہے اور مسلمانوں کی ہرموقع پررہنمائی کی ہے۔ ملکی اور ملی مسائل میں حق گوئی اور بے باکی اس کا طرۂ امتیاز رہاہے۔امارت شرعیہ کی خدمات سے واقفیت کے لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کا سالانہ چندہ تین سوروپئے ہے۔تجارتی اصولوں پرکتابوں کی فروختگی کے لیے ’’مکتبہ امارت‘‘ قائم ہے جہاں سے امارت شرعیہ کی شائع کردہ کتابوں کے علاوہ دیگر دینی کتابیں بھی فروخت کی جاتی ہیں۔
۶۔تحفظ مسلمین:
مسلمانوں کے جان ومال اورعزت وآبرو کی حفاظت،ان کے مذہب وشرعی قوانین کو حکومت کے دست بُرد سے بچانا، مسلمانوں کے حقوق کاتحفظ اوراس کے لیے مطالبہ کرنا، ناگہانی آفات اور فرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر مصیبت زدوں کی مدد، سرکاری نصابی کتابوں کی ا صلاح کے لیے جدوجہد کرنا وغیرہ اس شعبہ کے خاص مقاصد ہیں۔ ایسے تمام موقعوں پر امارت شرعیہ کی خدمات بے مثال رہی ہیں۔ بہار اور ملک کے بعض دوسرے مقامات پرہونے والے فسادات میں امارت شرعیہ کے کارکنوں کو فوراً پہنچ کر ریلیف پہونچانا اور مسلمانوں میں خوف وہراس دور کرکے اعتماد پیدا کرنا، مسلم پرسنل لا، بابری مسجد، مسلم اوقاف وغیرہ کے تحفظ کے سلسلہ کی تحریکات میں قائدانہ حصہ لینا اس شعبہ کی خاص کارگزاریاں ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی سیاسی صورت حال اور وقتی حالات کے اتارچڑھاؤ کا مسلمانوں کے ملی وجود پر جواثر پڑتاہے اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کے لیے امارت شرعیہ کے ذمہ دار حضرات ہمیشہ متوجہ رہتے ہیں اوراس کے لیے برابرجدوجہد کرتے رہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کواس ملک میں ایک باعزت شہری کا مقام حاصل رہے۔
۷۔شعبۂ تعلیم:
امارت شرعیہ کے اس شعبہ کے تحت صوبہ کے مختلف مقامات پردینی مکاتب ومدارس قائم ہیں۔دینی تعلیم کی ترویج واشاعت امارت کے خاص مقاصد میں ہے۔ تقریباً ڈھائی سو مکاتب امارت شرعیہ کی نگرانی میں چل رہے ہیں،امارت شرعیہ کی کوشش یہ ہے کہ ہر آبادی میں مکتب کا خود کفیل نظام قائم ہو جائے جس کے لئے کوشش جاری ہے ،اس کے علاوہ مسلمان طالب علموں میں جدید اعلیٰ تعلیم کی ہمت افزائی کرنا بھی اس کا مقصد ہے۔چنانچہ میڈیکل اورانجینئرنگ کے غریب طلبہ کو وظائف دینے کے لیے ایک فنڈ بھی ’’تعلیمی فنڈ‘‘ کے نام سے قائم ہے اس سے انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ماہانہ وظیفہ دیاجاتاہے۔
۸۔بیت المال:
بیت المال امارت شرعیہ کا کلیدی شعبہ ہے جو دراصل ایک اسلامی خزانہ بھی ہے جس میں مسلمانوں کی زکوٰۃ وصدقات اورعطیات کی رقوم جمع ہوکراپنے صحیح مصارف میں اوراہم دینی وملی کاموں میں خرچ ہوتی ہیں۔ مندرجہ بالاشعبوں اوران کے ذریعہ انجام پانے والی تمام خدمات کے مصارف بیت المال ہی پورا کرتاہے۔ اس طرح اس کو تمام شعبوں میں بنیاد کی حیثیت حاصل ہے اوران کی کارکردگی کازیادہ ترانحصار بیت المال کے استحکام پر ہے۔یہاں سے فقراء ومساکین، بیوگان ویتامیٰ اور دوسرے محتاجوں کو مستقل امداد اور ماہانہ وظیفے دئیے جاتے ہیں، دور دراز علاقوں میں قائم مکاتب کے اساتذہ کو بھی وظائف دئیے جاتے ہیں۔ دینی تعلیم حاصل کرنے والے نادار طالب علموں کو ماہانہ اور وقتی وظائف جاری کئے جاتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات،حادثات کے موقعوں پر مصیبت زدوں کی مدد کی جاتی ہے ان کے علاوہ دین وملت کے مختلف کاموں میں بیت المال سے رقمیں صرف کی جاتی ہیں۔ سال رواں کا بجٹ چھ کروڑدس لاکھ چھیاسی ہزارروپئے سے اوپر ہے جو مسلمانوں کے تعاون سے پورے ہوتے ہیں، اگر آپ بھی بیت المال میں تعاون کرنا چاہتے ہیں تو۔ چک اور ڈرافٹ پرصرف بیت المال امارت شرعیہ پٹنہ لکھیں اور رقم ناظم بیت المال امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ ۸۰۱۵۰۵ کے پتہ پرارسال کردیں۔
۹۔المعہدالعالی:
امارت شرعیہ کے شعبۂ ا فتا وقضا کے تحت فقہ اسلامی سے خصوصی مناسبت رکھنے والے فضلاء مدارس کی تربیت کا کام ’’المعہدالعالی‘‘ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔اس میں ہرسال شوال کے مہینہ میں صوبہ وبیرون صوبہ کے باصلاحیت علماء کا داخلہ لیا جاتاہے۔ اس کانصاب دوسالہ ہے،اس میں درس کے ساتھ افتاء کی عملی تربیت، قضاء کے مقدمہ کی سماعت اورفیصلہ لکھنے کی عملی مشق کرائی جاتی ہے،اس شعبہ سے ایک سو سے زائد ایسے علماء تربیت پاکر نکل چکے ہیں جوملک کے مختلف حصوں میں افتاء وقضاء اوردرس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
