القاب کے سہارے کی ضرورت کیوں؟


عبیدالرحمن
ریسرچ سکالر بنارس ہندویونیورسٹی
لقب يا القاب اصل نام كے علاوه اس علامت سے عبارت ہے، جس سےتعارف،تعظيم يا تحقير كا اظہار ہو۔ مؤخرالذكر شرعاً ممنوع ہے؛ليكن جہاں تک تعارفی يا تعظيمی القاب يا خطاب كی بات ہے،تو بعض القاب وخطاب اتنے عجيب وغريب اور بھاری بھركم ہوتے ہيں كہ ان کے حامل كو نوع انسانی ميں شمار كرناتوہين كے مرادف لگتا ہے۔بعض اوقات القاب كی اتنی كثرت ہوتی ہے كہ اصل نام كو تلاش كرنا جوئے شير لانا ہوتا ہے۔ بر صغير ميں شائع كسی اردو كتاب كا سرورق ہويا دينی، اصلاحی جلسہ كا پوسٹر،اس ميں سب سے قابل ديدچيز یہی مختلف النوع القاب ہوتے ہيں، سابقہ القاب عموماً تعظيمی ہوتے ہيں،جس كی شروعات خطيب الاسلام، مفكر اسلام، حكيم الاسلام، فقيہ النفس، تاج الشريعہ جيسی بھاری بھركم اصطلاحات كے ساتھ حضرت،علامہ، مولانا، امير شريعت، پير طريقت، بحرالعلوم، البحر العلام، البحر القمقام کے ساتھ ہو كر جملہ معترضہ كے طور پر ايک چھوٹاسا نام ہوتا ہے،پھر اس كا تعارفی اختتام قاسمی،ندوی، سلفی، رضوی،نقوی كى ساتھ ساتھ دعائيہ كلمات جيسے مد ظلہ العالی، دامت بركاتہم، عمت فيوضہم پر ہوتا ہے۔يہ وه القاب يا خطاب ہيں،جن كا تعلق”زبر“سے ہے ۔”زير“ والے خطاب اس كے علاوه ہیں ان كا ايک الگ مقام اور درجہ ہے جن كا تعلق”زير قيادت، زير صدارت، زير سيادت، زير خطابت، زير نظامت “جيسے عنوان سے ہوتا ہے۔سابقہ القاب كا تعلق تو تعظيمی يا تعارفی ہے؛ كسی درجہ ميں اس كو قبول كيا جا سكتا ہے،مگر لاحقہ الفاظ مسلكی تعارف كے غماز ہوتے ہيں اور اپنے مكاتب فكر كا پتا بتاتے ہيں،كتاب كا قاری ہو يا خطاب كا سامع اسی لاحقہ كلمات سے فيصلہ كرتا ہے كہ مصنف يا خطيب اپنا ہم مشرب ہے كہ نہيں،اور اگر اپنا ہم مسلک اورہم مشرب ہے،تو اس پر كامل اعتماد كرتا ہے،حالانكہ معاملہ اس كے برعكس بھی ہو سكتا ہے۔
مولانا تقی عثمانی صاحب ”علمائے ديوبند كا دينی رخ اور مسلكی مزاج“ كے پيش لفظ ميں لكھتے ہيں:
”چنانچہ ان درسگاہوں سے كچھ ايسے حضرات بھی نكل كر ميدانِ عمل ميں آئے ہيں، جو تعليمی حيثيت سے بلاشبہ دارالعلوم ديوبند كی طرف منسوب ہيں؛ ليكن انہيں اكابر علمائے ديوبند كا مسلک ومشرب يا ان كا وه متوارث مزاج ومذاق، جو صرف كتابوں سے حاصل نہيں ہوتا، ٹھيک ٹھيک حاصل كرنے كا موقع نہيں ملا، اس لحاظ سے وه مسلكِ علمائے ديوبند كے ترجمان نہيں تھے؛ ليكن تعليمی طور پر دارالعلوم ديوبند يا اس كے فيض يافتہ كسی اور درسگاه سے منسوب ہونے كی بنا پر بعض لوگوں نے انہيں مسلکِ علمائے ديوبند كا ترجمان سمجھ ليا اور ان كی ہر بات كوعلمائے ديوبند كی طرف منسوب كرنا شروع كرديا“۔
مكمل واضح ہے كہ ہر ”قاسمی“ مسلکِ علمائے ديوبند كا ترجمان نہيں ہو سكتا اور نہ ہی ہر ”رضوی“ كا بريلوی ہونا ضروری ہے (كيونكہ پھر تو تاريخ دارالعلوم ديوبند ہی مشكوک ہو جائے گی)بعض افراد واقعی ان القاب كے حقدار ہوتے ہیں اور انہيں ان القاب كی بيساكھيوں كی ضرورت نہيں ہوتی ہے،مگر وه لوگ،جو ان القاب كے حقدار نہیں ہيں،انہيں مولانا كے بدلے مولوی اور حضرت كے بدلے جناب كہ ديا جائے تو ناراض ہو جاتے ہيں۔ مزيد یہ کہ مخاطب کو اس كی تعليم وتربيت پر طعنہ بھی گوش گذار كرديتے ہيں،جبكہ يہی حضرات ابن تيميہ، ابن قيم، ابن رجب، ابن حجر رحمهم الله كا ذكر ايسے كرتے ہيں،جيسے يہ حضرات ان كے سامنے طفل مكتب ہوں۔ واقعہ يہ ہے كہ علمی انحطاط جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، القاب کی بيساكھياں ويسے ويسے لمبی ہوتی جارہی ہيں۔
