افرازالاسلام شہادت سانحہ

سپریم کورٹ نے راجستھان اور مرکزی حکومت سے مانگا جواب
نئی دہلی:16؍فروری ( قندیل نیوز)
راجستھان کے راجسمند میں مذہبی جنونی وحشی قاتل شمبھولال کے ذریعہ محمد افرازالاسلام کے وحشیانہ قتل کے معاملے سپریم کورٹ نے راجستھان حکومت اور مرکز سے جواب مانگا ہے۔ شہیدکی بیوی گلبہار بی بی نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرانے کے لئے درخواست دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وحشیانہ قتل کے ویڈیو کوانٹرنیٹ اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس سے ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہدایات دے کہ وہ آن لائن مبینہ ’لو جہاد‘سے متعلق جو ویڈیو ہے اس کے سرکولیشن پر روک لگائے۔ اس طرح کی ویڈیو کی وجہ سے دونوں فرقوں کے درمیان تعصب بڑھتا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی مجروح ہوتی ہے ۔غور طلب ہے کہ محمد افرازالاسلام کو راجستھان کے راجسمندمیں شمبھولال ریگر جیسے مذہبی جنونی نے وحشیانہ قتل کرکے پٹرول چھڑک کر بہیمانہ طور پر جلا دیا تھااس کے بعد بھی اس کا مذہبی جنون او رنفرت کی بھڑاس کم نہیں ہوئی تو اس نے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے اپنی بزدلی کا احمقانہ عمل انجام دیا تھا ۔ راجستھان حکومت نے فوراً متحرک ہوتے ہوئے قاتل درندہ شمبھولال ریگرکو گرفتار کرلیا تھا ۔ اس کے بعد بھی بلوائیوں اور مبینہ لوجہاد کے حامی نیز سماج دشمن عناصر اس قاتل کی حمایت میں ریلی نکالی تھی ۔قاتل شمبھولال ریگر کی حمایت میں کئے گئے تبصرے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ یونیورسٹی کے ذریعہ وائرل ہوئے تھے، حتی کہ عدلیہ میں پیشی کے دن قاتل کے حامیوں نے عدالت کے احاطے اور عمارت پر بھگوا جھنڈے لہرانے سے بھی دریغ نہ کیا تھا۔