اسلام اور شعائر دین کا تحفظ امارت شرعیہ کا بنیادی مقصد: مولاناولی رحمانی

امارت شرعیہ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کئی اہم ملی و ملکی مسائل پرتبادلۂ خیال کیاگیا
پٹنہ، : (پریس ریلیز)
امارت شرعیہ پھلواری شریف کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ آج مورخہ ۲۳؍ جولائی ۲۰۱۸ءمطابق ۹؍ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ روز سوموار کو میٹنگ روم امارت شرعیہ میں امیر شریعت حضرت مولانامحمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ کی صدارت میں منعقد ہو ئی ، جس میں کئی اہم ملی مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا اور تجاویز پاس ہوئیں ۔میٹنگ نے فیصلہ کیا کہ شعبۂ تنظیم امارت شرعیہ کے تحت نقباء امارت شرعیہ کے ہر سال کم از کم چھ اضلاع میں اجلاس منعقد کیے جائیں ، جس میں ملی اور ملکی مسائل سے انہیں واقف کرایا جائے ، نیز امارت شرعیہ کا واضح تعارف اور پیغام سے بھی ان کو روشناس کرایا جائے ، نیز انہیں ان کی ذمہ داریاں بھی یاد دلائی جائیں ۔رویت ہلال کے مسئلہ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور طے پایا کہ ضلعی سطح پر بھی رویت ہلال کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے اور مقامی طور پر بھی لوگوں کو چاند دیکھنے اور اپنی شہادت امارت شرعیہ یا مقامی رویت ہلال کمیٹی تک پہونچانے کی ترغیب دی جائے ۔عوامی رابطہ کو مضبوط کرنے کے لیے وفود کے دوروں میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا۔مجلس عاملہ میں شعبہ جات امارت شرعیہ کی کارکردگی رپورٹ کا خلاصہ بھی پیش ہوا ، جس پر ارکان نے اطمینان کا اظہار کیا ، اس موقع پر حضرت امیر شریعت نے ارکان عاملہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ ہمارے بزرگوں کی امانت ہے اور اس وقت جو کچھ بھی ترقی ہو رہی ہے ، اس میں آپ حضرات کا تعاون شامل ہے۔ آپ نے کہا کہ اسلام اور شعائر اسلام کا تحفظ ہمارا بنیادی مقصد ہے ، امارت شرعیہ سے وابستہ تمام افراد کو امارت شرعیہ کے قیام کے مقاصد پر ہمیشہ توجہ رکھنی چاہئے اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ملی اتحاد اور مسلم معاشرہ کی جملہ تعمیر و ترقی کی فکر کرنی چاہئے ۔ رویت ہلال کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے کہا کہ یہ ایک خالص دینی و شرعی مسئلہ ہے لہٰذا اس کو شرعی بنیادوں پر ہی حل کرنا چاہئے ،آپ نے کہا کہ تمام مقامی قاضیوں اور مقامی سطح پر تمام دینی مزاج رکھنے والے لوگوں کو رویت ہلال کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے اور بروقت اپنی شہادت امارت شرعیہ یا مقامی رویت ہلال کمیٹی کو پہونچانی چاہئے۔
ناظم امار ت شرعیہ نے اس موقع پردفتر نظامت کی طرف سے ایک جامع رپورٹ پیش کی ، جس میں انہوں نے امارت شرعیہ کے شعبہ جات اور اس کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی قوم کی تشکیل جو ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں شریعت اسلامی کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گذار نے والی ہو، امارت شرعیہ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے ، اس مقصد کی تکمیل کے لیے امارت شرعیہ کے مختلف شعبہ جات ہیں ، شعبۂ تنظیم و تبلیغ ، دار القضاء و دار الافتا، امارت شرعیہ کے تحت چلنے والے تمام تعلیمی ادارے اسی مقصد کے حصول کے لیے سر گرم عمل ہیں۔اس کے علاوہ مسلمانوں کی جان و مال ، عزت و عصمت کی حفاظت، غریب و نادارمسلمانوں کی مدد ، اور ان کے مفادات کا تحفظ بھی امارت شرعیہ کے مقاصد کا اہم حصہ ہے ، شعبۂ تحفظ مسلمین ، امور مساجد، بیت المال جیسے شعبہ جات ان مقاصد کی تکمیل کے لیے سر گرم عمل ہیں ۔اللہ کے فضل سے امارت شرعیہ کے جملہ شعبہ جات حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کی رہنمائی میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ،دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ امارت شرعیہ کو مزید وسعت اور استحکام نصیب فرمائے اور اس کو ہر قسم کے شرور و فتن سے محفوظ رکھے۔
