اسلامی پردہ: حدوداورحکمتیں


شمس تبریز قاسمی ،موتیہاری 
ریسرچ اسکالر شیخ الہند اکیڈمی، دارالعلوم، دیوبند
اسلام سراپا دین رحمت ہے اور اس کی تعلیمات و ہدایات پوری نوع انسانی کی بھلائی اور خیر خواہی پر مشتمل ہیں. اسلام نے معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے اور لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے خصوصی ہدایات   دی ہیں؛ یہاں تک کہ بلا امتیاز "من” و”تو” بہ زبانِ نبوت اعلان کیا ہے کہ:
” ایک اچھا مسلمان وہ ہے، جس سے دوسرے محفوظ ہوں. اور اسلام نے ایسے لاثانی اور بے نظیر اصول و قوانین وضع کیے ہیں، جو ایک مطمئن اور پرسکون سماج کی تشکیل و تعمیر اور اس کو پروان چڑھانے میں ہر طرح سے معین و مددگار ہیں. جہاں اسلام نے انسانوں کو انسانیت کا درس دیا ہے اور اس کو اس بات کا احساس دلایا ہے، کہ وہ ایک اشرف المخلوقات ہے اور اس حیثیت سے اس کی زندگی کیسی ہونی چاہیے؟؛ وہیں اسلام نے عورتوں کو خصوصی احکام سے نوازا ہے اور ان کے لیے ایسے احکام نافذ کیے ہیں، جو ان کی ہر طرح سے حفاظت کا ضامن ہیں اور انھیں عزت و وقار عطا کرتے ہیں؛ انھیں احکام میں سے ایک اہم حکم "پردہ” ہے. یہ پردہ عورتوں کا بہت ہی بڑا محافظ اور ان کی عزت و ناموس کا پاسبان ہے اور یہ عورتوں کے لیے ایک زبردست فصیل اور مضبوط چہاردیواری ہے، جس کے اندر رہ کر عورت پوری طرح محفوظ رہتی ہے.اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن مجید میں جا بہ جا پردے کی تلقین کی ہے اور حدیث شریف میں بھی، مثبت اور منفی؛ دونوں ہی طرح سے پردے کا حکم ملتا ہے، چناں چہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :
"وقرن في بيوتكن ولا تبرجن تبر ج الجاهلية الأولى” (الأحزاب. 23) قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تبارک و تعالٰی پیراگراف بدل کر کچھ اس طرح عورتوں کو پردے کا حکم دے رہا ہے :
"ولا يبدين زينتهن  الا ما ظهر منها و ليضربن بخمرهن على جيوبھن ” (نور. 31)اور قرآن کریم میں ہی تیسری جگہ پردے کا حکم کچھ اس طرح سے ملتا ہے :”واذا سئلتمو هن متاعا ،فسألوهن من وراء حجاب. ذلكم أطهر لقلوبكم و قلوبهن "(الاحزاب.)
حدود:مسلمان عورت، جو آزاد ہو، زر خرید باندی نہ ہو، بالغ ہوچکی ہو یا قریب البلوغ ہو ،اس کے لیے اجنبی مردوں سے پردہ کرنے کے تین درجے ہیں :
ایک یہ کہ بجز چہرہ اور ہتھیلیوں کے اور عندالبعض بہ جز پیروں کے باقی تمام بدن کو ملفوف رکھا جائے. "إلا ما ظھر منھا” کے رو سے. جیسا کہ اس کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روایت سے ہوتی ہے :
عن عائشة رضی اللہ عنہا أن اسماء بنت ابی بکر دخلت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلیھا ثیاب رقاق، فا عرض عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم وقال :یا اسماء! ان المرأۃ إذا بلغت ،لم یصلح لا ان یری منھا، إلا ھذا وأشار الی وجھہ وکفیہ "(أبو داود. کتاب اللباس،باب فیما تبدی المرأۃ من زینتھا ،ص 567)یہ پردے کا ادنی حکم ہے.