شيخ اكرام ”آب كوثر“ كے ديباچہ طبع ثانی ميں رقمطراز ہيں:
”مولانا مناظر احسن گیلانی ”الفرقان“ كے ولی اللہ نمبر ميں لكھتے ہيں:”علمائے اسلام كے جو تذكرے ادھر تيار ہوئے ہیں، ان ميں ديكھیے بقول نواب علامہ مولانا حبيب الرحمن شيروانی سوائے البحر العلام،البحر القمقام“ كے ہم قافيہ الفاظ كے سوانح حالات كی ايک سطر نہيں ملتی، اولياومشائخ كے جو تذكرے ہيں، وه بھی ان سے بہتر نہيں، بيسيوں؛بلكہ بسا اوقات سيكڑوں صفحے الٹے جائيں، تب كام کی ايک سطر ملتی ہے۔بقول شمس العلماشبلی نعمانی چيونٹيوں كے منہ سے دانہ دانہ جمع كر كے خرمن تيار كرنا پڑتا ہے۔”
مولانا مناظر احسن گيلانی بھی نواب، علامہ، مولانا، جيسے الفاظ كےاستعمال سے اپنے  آپ كو نہيں روک سكے، خود شيخ اكرام بھی شبلی نعمانی كا تذكره شمس العلما كےبغير نہ كر سكے۔القاب كے بےجا استعمال كی یہ عادت اتنی كہنہ ہو چكی ہے كہ اس كے استعمال پر تنقيد كے باوجود علمابھی محفوظ نہ ره سكے ،كسی بڑی اور علمی شخصيت سے عقيدت ركھنا،ان كى ساتھ عزت اور احترام كا معاملہ كرنا ايک ضرورى امر ہے؛ليكن القاب كا جھوٹا سہارا ديكر بےجا عقيدت كا اظہار اورمرتبے سے زياده كا درجہ دينا علمی بدديانتی بھی ہے،”حضرت كا ثانی نہ ہونا “،”علمی دنيا ميں بہت بڑا خلا ہو جانا “بہت ممكن ہے اسی سلسلے كی ايک كڑی ہو۔
ثاقب اكبر اپنے آرٹيكل ”القاب كى بيساكھياں“ ميں لكھتے ہيں:
”كتنے كم نام ہيں جو علم كے حوالے سے تاريخ كو ياد ره گئے ہيں اور كتنے وه افراد ہيں،جن كے ناموں كے ساتھ القاب كا بھاری بوجھ لٹكاہوا تھا اور وه تاريخ کی گہراائيوں ميں اتر كر گم ہو گئے ہيں“۔
عام ساده دل اور ساده انديش افراد سے كيا كہنا،بات تو اہل علم سے كہنے كی ہے۔عالم ہونا بڑا اعزاز اور بڑا رتبہ ہے؛ليكن عالم يا علامہ كہلوانا كتنا بڑا دعوى ہے۔جب بے علم ،جاہل،عالم نما اور حريص على الدنيا اور مرتبہ ومنصب كے درپے افراد اپنے آپ كو عالم يا علام كہلا رہے ہوں، تو اہل علم كو شرم آتی ہے كہ ان كے لیے وہی القاب استعمال كیے جائيں،جو بے شمار نا اہلوں كے لیے استعمال كیے جا رہے ہيں۔
حقيقت يہ ہے كہ لقب،خطاب يا خاص طرح كا لباس كسی كو عالم نہيں بناتا، عالم ہوتا ہے اور وه لقب يا لباس كا مرہون منت نہيں ہوتا ۔جب حسب حال الفاظ اہل افراد كے ساتھ استعمال ہوتے ہيں،تو يہ لفظوں كے لیے بھی اعزاز ہوتا ہے، جبكہ لقب اور خطاب محروم عن الفضل افراد كے لیے بيساكھی ہے اور خاص طرح كا لباس ايسے لوگوں كا بہروپ ہے۔ ”
تحريری تخليق ہو يا خطاب اس كے درست وغلط ہونے كا فيصلہ تحقيقی معيار ہونا چاہیے ”راستی بالاے طاعت است“ كو سامنے ركھ كر واقعات اور شخصيتوں كو پركھنا چاہیے؛ تاكہ حقيقت سے پرده اٹھے،ان تمام ہستيوں كو عزت واحترام کی نظر سے ديكھنا چاہیے، جنہوں نے كوئی علمی كام كيا ہو يا قومی زندگی كی دھارا بدلنے ميں اہم كردار ادا كيا ہو، فى زمانہ جو صورت حال ہے كہ عقيدت كی اندھی تقليد ميں بہ كر القاب وخطاب كا جھوٹا سہارا دينے کا ايک عام رواج ہو گيا ہے، اس سے واجبی طور پر پرہيز ہو، اورایک معتدل فكر ان لوگوں كے درميان فروغ پائے، جو القاب وخطاب كے استعمال كے ديوانے ہيں اور جو لوگ اس كے بالكل مخالف ہيں۔
بقول علامہ اقبال :
فقيہِ شہر قاروں ہے لغت ہاے حجازی کا