اقلیتوں اور دلتوں پرحملے روکنے میں مودی حکومت ناکام

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں انکشاف
نئی دہلی:19؍جنوری(قندیل نیوز)
بین الاقوامی حقوق انسانی تنظیم’’ ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے ’ورلڈ رپورٹ 2018‘جاری کرتے ہوئے موجودہ مرکزی حکومت کے بارے میں سخت تبصرہ کیاہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حکومت ملک میں اقلیتیوں پر حملوں کونہیں ورک سکی۔رپورٹ کے پہلے پیراگراف میں لکھا گیا ہے کہ سال 2017میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور حکومت کے ناقدین کومنظم تشدد ایک بڑھتے ہوئے خطرے کی شکل میں سامنے آیا، جنہیں اکثر حکمران بی جے پی گروپوں کی حمایت کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کی طرف سے انجام دیاگیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت فوری یا قابل اعتماد تحقیقات میں ناکام رہی جبکہ کئی سینئر بی جے پی لیڈروں نے ہندو سخت گیرقوم پرستی کو عوامی طور پر فروغ دیا، جس نے تشدد کو اور بڑھایا۔رپورٹ میں مرکز کی مودی حکومت کو اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں پرہونے والے حملوں کو روکنے اور ان مقدمات کی صحیح سے جانچ نہ کروانے کیلئے سخت ناگواری کااظہاکیا ہے۔رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اقلیتی فرقوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف حکمران بی جے پی سے منسلک شدت پسند ہندو گروپوں کی بھیڑ کے حملے پورے سال ان افواہوں کے درمیان جاری رہے کہ انہوں نے گوشت کے لئے گایوں کی خرید و فروخت کی یا ان کا قتل کیا۔حملہ آوروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنے کے بجائے پولیس نے مویشیوں کی ہلاکت کو روکنے کے قوانین کے تحت متاثرین کے خلاف شکایت درج کی۔نومبر کے اختتام پر اس طرح کے 38حملے ہوئے اور اس میں اس سال 10افراد ہلاک ہوئے۔ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ میں آر ایس ایس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے آخر کار اس طرح کے تشدد کی مذمت کئے جانے کے بعد بھی بی جے پی کی اتحادی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)نے گؤ-اسمگلنگ اور لوجہاد روکنے کے نام پر پانچ ہزار’’دھارمک سینانی‘‘ کی بھرتی کا اعلان کیا۔ ہندوؤں کے گروہوں کے مطابق مبینہ لو جہاد کے ذریعہ ہندو خواتین سے شادی کرنے اور اسلام میں شامل کرنے کی مسلمان مردوں کی سازش ہے۔رپورٹ شائع ہونے کے بعد ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں حکام نے خود ہی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں اور خطرے کا سامنا کر رہے دوسرے گروپوں پر مسلسل ہو رہے حملوں سے انہیں بچانے میں ناکام رہے۔اس رپورٹ میں اقلیتوں پر ہو رہے حملوں کے علاوہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی اور قانون نظام کے نام پر انٹرنیٹ خدمات کو بند کرنے کے معاملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔عالمی رپورٹ کے 28ویں حقوق انسانی حقوق نگرانی نے دنیا کے 90سے زائد ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کی اطلاع دی ہے۔