Home اسلامیات اسلام کی خوبیاں دلائل کی روشنی میں

اسلام کی خوبیاں دلائل کی روشنی میں

by قندیل

 
شرف الدین عبدالرحمن تیمی
1- اسلام کی خوبیاں ایمان کے اصول پر مبنی ہیں،جس کا حکم اللہ نے اپنے بندوں کو دیا،اور اس پر نبیوں اور رسولوں نے اتفاق کیا.ارشاد باری ہے: "حقیقت معنوں میں نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق ومغرب کی طرف پهیر لو،بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر،یوم آخرت پر،فرشتوں پر،قرآن کریم اور تمام نبیوں پر”(سوره بقره:177)
اور تقدیر کے متعلق فرمایا: "ہم نے ہر چیز کو ٹهیک اندازے کے مطابق پیدا کیا ہے”(سوره قمر:49)
2- ارکان اسلام میں جو تامل کرے گا،وہ اسلام کی عظیم منفعت کو جان لے گا،اور جو شخص اس بات کو واضح طور پر دیکھنا چاہے،وہ قرآن پاک کی ان آیتوں کی تلاوت کرے ۔”اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقوی کی راه اختیار کرتے،تو ہم آسمان وزمین کی برکتیں ان پر کهول دیتے،لیکن انہوں نے رسولوں کو جهٹلایا،تو ہم نے ان کے کئے کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا.کیا بستیوں والے اپنے آپ کو اس بات سے امن میں سمجه رہے ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر دن کے وقت آجائے جب وه کهیل کود رہے ہوں.کیا وه اللہ کی چال سے اپنے آپ کو امن میں سمجه رہے ہیں،اللہ کی چال سے تو خساره اٹهانے والے ہی اپنے آپ کو امن میں سمجهتے ہیں”(سوره اعراف:96-97-98-99)
3- اسلام نے اتحاد واتفاق کا حکم دیا ہے اور اختلاف وانتشار سے منع کیا ہے.اللہ فرماتا ہے”اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تهام لو اور اختلاف نہ کرو”(سوره آل عمران:103)
4- اسلام رحمت وبرکت اور احسان کا نام ہے”اور حسان کرو،بے شک اللہ تعالی احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے”(سوره بقره:195)
5- یہ حکمت وفطرت اور عقل وصلاح وفلاح کا مذهب هے.”پس(اے میرے نبی)آپ یکسو ہو کر دین اسلام پر قائم رہئے،یہ اللہ کا وه دین فطرت ہے جس کے مطابق اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں کوئ تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے،یہی سچا اور صحیح دین ہے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے”(سوره روم:30)
6- اسلام کے بڑے عظیم حقوق ہیں،اور یہ تمام اسکی بهلائ اور بہتری کے لئے ہیں.جیسے جہاد کا حکم وغیره. بالفاظ دیگر اسلام کے جتنے بھی حقوق ہیں وہ تمام کے تمام انسان کی بہتری اور بھلائی کے لیے ہیں،جیسے صدقہ و خیرات کا حکم :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ پوشیدہ صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو فرو کرتا ہے اور ظاہراً صدقہ دوزخ کی آگ کے لئے سپر کا کام دے گا،صدقہ بری موت سے بچاتا اور بلا کو ٹالتا، اور عمر زیادہ کرتا ہے اور فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔(مستدرک علی الصحیحین،حدیث نمبر: 6491-)
7- مختلف قسم کے معاملات اور ساجهے داری،لین دین جس میں لوگوں کے لئے فائدے ہوں اس شرط کے ساته کے فریقین راضی ہوں اور جس چیز کی بیع کی جا رہی ہو وه معلوم ہو.اللہ کے نبی کا فرمان ہے”حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص نے تابیر کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے الاّ یہ کہ خریدنے والا پھل مشروط کر دے اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا وہ مال بیچنے والے کا ہے (بخاری ومسلم)
تشریح :
تابیر کی صورت یہ ہے کہ کھجور کے نر درخت کا پھول کھجور کے مادہ درخت میں رکه دیتے ہیں عربوں کا اعتقاد تھا کہ اس وجہ سے زیادہ پھل پیدا ہوا کرتا ہے۔
8- پاکیزه کهانا پینا،پہننا اور نکاح وغیره کو مباح کیا اور بری اور گندی چیزوں سے منع فرمایا.اللہ کا ارشاد ہے”اور ان کے لئے پاکیزه چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث وگندی چیزوں کو حرام کرتے ہیں”(سوره اعراف:157)
9- مخلوق کے مابین ،والدین واولاد،خویش واقارب اور میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کو واجب کیا.اللہ کا فرمان ہے”اور آپ کے رب نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ لوگو! تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو،اور ماں باپ کے ساته اچها برتاؤ کرو”(سوره بنی اسرائیل:23) اور حدیث میں ہے”جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکهتا ہے وه اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہ دیں(بخاری)
10- حدود یہ جرائم کے لحاظ سے اسلامی نظام کی نگرانی کرتا ہے.اللہ تعالی اس کی وضاحت کرتے ہوئے گویا”اور اے اصحاب عقل وخرد! قصاص میں تمہارے لئے بڑی زندگی ہے،شاید کہ تم اس کی وجہ سے قتل وخونریزی سے بچتے رہوگے”(سوره بقره:179)
11- شارع نے احسان کرنے پر ابهارا ہے.نبی کا یہ فرمان”زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا”(ابوداؤد،علامہ البانی نے اس کی تصحیح کی ہے)
12- شارع نے جو اصول وضوابط بنائے ہیں یہ بنیادی طور پر اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ہیں اور یہ انصاف پر مبنی ہیں.اللہ کا یہ ارشاد”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور تم میں جو اقتدار والے ہیں،پهر اگر کسی معاملہ میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو”.(سوره نساء:59)
13- ہر معاملہ میں مشوره لینا،اس لئے کہ یہ ٹهوس اور صحیح رائے کی طرف رہنمائ کرتا ہے.اللہ تعالی اس کی طرف اشاره کرتے ہوئے ارشاد فرمایا”کسی بهی معاملے میں باہم مشوره کرو”(سوره آل عمران:159)
14- شرع کوئ ایسی چیز نہیں پیش کرتی جو عقلا مستحیل ہو اور وه علم صحیح کے خلاف ہو،بلکہ وه ہر جگہ اور ہر وقت صالح ہے.اللہ فرماتا ہے”اللہ تعالی کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیاده مکلف نہیں کرتا”(سوره بقره:206)
15-چهوٹے،بے وقوف یا پاگل وغیره کے مالوں کو ترک کر دینا اولی ہے،جب کہ اس کے مال میں تصرف کرنے سے نقصان ہو.اللہ تعالی اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا”اور یتیموں(کے سمجه بوجه)کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وه سن بلوغ کو پہونچ جائے،اگر تمہیں ان کی ہوشمندی کی طرف سے اطمینان ہوجائے تو ان کا مال ان کے حوالے کردو”سوره نساء:6)
استاد:سن فلاور اسکول نرائن پور،دربهنگہ
رابطہ:7352623849

You may also like

Leave a Comment