دوسرا یہ ہے کہ ہتھیلی اور پیروں کو بھی برقع وغیرہ سے چھپایا جائے. "یدنین علیھن من جلابیبھن” کی وجہ سے، نیز حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
"قدیم زمانے سے آج تک عورتوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اجنبی مردوں سے اپنے چہرے چھپاتی ہیں. (فتح الباری، ج:9 ص:222(
تیسرا درجہ یہ یے کہ عورت سراپا اپنے آپ کو چھپا کے رکھے :اس کے کپڑے پر  بھی اجنبی مردوں کی نظر نہ پڑے. چناں چہ اللہ تبارک و تعالٰی کا ارشاد ملاحظہ ہو:
"وقرن فی بیوتکن” نیز  ایک اور آیت اپنے جلوے میں یہی حکم رکھتی ہے. "واذا سئلتموھن متاعا ،فاسئلوھن من وراء حجاب”. (پردے کی یہ تینوں قسمیں "اسلام میں پردے کی حقیقت” میں مذکور ہیں)
لیکن آج کے اس پرفتن دور میں، جہاں جدید عالمی نظام یعنی "گلو بلائزیشن” کی تحریک زندگی کے ہر ہر  گوشے میں پہنچ چکی ہے، جہاں مغربی اقدار اور مغربی اخلاق کی بالادستی اور سیادت ہے، جن کی تمنا ہی یہی ہے، کہ عورتوں سے عفت و پاک دامنی اور پاکیزگی کی چادر اتار دیا جائے اور بد اخلاقی، زنا اور فحاشی وعریانیت کو سارے عالم میں اس طرح پھیلا دی جائے، کہ لوگوں کو اس میں کسی بھی قسم کی کوئی قباحت ہی نظر نہ آئے اور اہل مغرب نے اپنے اس ناپاک منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے عورتوں کو طرح طرح سے موہنے کی کوشش کی، معاش اور اقتدار میں بہتری حالت کے سبز باغ دکھا کر. ان کو گھروں کی چہار دیواری سے نکال کر، انھیں گھر کی ملکہ کی بہ جائے "شمع محفل” بنا دیااور اسلام کے پاکیزہ معاشرے کے وجود کو مسموم کرنے کے لیے، مغرب نے عورتوں کو ہی استعمال کیا ہے. اس کا اندازہ اس بات  سے لگایا جا سکتا ہے، کہ فرانسیسی استعمار نے "الجزائر” کے معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے وہاں کی فوج میں لادینیت پھیلا دی؛ لیکن پھر بھی اس کو اپنے مقصد میں مکمل کام یابی نہیں ملی، چناں چہ فرانس نے معاشریا کے ایک ماہر "روجیہ موینیہ” کا تعاون حاصل کیا، جس نے "الجزائر” کے شہر در شہر قریہ در قریہ گھومنے اور وہاں کے احوال کا جائزہ لینے کے بعد، حکومتِ فرانس رپورٹ پیش کی، جس میں اس نے کہاکہ:
”    اگر تم” الجزائر "کو ختم کرنا چاہتے ہو، تو عورت ہی ایک رستہ ہے. عورت  اسلامی اقدار کی محافظ ہے، اگر تم اس کو اسلام سے دور کرنے میں کام یاب ہوگئے، تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے مقاصد حاصل کے لیے”. ( گلو بلائزیشن اور اسلام. مصنف :مولانا یاسر ندیم. ص:352-353.)
ایسے پر خطر ماحول میں آج عورتوں کے لیے یہی بہتر اور مناسب ہے، کہ وہ اپنے تمام ہی بدن کو چھپائے؛ تاکہ وہ خود  اور دوسرے فتنے سے محفوظ رہے. جیسا کہ در مختار میں یہ مسئلہ درج ہے :
"وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجه بین رجال لا انہ عورۃ ،بل لخوف الفتنۃ” (الدر المختار مع الرد. ج:1 ص: 406. باب شروط الصلاۃ)
کن کن سے پردہ ضروری ہے :
جن لوگوں سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے. جیسے :باپ، دادا، بھائی، بھتیجا، وغیرہ؛ ان سے تو پردہ نہیں ہے، مگر ان کے علاوہ جن سے نکاح جائز ہے، ان سے پردہ ضروری ہے. منہ بولے بھائی سے بھی پردہ ضروری ہے؛ کیوں کہ اسلام میں منہ بولے بھائی کی حیثیت اجنبی مرد کی یے، یعنی ان سے شادی درست ہے. "وما جعل ادعیائکم ابنائکم ذالکم قولکم بافواھکم. واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل. ادعھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ” (أحزاب ،504).
