اعظم خان؛چندباتیں

محمدشارب ضیاء رحمانی

ممبرآف پارلیمنٹ اعظم خان سے بہت سے امورپراختلاف کیاجاسکتا ہے اورتنقید کی جاسکتی ہے،لیکن ان کی یونی ورسیٹی کوجس طرح نشانے پرلیاجارہاہے،قوم کوساتھ دیناچاہیے
سردست معاملہ ایوان میں بیان کا ہے جس میں جم کران کامیڈیاٹرائل کیاگیا،غلطی کس کی تھی ہم اس پربحث نہیں کریں گے،جن لوگوں نے ایوان کی کارروائی کی مکمل ویڈیودیکھی ہے وہ سمجھ سکتے ہیں،ٹی آرپی اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے آدھی بات پیش کرنا تومیڈیاکی عادت ہے،اس وقت دیش کا سب سے بڑا پرابلم الیکٹرانک میڈیاہائوس ہے
ہاں کہنایہ تھاکہ کل جماعتی میٹنگ میں اسپیکرکواختیار دیاگیا ہے کہ وہ اعظم خان پر فیصلہ کری‍ں لہذا ان کی پارٹی کو معافی منگوانے کہاگیاہے،اطلاعات ایسی بھی ہیں کہ معافی نہ مانگنے پر رکنیت جاسکتی ہے اور یہی سنگھیوں کی منشاء ہے،اس درمیان ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اعظم خان معافی نہ مانگ کر ازخود ایوان سے استعفی دے سکتے ہیں
میرے خیال میں انہیں ہرگز ایسانہیں کرناچاہیے،جس دن سے وہ جیتے ہیں، آنکھوں میں کھٹکتے رہے ہیں خصوصا پہلی تقریر کے بعد،انہیں توبہانہ چاہیے،اویسی،اعظم،امتیاز،برق،دانش، حسن جیسے لوگ کھٹک رہے ہیں،اعظم خان کوچاہیے کہ وہ پارلیمنٹ میں معافی مانگ لیں،یہی بہترحکمت عملی ہوگی اوروہ اوران کی پارٹی ایوان میں نام لے کرتجویز پیش کرے کہ پارلیمنٹ میں جن جن ممبران نے انہیں بدتمیز یا نامناسب الفاظ کہے ہیں،اسپیکر غیرجانب داری برتتے ہوئے ان سے بھی معافی منگوائیں،ورنہ کارروائی کریں،ساتھ ہی میڈیاکابھی احتساب کرناچاہیے،استعفی دینا ہرگز دانش مندی نہیں ہے کیوں کہ دشمن کے ایجنڈے کوپوراکرناعقل مندی نہیں،جودشمن چاہے ہم وہی کرلیں،یہ فراست تو نہیں،غیرکے مقصداورسازش کوسمجھنااورناکام بنانا دانش مندی ہے،ان کوپریشانی یہی ہے کہ ایسے لوگ جیت کرکیوں آگئے،مسلم دانش وران اورخیرخواہان،اعظم خان کو مجوزہ استعفی سے روکیں،سمجھائیں،عقل مندی سے سازش کوناکام بناناچاہیے،تھوڑاتحمل سے کام لیں کبھی جھک کر بھی سربلند ہواجاتاہے