الفاظ واسلوب ہماری شخصیت کے آئینے ہیں

ڈاکٹرمسعودجاوید
الفاظ کا انتخاب اور تعبیر کا اسلوب method of expression دو دھاری تلوار ہیں،اس میں آپ کی ذرا سی بے توجہی مفید کو غیر مفید بنا دے گی،productive کو counter productive بنا دے گی،آپ کے نفع پہنچانے کے مقصد کو نقصان پہنچانے والا بنا دے گی؛اس لئے ہمیں زبان و قلم کے استعمال کے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے، کمان سے تیر نکل جانے کے بعد اسے لوٹا نہیں سکتے؛ لیکن انسانوں کے پاس اللہ رب العزت نے مواقع فراہم کیےہیں کہ غلطیوں کی نشاندہی ہو جائے،تو ان کی تصحیح کی جائے، اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور اپنی بات اور خیالات کو ہر حال میں حق ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کی جائز ناجائز تاویل کرنے اور جواز پیش کرنے سے احتراز کیا جائے،اس طرح کا رویہ اپنا کر تصادم اور انتشار سے ہم بچ سکتے ہیں،ہر شخص میری رائے سے متفق ہو یہ ضروری نہیں ہے، اسی طرح میں بھی کسی کی رائے کا مخالف ہو سکتا ہوں اور یہ صحت مند معاشرہ کی پہچان ہے”احترام الرأي والرأي الآخر” اس ضمن میں جو شئی سب سے زیادہ قبیح ہے،وہ ہے اپنی رائے کے خلاف "نہ” نہیں سننے کی عادت اور قوت برداشت کی کمی، جس سے مغلوب ہو کر مد مقابل کے لیے رکیک الفاظ کا استعمال، ذاتیات پر حملہ ، نفس موضوع کو چھوڑ کر اس کے ماضی کی خامیوں یا فیملی بیک گراؤنڈ پر گفتگو یا سیاق و سباق کو چھپا کر اس کو گھیرنے کی کوشش یا غیر پارلیمانی،غیر شائستہ، غیر شریفانہ زبان کا استعمال کیاجاتاہے، اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کا مخاطب جھوٹ بول رہا ہے،تو پارلیمانی زبان میں اسے جھوٹا نہیں کہ سکتے،اسے اس طرح کہنا ہوگا : آپ کی بات میں صداقت نہیں ہے، آپ کا بیان سچائی سے خالی ہے،ظاہر ہے اس tone میں بات کرنے سے متکلم اور مخاطب دونوں طیش سے خالی ہو جاتے ہیں،مگر افسوس یہ ہے کہ جن لوگوں کو تحمل اور رواداری کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، وہی لوگ زیادہ آپے سے باہر اور نہ صرف سوقیانہ زبان؛ بلکہ گالی گلوچ کا استعمال کرنے لگے ہیں اور پھر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ ان لوگوں نے روایتی انداز میں محض تعلیم یعنی لکھنا پڑھنا سیکھا ہے، تربیت ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ہےـ
اگر دل میں اچھا جذبہ ہو، فکر نیک نیتی پر مبنی ہو تو اس کے ذہن میں یہ ضرور رہنا چاہیے کہ اچها انسان ماں کی گود سے گور تک سیکھتا رہتا ہے،کبھی کسی قسم کا عار محسوس نہیں کرتا؛ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ پرفیکٹ کوئی نہیں ہے اور ہر شئی کا مکمل علم کسی کو نہیں ہے اور غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں؛اسی لیے جس عبارت سے غلط فہمی اور انتشار کا خدشہ ہو،اس جگہ حفظ ماتقدم کے طورپربین القوسين brackets میں وضاحت کردے، اسpre emotive measure
سے صاحبِ تحریر خود بھی محفوظ رہتا ہے اور قارئین کو بھی انتشار سے بچاتا ہےـ