منگیتر سے بھی پردہ ضروری ہے (شامی. ج:3 ص:11، کتاب النکاح) غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ہے؛ کیوں کہ غیر مسلم عورت اجنبی مرد کے حکم میں ہے. "والذمیۃ کالرجل الأجنبي فی الأصح ،فلا تنظر الی بدن المسلم” (در مختار. ج 2 ،ص:242، کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی النظرو المس. مطبوعہ :فیصل، دیوبند) بیٹی کے انتقال کے بعد اس کے شوہر سے بھی پردہ کرنا ضروری ہے (داماد سے)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل. ج:8 ص:97. اضافہ و تخریج شدہ ایڈیشن، مطبوعہ :مکتبہ لدھیانوی، سن اشاعت 2011)
دودھ شریک بھائی اپنے ہی بھائی کی طرح ہے؛ البتہ اگر وہ بد نظر اور بد قِماش ہو، تو فتنے کی خوف سے اس سے بھی پردہ لازم ہے. (آپ کے مسائل اور ان کا حل. ج:8 ص:106)اسی طرح سسر سے بھی پردہ نہیں ہے؛ لیکن آج معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائی کے پیش نظر ان سے بھی عورتیں پردہ کریں؛ نیز ایک عورت دوسری عورت کے سامنے اتنا ہی بدن کھول سکتی ہے، جتنا مرد، مرد کے سامنے. یعنی ناف ست گھٹنوں تک کے علاوہ ( در مختار. ج:2 ص: 243/بدائع الصنائع. ج:6 ص:499، کتاب الاستحسان. طبع بیروت)
بے اعتدال اور افراط و تفریط کی اس دنیا میں صرف اسلام ہی ایک ایسا نظام تمدن پیش کرتا ہے، جس میں غایت درجہ اعتدال اور توازن پایا جاتا ہے. شریعت اسلامیہ نے عورتوں کو پردے کا حکم اس لیے دیا تاکہ درندہ صفت انسان اور ہمیشہ ور لٹیرے کہیں ان کی ردائے عصمت تار تار اور ان کی عفت و عصمت کے شگوفے کو مسل نہ دے؛ کیوں کہ انسان کے اندر صنفی تقاضے بھی ہیں، چناں چہ صنفِ مخالف کو دیکھ کر انسانوں کے اندر رغبت پیدا ہوتی ہے اور اس میں شہوانی جذبات انگڑائی لینے لگتے ہیں اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ عورت لطیف اور قدرت نے عورتوں میں جذب وکشش کے محرکات زیادہ رکھے اور یہ لطافت ہی اسے مرکزِ توجہ بناتی ہے، جس کی بنا پر معاشرے میں طرح طرح کی برائیاں پھیلنے لگتی ہیں :زناکاری، فحاشی وعریانیت، بد امنی، اور زبوں حالی کا نہ تھمنے والا طوفان کھڑا ہوجاتا ہے اور ذہنی چین وسکون غارت ہو کر رہ جاتا ہے
الغرض پردے کے بغیر ایک صالح معاشرے کا خواب، تلاشِ عنقا کے مترادف ہے.
آج بے پردگی کی وجہ سے معاشرے میں جو خرابیاں پھیل رہی ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے. ہر طرف زناکاری وشہوت رانی کا بازار گرم ہے. اسی بے راہ روی کا نتیجہ ہے، کہ مغربی معاشرے میں "عورت” مردوں کی حیوانیت مٹانے کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے آج معاشرہ مختلف بیماریوں سے جوجھ رہا ہے. "یورپ” اور "امریکہ” میں 20 اور 25 سال کے لوگ بغیر شادی کے جنسی عمل کرتے ہیں، شمالی یورپ میں ایسے لوگوں کا تناسب 40 تا 90 فی صدی ہے. یعنی ایک ہزار میں صرف 36 لوگ شادی کرتے ہیں. (گلو بلائزیشن اور اسلام، ص:391. بہ حوالہ میڈیا اور اس کے اثرات، اضافہ شدہ ایڈیشن)
1996ء کے اعداد و شمار کے مطابق 75 فی صد غیر شادی شدہ عورتیں اسقاطِ حمل کراتی ہیں، ان میں دو تہائی کی عمر 15 اور 24 کے درمیان ہوتی ہے (ایضاً ص 392)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بے پردگی اور عریانیت نے عورتوں کے اس کے گھر کے محفوظ چہاردیواری سے نکال کر سڑک چھاپ بنا دیا ہے.
اپنا معاشرہ تو بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے؛ لیکن اس سے پہلے کہ مزید برے نتائج سامنے آئیں، ان کے سد باب طریقہ اختیار کیا جائے اور اس کا واحد حل یہی ہے کہ ہم پھر سے اپنے عہد کہن کو سینے سے لگا لیں نیز امام و خطیب اپنی اپنی حد تک پردے کی اہمیت سے لوگوں کو شناسائی کراتے رہیں اور :اپنی ماں و بہنوں کو اس بات کی تعلیم دیں کہ:
پردے میں تجھ کو رہنا ہے ایک دم عیاں نہیں
عورت ہے تو، کوئی بازار کی دکاں نہیں
+917669514995

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*