اسعد بدایونی کی شعری کائنات پر یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد


پروفیسرشہپررسول، شہزادانجم، ابن کنول، کوثر مظہری، احمد محفوظ، حقانی القاسمی وکلیم الحفیظ وغیرہ نے شاعرکے فکروفن پرروشنی ڈالی، متعددتحقیقی مقالات بھی پیش کیے گئے
90
نئی دہلی: بدایوں ایک غیر معمولی سرزمین ہے ،ادب سے اس سرزمین کا گہرا رشتہ رہا ہے ،اسعد بدایونی کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے ،اسعد بدایونی نہایت نفیس ، مخلص اور انسانیت کی اعلی اقدار کے حامل شاعر تھے،بے نیازی ان کی زندگی کا خاص حصہ تھی ،کبھی وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے- ان خیالات کا اظہار دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئر مین اور صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر شہپر رسول نے "اسعد بدایونی کی شعری کائنات "پر منعقد یک روزہ قومی سیمینار میں کیا- سیمینار کا انعقاد دہلی اردو اکیڈمی کے مالی تعاون شاہین ٹرسٹ ،مظہر فاؤنڈیشن اور الحفیظ ایجو کیشنل اکیڈمی کے اشتراک سے ہوٹل ریور ویو ،جامعہ نگر ،اکھلا ،دہلی میں کیا گیا -اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اسعد بدایونی اپنے عہد کے تمام تر شعرامیں منفرد تھے ،ان کے یہاں مایوسی نہیں ملتی ان کے بیشتر اشعار کوٹ کیے جانے کے لائق ہیں ،دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر ابن کنول نے اپنے خطاب میں کہا کہ علی گڑھ میں اسعد بدایونی سے سب سے پرانا تعلق میرا رہا ،ان کافن اعلی درجہ کا ہے ،اسعد نے بہت کم وقت اور بہت کم عمر میں اس قدر سرمایہ چھوڑ کہ دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی ،پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ اسعد بدایونی بہت بڑے فنکار تھے- اسعد بدایونی کی کجی کا فطری طور پر احترام کرنا چاہیے ،پروفیسر احمد محفوظ نے کہاکہ اسعد بدایونی کا اصل میدان جدید غزل ہے ہم عصر شعرا میں اسعد بدایونی کا بہت نمایاں مقام ہے ،ڈاکٹر نسیم احمد نسیم نے کلیدی خطاب میں کہا کہ اسعد بدایونی کی شاعری میں حزن و ملال کا احساس بہت گہرا ہے کسی شخصیت اور کسی سسٹم سے وہ کبھی مرعوب نہیں ہوتے تھے ان کے یہاں تہذیبی احیا کا کام ہوا ،مشہور نقاد حقانی القاسمی نے کہا کہ اسعد بدایونی کے یہاں خیالات اور اسلوب کی ہم آہنگی اور خیالات کی کمسٹری اور ان کی غزلیہ شاعری میں جو قوت ہے وہ ہم عصروں میں ما بہ الامتیاز ہے – ڈاکٹر ابرار رحمانی اور انجنیئر کلیم الحفیظ نے بھی اسعد بدایونی کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کیا قبل ازاں سیمینار کا آغاز نسیم الدین کی تلاوت اور معین قریشی کی نعت پاک سے ہوا نظامت کے فرائض سیمینار کے کنوینر خان محمد رضوان نے انجام دیے –

واضح ہو کہ خان محمد رضوان اسعد بدایونی کے خاص شاگر د تھے اور اسعد بدایونی پر انہوں نے دہلی یونیوسٹی سے ایم فل کیا اور دو کتاب بھی لکھی ہیں مہر فطہ ،ڈاکٹر محمد اسعد ،عبداللہ منیری ،عرفان احمد ،عمران عراقی ،شاداب شمیم ،محمد انظر ،سفینہ خاتون اور صدف وغیرہ نے مقالات پیش کیے ،ڈاکٹر جاوید حسن نے تعارفی خطاب کیا ،اس موقع پر جناب امان اللہ کواسعد بدایونی ایوارڈ 2018سے سرفراز کیا گیا ،سیمینار کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر خان محمد آصف اور نوشاد منظر نے اہم کردار ادا کیا ۔سیمینار میں کثیر تعداد میں دہلی یونیوسٹی ،جامعہ ملیہ اور جے این یو کے اسکالرز نے شرکت کی،بالخصوص ڈاکٹر عبد الحی خان ،ڈاکٹر شاہداختر انصاری ، محمد انصر ،ڈاکٹر ذکی طارق،ثمینہ خاتون ،ڈاکٹر شاہنواز فیاض،عبدالباری قاسمی ،ڈاکٹر زاہد ندیم احسن کے علاوہ دہلی اردو اکیڈمی سے جناب ہارون ،جناب عزیر احمد اور اسسٹینٹ سکریٹری مستحسن احمد قابل ذکر ہیں –