۱۰۔دارالعلوم الاسلامیہ:
حالات وضرورت کے پیش نظرمورخہ ۲۱؍شوال ۱۴۲۰ھ مطابق ۲۸؍جنوری ۲۰۰۰ء روز جمعہ کو امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ کی نگرانی میں ایک دینی وتعلیمی ادارہ ’’دارالعلوم الاسلامیہ‘‘ کے نام سے قائم ہوا جو رضا نگر گون پورہ پھلواری شریف پٹنہ میں واقع ہے۔ اس کے لیے ایک صاحب خیر جناب احمد رضاخان صاحب مرحوم نے پانچ بیگھا سے زائد اراضی خرید کر وقف کردی۔ چند سالوں تک یہ ادارہ قاضی نگر پھلواری شریف میں کرایہ کے مکان میں چلتا رہا اب الحمدللہ ۱۸؍فروری ۲۰۰۶ء سے یہ ادارہ اپنی سرزمین پرچل رہا ہے ۔ حفظ وتجوید کے علاوہ فضیلت تک کی تعلیم ہورہی ہے اور تعلیم وتربیت وطعام وقیام کا بہترین نظم ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ادارہ روزا فزوں ترقی پرہے اور عوام وخواص کواعتماد حاصل ہے۔چار سوسے زائدطلبہ کے طعام وقیام کانظم من جانب ادارہ ہے یہ ادارہ امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ کی نگرانی میں قائم ہے لیکن چونکہ اس کے اخراجات مستقل ہیں اور مستقبل میں مزید اخراجات کی توقع ہے اس لیے اس کے حساب وکتاب کانظم بیت المال امارت شرعیہ سے الگ رکھاگیا ہے۔
۱۱۔وفاق المدارس الاسلامیہ:
ہندوستان میں دینی مدارس نے شرعی علوم کی حفاظت وترویج اور نئی نسل کی دینی تعلیم وتربیت کا عظیم الشان فریضہ ا نجام دیاہے۔ ہمارے صوبہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ میں یہ مدارس ہزاروں کی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان مدارس کی ایک بڑی تعداد بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے ملحق ہے اورانہیں سرکاری امداد بھی ملتی ہے۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد ان آزاد دینی مدارس کی ہے جو ملحق نہیں ہیں۔ایسے مدارس کے درمیان ربط وہم آہنگی پیدا کرنے، ان کے معیار تعلیم کو بلندکرنے کے لیے امارت شرعیہ کے تحت ’’وفاق المدارس الاسلامیہ‘‘ کاقیام ہواہے، جس کے ذریعہ یکساں نصاب تعلیم کااجراء، اساتذہ کی ٹریننگ اورمدارس کے سالانہ امتحان کا نظم ہوتاہے۔
۱۲۔کتب خانہ:
کتب خانہ امارت شرعیہ کی مرکزی بلڈنگ کی دوسری منزل کے ایک وسیع ہال میں واقع ہے جس میں مختلف علوم وفنون کی کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجودہے۔علمی وتحقیقی کام کرنے والے حضرات صوبہ وبیرون صوبہ سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لائبریری کو مزیدعلمی وتحقیقی مراجع وفتاویٰ سے آراستہ کیاجارہا ہے تاکہ علمی وتحقیقی کام کرنے والے پوری طرح استفادہ کرسکیں۔
۱۴۔امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈویلفیئرٹرسٹ:
امارت شرعیہ نے دینی تعلیم کے فروغ کے ساتھ اعلیٰ ٹیکنیکل تعلیم کو عام کرنے پرتوجہ دی ہے۔اس کے لیے ’’امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈویلفیئر ٹرسٹ‘‘قائم ہے۔ اس ٹرسٹ کے ذریعہ آٹھ ٹیکنیکل ادارے پھلواری شریف، دربھنگہ، پورنیہ،راورکیلا اور ساٹھی(مغربی چمپارن) میں چل رہے ہیں ۔رانچی،بہار شریف،گریڈیہہ اورکٹیہارمیں انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر کاکام جاری ہے۔اسی طرح عام انسانی خدمت کے لیے مولاناسجاد میموریل اسپتال پھلواری شریف میں قائم ہے جس میں آؤٹ ڈور کے ساتھ عورتوں وبچوں کے لیے بیڈ کانظم ہے۔ غریب مریضوں کو مفت دوائیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے تحت پیتھالوجی،آنکھ کے علاج، اکسرے، ٹیکہ وغیرہ کا بھی نظم ہے۔ ہرسال آنکھ کے آپریشن کا مفت کیمپ بھی لگتاہے۔اس کے تحت تین ایمبولینس گاڑیاں ہیں جو ۲۴ گھنٹے خدمت کے لیے تیاررہتی ہے۔امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات کے پیش نظر اصحاب خیر سے مخلصانہ اپیل ہے کہ امارت شرعیہ کی بھر پور مدد کریں اور یقین مانئے کہ کار خیر میں حصہ لینے سے اللہ تعالیٰ کاروبار میں برکت عطا فرماتے ہیں اور زندگی کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرتے ہیں۔