اعظم خان کے بہانے محمدعلی جوہر یونیورسٹی کوختم کرنے کی سازش

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم، دہلی
رامپور میں واقع عظیم مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب "محمد علی جوہر یونیورسٹی” ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جو اپنی تعمیر وتدریس سے زیادہ اپنے خلاف ہونے والے مقدمات سے پہچانی جاتی ہے. جس وقت اعظم خان نے اس یونیورسٹی کا خاکہ اسمبلی میں پیش کیا گیا تو سیاسی دنیا میں ایک بھونچال آگیا کہ آزاد ہندوستان میں پہلی بار اتنا بڑا تعلیمی ادارہ بنانے کا اعلان ہوا تھا. اس لئے جو طاقتیں مسلمانوں کو صرف "بڑھئی،مکینک اور رنگ پینٹر ہی دیکھنا چاہتی ہیں انہیں کب گوارا ہوسکتا تھا کہ مسلمان اعلی درجے کی تعلیم حاصل کر سکیں ـ بس اسی وقت سے یونیورسٹی نگاہوں کا کانٹا بن گئی اور سازشوں کا دور شروع ہوگیا:
اس وقت مرکز کی کانگریس حکومت نے "یونیورسٹی بِل” کو طویل وقت تک لٹکائے رکھا،بمشقت منظوری بھی دی تو لفظ "مولانا” ہٹا کرـ
وہ تو بھلا ہو یوپی کے گورنر جناب عزیز قریشی کا،جنہوں نے تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک ہفتے کی قلیل مدت میں "التوا میں پڑے ہوئے جملہ معاملات” کو منظوری دیکر یونیورسٹی کے افتتاح کا راستہ ہموار کیا.حالانکہ انہیں اپنے اس عمل کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور مرکزی کانگریس حکومت نے انہیں جلد ہی منظر نامہ سے ہٹا دیا.
2014 میں مرکزی حکومت بھلے تبدیل ہوگئی لیکن یونیورسٹی مخالفت کا جذبہ وہی رہا.رہ رہ کر یونیورسٹی پر مختلف حیلوں بہانوں سے حملے کئے جاتے رہے.لیکن 2019 کے پارلیمانی الیکشن کے بعد فرقہ پرستوں نے بانی یونیورسٹی اعظم خان کے بہانے یونیورسٹی کے خلاف محاذ کھول دیا جس میں جانے انجانے بعض مسلم لیڈران بھی فرقہ پرستوں کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں ـ
سازشوں کا جال:
12 جولائی اعظم خان کے خلاف زمین قبضانے کا پہلا مقدمہ درج ہوا.
17 جولائی کو ایک ہی دن میں آٹھ مقدمے درج کئے گئےـ
محض ایک ہفتے کی قلیل مدت میں 26 کسانوں نے اعظم خان کے خلاف زبردستی زمین خریدنے،قبضانے کا مقدمہ درج کرایا گیا. یہ سبھی کسان عالیہ گنج واطراف کے رہنے والے ہیں ـ
اس سے پہلے ضلع انتظامیہ نے کوسی ندی کے نشیبی علاقے کی 5 ہیکٹیر زمین پر ناجائز قبضہ کا مقدمہ بھی درج کیاـ
اس طرح ہفتے بھر میں 27 مقدمے درج کئے گئےـ
18 جولائی کو ضلع انتظامیہ نے اعظم خان کو "زمین مافیا” قرار دیا گیاـ
25 جولائی کو رامپور ایس ڈی ایم کورٹ نے یونیورسٹی گیٹ توڑنے کا حکم دیا اور ساتھ 3 کروڑ 60 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیاـ
اس سے قبل رامپور سِول لائن سے سُوار جانے والے روڈ پر بنے ہوئے اردو گیٹ کو بھی ضلع انتظامیہ نے ڈھا دیا تھاـ
زمین مافیا قرار دئے جانے کے بعد انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ(ED)نے رامپور پولیس سے جملہ مقدمات کی تفصیل مانگی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کا کیس درج کیا جاسکےـ
کل ملا کر اب تک اعظم خان پر 62 مقدمے درج کئے جا چکے ہیں.
مقدمات کی تفصیل اور تیزی کو دیکھتے ہوئے ایک عام انسان بھی کہہ سکتا ہے کہ یہاں "قانون کی پاسداری” سے زیادہ "کسی کو زیر کرنے کی جلدی ہے” ورنہ اسی ملک سے ہزاروں کروڑ روپے لیکر بھاگ جانے والے مالیا،نِیرَو مودی جیسوں پر کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟
ان زمینوں کو خریدے ہوئے دس سال گزر گئے لیکن کبھی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی.لیکن حالیہ پارلیمانی الیکشن میں ایک ہائی پروفائل لیڈر کو ہرانے اور پارلیمنٹ میں مسلم مسائل پر بولنے کے بعد سے ہی اچانک سارے "مظلومین” کو آگے بڑھا دیا گیا آخر ان کسانوں کو ورغلانے والے کون ہیں؟
مسلم لیڈران وعوام سے گزارش:
اعظم خان سے آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں, مگر جوہر یونیورسٹی ان کی ذاتی نہیں بلکہ قوم کا سرمایہ ہے، آپ کے کسی عمل سے اس پر آنچ نہ آنے پائےـ
جن لوگوں نے مقدمات کرائے ہیں اگر واقعی ان کی زمینیں کم قیمت میں بھی خریدی گئی ہیں تو یہ سوچ کر مقدمات واپس لے لیں کہ ہمارے اجداد تعلیم کے لئے بڑی بڑی جائدادیں وقف کرتے آئے ہیں ـ
اعظم خان ذاتی طور پر جیسے بھی ہوں، ان کے بعض سیاسی فیصلے بھلے ہی متنازع ہوں مگر انہوں نے جوہر یونیورسٹی جیسی تعلیم گاہ بنائی ـ آزادی کے بعد اتنے بڑے لیول پر بننے والی غالباً پہلی مسلم یونیورسٹی ہے، اب اس کی حفاظت بھی قوم کی ذمے داری ہےـ یونیورسٹی میں اعظم خان کے گھر خاندان کے ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے بچے تعلیم پا رہے ہیں.ایسی تعلیم گاہیں قوم کا روشن مستقبل تعمیر کرتی ہیں ـ
جوہر یونیورسٹی جیسے قومی ادارے کا نقصان قوم کے ہر فرد کا نقصان ہےـ
ممکن ہے اعظم خان کے عمل سے نقصان اٹھانے والوں کی کاروائی سے اس وقت اعظم خان کو نقصان پہنچ جائے مگر فرقہ پرست طاقتیں صرف اعظم کو نقصان نہیں پہنچائیں گی بلکہ اعظم کی آڑ میں یونیورسٹی کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں گی ـ
ایک فرد کا نقصان تو صرف ایک فرد کا ہوتا ہے, مگر قوم کا نقصان سب کا نقصان ہوتا ہےـ
خوب یاد رکھیں!
اعظم خان صرف ایک بہانہ ہے، قوم مسلم اور جوہر یونیورسٹی اصل نشانہ ہے. اگر یونیورسٹی کو نقصان پہنچا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ـ