اس وقت سنجیدگی کی ضرورت ہے،جنگی جنون کی نہیں!

عبدالعزیز
گزشتہ پونے پانچ سال میں نریندر مودی نے ملک کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔ ادھر کئی مہینوں سے اپوزیشن کے اتحاد نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اور الیکشن کا سامنا ان کیلئے بہت ہی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ پہلے رام مندر کا مدعا گرمانے کی بھر پور کوشش کی گئی لیکن مودی اور ان کی جماعت نے محسوس کیا کہ رام مندر کے سہارے ان کی نیّا پار نہیں لگے گی۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اسمبلیوں کے الیکشن میں ان کی ہار نے یہ ظاہر کر دیا تھا کہ نہ رام مندر کا مدعا کام کرے گا اور نہ ہی کوئی اور مدعا کام کر رہا ہے۔ لے دے کے سرحد پر تناؤ اور جنگجویانہ باتیں ہی ان کو الیکشن میں جیت سے ہمکنار کرسکتی ہیں۔ اس لئے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ الیکشن سے پہلے جنگ کا جنون پیدا ہوگا یا پیدا کیا جائے گا اور مودی اور ان کی ٹیم کیلئے الیکشن جیتنا آسان ہوجائے گا۔ پلوامہ میں خود کش حملہ کے نتیجے میں 40 فوجی جوانوں کی ہلاکت مودی کیلئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔ پورا ملک سوگ میں مبتلا ہوگیا لیکن مودی کو اپنی منزل نظر آنے لگی۔ ایک طرف وہ پاکستان سے بدلہ لینے اور فوجوں کو سب کچھ کرنے کی تیاری کی باتیں جنگجویانہ انداز میں کر رہے تھے تو دوسری طرف اپنی فلم کیلئے شوٹنگ میں مصروف تھے اور چناؤ کی مہم میں بھی مشغول نظر آ رہے تھے۔ یہاں تک کہ آل پارٹی میٹنگ میں بھی جو پلوامہ حملہ کے نتیجے میں بلائی گئی تھی ان کو شرکت کرنے اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں سے بات چیت کرنے کا وقت نہیں ملا۔ ان کی جگہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے میٹنگ کی صدارت کی۔ اس کے کئی سوالات کانگریس پارٹی کے ترجمان کی طرف سے اٹھائے گئے لیکن ان میں سے کسی ایک کا بھی مودی جی جواب دینے سے قاصر رہے۔
گزشتہ 26فروری کو پاکستان کی سرحد میں گھس کر فضائی حملے ہندستان کی طرف سے کئے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے کئی ٹریننگ کیمپوں کو تہس نہس کر دیا گیا اور 350 دہشت گرد مار گرائے گئے۔ اس کی وجہ سے پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی پائلٹوں کو ان کے کارنامے پر بھر پور داد دی۔ معاملہ کچھ اس طرح تھا کہ زبان کھولنے کی کوئی ہمت نہیں کر رہا تھا لیکن گزشتہ روز پاکستان کے فضائی حملے سے ملک میں جو خوشی پائی جاتی تھی، وہ کافور ہوگئی اور معاملہ بالکل الٹ گیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوئی کہ ہماری فوج یا حکومت اب تک 350 دہشت گردوں کے مارے جانے یا ان کی لاشوں کی کوئی تصور نہیں دکھاسکی جبکہ ہر جنگی جہاز میں کیمرہ نصب رہتا ہے۔ اور نہ ہی وہ دہشت گردوں کے کیمپوں کے تہس نہس کرنے کا کوئی پکچر نہ میڈیا میں دکھایا گیا اور نہ ہی ڈیفنس کی طرف سے دکھانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے برعکس بی بی سی کے اردو اور ہندی نیوز کے نامہ نگار جائے وقوع پر پہنچے اور وہاں کے باشندوں سے بات چیت کی۔ ایک نے نہیں کئی نے طیاروں سے چار دھماکوں کی گواہی دی لیکن سب نے بتایا کہ ایک شخص زخمی ہوا اور ایک دو مکانوں کی دیواروں کو نقصان پہنچا۔
پاکستان کے ’جیو ٹی وی‘ کے صحافی اور اینکر حامد میر نے گزشتہ روز بم زدہ علاقے کا دورہ کیا۔ انھوں نے کافی تصویریں ٹی وی پر دکھائیں اور فیس بک میں بھی وہ تصویریں آگئی ہیں۔ جس میں بی بی سی کے نمائندوں سے جن لوگوں نے گفتگو کی تھی اس کی صداقت ایک حد تک سامنے آئی۔ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے انھوں نے ایک عجیب و غریب بات کہی اور دکھائی۔ انھوں نے سارے علاقے کا دورہ کیا لیکن ایک لاش بھی انھیں نہیں ملی اور نہ خون کا دھبہ کہیں نظر آیا۔ ایک مرے ہوئے کوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہی ایک لاش پورے خطے میں نظر آئی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ہندستانی حکومت کو حرکت میں آجانا چاہئے۔ اگر واقعی کچھ فوجی طیاروں نے کارہائے نمایاں انجام دیا ہے تو اسے پیش کرنا چاہئے۔