انہوں نے ملک کے کئی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ادھر چند برسوں سے پورے ملک میں نفرت اور تعصب کا زہر پھیلایا جا رہا ہے اور ایک منظم سازش کے تحت حکومت وقت کی شہ پر سماج دشمن عناصر اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے ، جمہوری اقدار کو تباہ کرنے اور اس ملک کی سیکولر شبیہ کو داغدار کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ان حالات میں صبر و تحمل اور ایمانی فراست سے کام لینا چاہئے اور سبھی مذہب کے سنجیدہ لوگوں کو آگے آنا چاہئے تا کہ سب مل کر ملک سے نفرت کے اس ماحول کو ختم کرنے کی کوشش کریں ، اس کے لیے منظم طریقہ پر عوامی بیداری کے ساتھ سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر بھی لگام لگانے کی ضرورت ہے ، ایک ایسی مانیٹرنگ باڈی ہو جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر نشر ہونے والے موادکا تجزیہ کرے اور اگر یہ محسوس ہو کہ اس سے نفرت کے ماحول کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے تو اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ نے اپنے زمانہ قیام سے ہی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو قائم رکھنے اور قوم و ملت کی سیاسی ، سماجی ، دینی و ملی رہنمائی کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف تین صوبوں بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ؛ بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی امارت شرعیہ کو قدر اور وقعت کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے اور اس کا اعتبار اور اعتما د عوام الناس کے دلوں میں قائم ہے ۔جب جب ملک و قوم پر کوئی آفت آئی یا کسی بھی قسم کے فتنے نے سر ابھارا ،ہمیشہ امارت شرعیہ نے آگے بڑھ کر امت کی رہنمائی کی اور امت کی کشتی کو نہ صرف بحفاظت ساحل پر پہونچایا؛ بلکہ اس کے وقار اور اعتبار کو بھی بلند کیا۔
اس میٹنگ میں ملک کے ممتاز علماء و دانشور کے سانحۂ ارتحال پردلی رنج و غم کا اظہار کیا گیاجن میں خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسم صاحب صدر مہتمم دار العلوم وقف دیوبند، حضرت مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب صدر المدرسین و ناظم تعلیمات دار العلوم وقف دیوبند،حضرت مولانا عبد الوہاب خلجی صاحب سابق ناظم جمیعۃ اہل حدیث،حضرت مولانا عبد اللہ کاپودروی گجرات، مولانا مفتی عبد السلام صاحب، تاج الشریعۃ حضرت مولانا محمد اختر رضا خان صاحب،امارت شرعیہ کے قدیم خادم مولوی قمر الدین ، پروفیسر ناصر جلالی کٹیہار ، ماسٹر نور الہدیٰ ویشالی، ماسٹر محمد ضیاء الہدیٰ ویشالی، مولانا عماد الدین قادری، جناب الحاج سکندر صاحب،جناب ڈاکٹر کمال اشرف پٹنہ، جناب مولانا محمد اسلم قاسمی دیوبند،مولانا ابو ظفر قاسمی رحمانی، پروفیسر ثوبان فاروقی، مولانا مفتی عبد اللہ پھول پوری ، مولانا عبد القیوم رائے پوری، سابق وزیرحکومت بہار جناب شاہد علی خان، مولانا شمیم احمد نعمانی، مولانا ممتاز علی مظاہری مدھوبنی، مولانا عبد المالک اثری، مولانا محمد ہارون، مولانا انوار احمد جامعی، جناب صفی احمد صاحب دربھنگہ، جناب شرف الدین صاحب کٹہری، والدہ مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی، جناب محمد ایوب صاحب، مولانا ادریس رشیدی چترا،جناب ڈاکٹر شہاب الدین اطہر پورنیہ وغیرہ کے نام اہم ہیں ،حضرت امیر شریعت نے سبھی مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرائی۔ اجلاس کا آغاز مفتی مجیب الرحمن بھاگل پوری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، اس اجلاس میں امیر شریعت اور ناظم امارت شرعیہ کے علاوہ مولانا عبد الجلیل قاسمی قاضی شریعت، مولانا مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا، مولانامحمد ابو طالب رحمانی کولکاتا، جناب مولانا محمد شمشاد رحمانی استاذ دارا لعلوم وقف دیوبند، ایڈووکیٹ جاوید اقبال ،مولانا محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا محمد شبلی القاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ ، جناب انجینئر ابو رضوان صاحب،جناب مرزا حسین بیگ صاحب انچارج بیت المال، جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال، جناب مولانا سہیل احمد قاسمی مفتی امارت شرعیہ ، جناب محمد مظاہر صاحب سمن پورہ، جناب مولانا بدر احمد مجیبی صاحب خانقاہ مجیبیہ ، جناب مولانا عتیق الرحمن صاحب، جناب مولانا مطیع الرحمن سلفی، جناب محمد عطاء الرحمن صدیقی، جناب مولانا الحاج محمد عارف رحمانی نائب ناظم جامعہ رحمانی مونگیر،جناب مولاناعبد الباسط ندوی سکریٹری المعہد العالی، جناب مولانا محمد انور قاسمی قاضی شریعت دار القضاء رانچی، جناب مولانا محمدابو الکلام شمسی معاون ناظم امارت شرعیہ،جناب مولانا زبیر احمد قاسمی قاضی شریعت دار القضاء آسنسول، جناب مولانا محمد یحیٰ غنی صاحب شریک ہوئے۔ آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