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندستان کے دو لڑاکو طیارے کو مار گرایا اور ایک پائلٹ جسے زخمی حالت میں پایا گیا اسے اسپتال میں بھیج دیا گیا اور دوسرے کو کسٹڈی میں لے لیا گیا۔ پاکستانی حکومت زیر علاج پائلٹ کی تصویر تو نہیں دکھا سکی لیکن ایک تالاب کے کنارے گرے ہوئے ایک پائلٹ کی تصویر بہت ہی بھیانک حالت میں دکھائی ۔ پہلے تو یہ دکھایا کہ عام لوگ اس پہ حملہ آور ہیں لیکن پاکستانی فوجی جوان اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور وہ فوجی جوان پائلٹ کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔ انڈین ایئر فورس کے ونگ کمانڈر کا نام بھی ابھینندن برتمان بتایا اور اسے چائے پلاتے ہوئے سوال و جواب کرتے ہوئے دکھایا۔ آج (28فروری )کے ہندستانی اخباروں میں بھی یہ تصویر شائع ہوئی ہے۔ اس طرح کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں حکومت ہند کو جن کا جواب دینا چاہئے۔
ملک کے مشہور صحافی اور اینکر ونود دُوا نے بھی کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ’’پہلا سوال تو یہ کیا ہے کہ آکر کیا وجہ ہے کہ وزارت دفاع یا وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی بات قیدی پائلٹ کے سلسلے میں نہیں کہی گئی۔ ایک معمولی شعبہ کی طرف سے صرف یہ بتایا گیا کہ پائلٹ گمشدہ ہے اور پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان کی حراست میں ہے۔ اس طرح کے بہت سے سوالات ونود دوا نے کئے ہیں جو ’فیس بک‘ اور ’یوٹیوب‘ میں سنا اور دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن انھوں نے جو سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ملکوں کی نوک جھونک سے بڑی اور سنگین جنگ کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ اپنی باتوں کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہمارے ملک کے فوجی سربراہ جنگ کا ایک منصوبہ یا ایک نقشہ بنائیں گے اور ہمارے مخالف ملک کے سربراہ ایک دوسرا منصوبہ اور نقشہ ترتیب دیں گے۔ لیکن خدانخواستہ جب جنگ شروع ہوگی تو کسی کو بھی جنگ کا کیا رخ لے گی اندازہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس پر کوئی قابو پاسکے گا۔ جنگ کرنا یا اس کی ابتدا کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اس کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ انھوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اپنی شخصیت کی بلندی اور الیکشن کیلئے دونوں ملکوں کو جنگ کی آگ میں جھونکنا عقلمندی ہوگی؟ آج یہ سوال بہت سے لوگ کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت سمجھداری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔ ہمارا ملک ایک اور پاگل پن کے بحران کی طرف کشاں کشاں چلا جارہا ہے، وہ ہے اپنی خود کی لائی ہوئی باہمی تباہی ، جس کی وجہ سے ہندستان اور پاکستان طاعون جیسی مہلک اور خطرناک بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں‘‘۔
گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ملک کے باشندوں کو خطاب کرتے ہوئے نہایت سمجھداری کی بات بیان کی ہے۔ ’’انھوں نے پہلی بات تو یہ کہی ہے کہ وہ اپنی قوم کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں گزشتہ روز کی صبح میں ڈیولپمنٹ میں ہوا ہے اس کے بارے میں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس کا ہر طرح سے ثبوت دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کا بھرپور احساس ہے کہ ستر سال میں دونوں ملکوں کے درمیان جو جنگیں ہوئی ہیں ان کے نتیجے میں جو لوگ مارے گئے ہیں ان کیلئے مجھے بیحد افسوس ہے اور جو زخمی ہوئے ہیں ان کا بھی درد میرے دل میں پایا جاتا ہے۔ اور جو ان کے اہل خاندان اور عزیز و اقارب ہیں ان کے درد و غم کو میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔ میں ہندستان کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہوں۔میں کسی طرح بھی نہیں چاہتا کہ ہماری زمین دہشت گردوں کیلئے استعمال کی جائے۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے ملک کی سلامتی اور حاکمیت کی قربانی نہیں دے سکتا ہے ۔ اس لئے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے اور اس کے بعد میرا ایک ہی موقف تھا کہ ہر طرح کی دہشت گردی سے ملک کو نجات دلائی جائے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے ملک کی فوجی کارروائی کا ذکر کیا اور آخر میں کہا کہ اب ہم ہندستان کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں کہ عقلمندی اور حسن تدبر کا مظاہرہ کریں کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں ملکوں میں جو جنگیں ہوئی ہیں اس کا اندازہ کسی کو نہ تھا کہ وہ جنگیں کتنی تباہی مچائیں گی اور کیا گل کھلائیں گی۔ دنیا کو اندازہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم ایک مہینہ میں ختم ہوجائے گی لیکن اسے ختم ہونے میں کئی سال لگ گئے۔ ہٹلر جنگ عظیم دوم میں بری طرح ہار گیا کیونکہ روس کے بارے میں اسے صحیح اندازہ نہیں تھا۔ ہم ہندستان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو ہتھیار ہمارے پاس ہے، وہ ہتھیار آپ کے پاس ہے اگر جنگ چھڑتی ہے تو غلط اندازے (Miscalculations) کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے ہیں؟ اگر جنگ شروع ہوئی تو اسے روکنے میں نہ ہم کچھ کرسکیں گے اور نہ نریندر مودی۔ لہٰذا ہم ایک بار پھر ہندستان کو دعوت دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں امن مذاکرات کیلئے۔ ہمیں انتہائی دکھ ہے کہ جو کچھ پلوامہ میں ہوا اور ہم دہشت گردی پر بات کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ بہتر احساس اور گمان دونوں ملکوں پر غالب ہوگا۔ ہم لوگ ایک ساتھ بیٹھیں اور اپنے معاملات اور مسائل کو بیٹھ کر بات چیت سے حل کریں‘‘۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ٹیلی ویژن کے اس خطاب کو انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ نے 28فروری کے شمارے میں صفحہ اول پر جگہ دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخبار مذکور کو عمران خان کی تقریر وزنی معلوم ہوتی ہے۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے آج (28فروری)اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’’پاکستان آئی اے ایف پائلٹ کو سلامتی کے ساتھ ہندستان جلد بھیجے۔ بالاکوٹ میں جو کچھ ہندستان نے کیا ہے وہ ’جیش محمد‘ کے پلوامہ میں خود کش حملہ کی وجہ سے کیا ہے۔ پاکستان کے زیر حراست پائلٹ ہماری ذمہ داریوں کو بہت کچھ ظاہر کرتی ہیں۔ مجبور اور بے بس پائلٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کے اندر تنازع انسانی جان کیلئے کس قدر خوفناک ہے۔ یہ ایک بہت بڑی قیمت ہوتی ہے جو قوموں اور انسانوں کو چکانی پڑتی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہم سب کو اپنے فرائض کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ حکومت ، سیاسی لیڈر، میڈیا اور سیول سوسائٹی کو چاہئے کہ احتیاط کے ساتھ گفتگو کریں اور سنجیدگی اور سمجھداری کا مظاہر کریں۔ یہ چند واقعات جو گزشتہ کئی دنوں میں رونما ہوئے ہیں یہ ایک طرح سے آغاز ہیں اور اس کے ہر ایک قدم سے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں‘‘۔ مذکورہ اخبار کا اداریہ اس لائق ہے کہ اسے ملک کا ہر شہری پڑھے اور اسے عام کرنے کی کوشش کرے، تاکہ حالات میں سدھار ہو۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068