اردو شاعری کے معتبر چہرے


تصنیف:اسامہ ارشاد معروفی قاسمی
تبصرہ:ڈاکٹر ایم. نسیمؔ اعظمی
نگراں سہ ماہی ’’تخلیق وتحقیق‘‘
مؤ ناتھ بھنجن (یوپی)
9795384952
’’اردو شاعری کے معتبر چہرے‘‘ نوجوان ادیب وصحافی اسامہ ارشاد معروفی کی تازہ ترین تصنیف ہے، جو اردو کے عہد حاضر کے سترہ (۱۷) شاعروں کی شاعری اور شخصیت پر لکھے گئے تنقیدی اور ادبی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس سے قبل اسامہ ارشاد معروفی کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’گلدستۂ مضامین‘‘ (۲۰۱۵) اور کوثرؔ معروفی کی نعتوں، غزلوں اور نظموں کے انتخاب پر مشتمل ’’نغمات کوثرؔ ‘‘ (۲۰۱۶) کے نام سے مرتب کردہ کتاب شائع ہوکر اہل علم ودانش سے داد وتحسین حاصل کرچکی ہے۔
اسامہ ارشاد معروفی مولانا ارشاد خلیل قاسمی کے صاحبزادے اور ان کی علمی، ادبی اور روحانی روایات کے وارث اور علم بردار ہیں، جو ۲۰؍ اگست ۱۹۹۰ء کو پورہ معروف ضلع مؤ کے ایک علمی اور دینی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کی خالص علمی، مذہبی اور روحانی ماحول میں پرورش ہوئی، انھوں نے پرائمری درجہ اول سے پنجم، حفظ کلام اللہ، تجوید وقراء ت اور عربی اول سے ششم تک کی تعلیم مدرسہ ’’اشاعت العلوم‘‘ پورہ معروف ضلع مؤ میں حاصل کی، اس کے بعد مزید آگے کی تعلیم کے حصول کی غرض سے دیوبند چلے گئے اور ’’دارالعلوم وقف‘‘ دیوبند میں داخلہ لے کر وہاں سے فضلیت کی سند حاصل کی، نیز دورانِ تعلیم اترپردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ (لکھنؤ) سے منشی، مولوی، عالم اور کامل کے امتحانات بھی اچھے نمبروں سے پاس کئے۔
موصوف بچپن سے ایک ذہین طالب علم رہے ہیں اور علم وادب اور شعر وشاعری سے ان کی دلچسپی بھی طالب علمی کے زمانے سے ہی رہی ہے اور ان کی محنت ولگن سے اس میں مزید اور بتدریج نکھار بھی ہوتا رہا ہے، وہ شروع سے ہی اپنے دوسرے طالب علم ساتھیوں اور ہم عمروں سے قدرے مختلف رہے ہیں اور زمانۂ طالب علمی میں عام طالب علموں کے مقابلے میں کھیل کود وغیرہ کے بجائے لکھنے ، پڑھنے اور مطالعۂ کتب میں زیادہ دلچسپی اور لگن کا مظاہرہ کرتے رہے اور پرائمری کی تعلیم کے بعد عربی کے ابتدائی درجات سے ہی مضمون نویسی کی طرف ان کی خاص رغبت بھی رہی ہے اور ادب وشاعری میں دلچسپی بھی۔ انھوں نے طالب علمی کے ہی زمانے میں مختلف معاشرتی اور ادبی موضوعات پر چھوٹے چھوٹے مضامین اور فیچر لکھنے شروع کردیے اور ان کے یہ مضامین اور فیچر روزنامہ ’’راشٹریہ سہارا‘‘ اور ’’دورِ جدید‘‘ دہلی جیسے مؤقر اخباروں میں شائع بھی ہونے لگے، جو عموماً تعلیم وتربیت، ثقافت وسیاست اور اہم علمی، ادبی شخصیات پر مشتمل ہوتے تھے۔
انھیں بچپن سے ہی صحافت سے بھی خصوصی لگاؤ رہا ہے، مدرسہ ’’اشاعت العلوم‘‘ کی طالب علمی کے زمانے میں طلبہ کی انجمن کے ماہانہ قلمی رسالہ ’’الاشاعت‘‘ کے مدیر رہے، اسی زمانے میں پورہ معروف کی مشہور اور نامور لائبریری ’’المعارف دارالمطالعہ‘‘ سے شائع ہونے والے دوماہی اردو مجلہ ’’المعارف‘‘ کے بھی ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۶ء تک ایڈیٹر رہے، جس کے خصوصی شمارے ’’خطاب نمبر‘‘ اور ’’حافظ عبداللطیف معروفی نمبر‘‘ کی اردو کے ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ قیام دیوبند کے دوران ضلع مؤ کے طلبہ کی انجمن ’’بزم اسلام‘‘ سے بھی وابستہ رہے اور اس کی ماہانہ جداری میگزین ’’الحبیب‘‘ کے بھی مرتب رہے۔
اس طرح انھیں زمانۂ طالب علمی سے ہی مضمون نویسی اور صحافت سے خاص تعلق خاطر رہا ہے او رصحافت سے وابستگی کے باعث اردو کی اہم علمی، ادبی شخصیات سے ملاقات کا شرف اور ان کے فکر وفن اور کارناموں سے واقفیت کے مواقع بھی ملتے رہے ہیں اور کم عمری میں ہی ان کے تحریری کاموں کے اعتراف اور حوصلہ افزائی کے لیے انھیں مختلف اعزازات سے بھی نوازا جاتا رہا ہے، جیسے ’’اردو ادب ویلفیئر سوسائٹی‘‘ غازی آباد (یوپی) کی جانب سے بتاریخ ۲؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو منعقدہ تقریب میں مومنٹو اور دیگر اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
’’اردو شاعری کے معتبر چہرے‘‘ اسامہ ارشاد معروفی جیسے نوجوان ادیب و قلم کار کی تازہ ترین تنقیدی تصنیف ہے، جو دراصل ان کے اپنے پسندیدہ اور منتخب شعرا پر لکھے گئے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں ان کے تحریر کردہ ۱۷؍ شعرا کی حیات وشخصیت اور فکروفن پر محیط مضامین شامل ہیں، جنھیں انھیں قریب سے دیکھنے اور ان کی شخصیت وشاعری اور کارناموں کو سمجھنے کے مواقع ملے ہیں۔ انھوں نے ان مضامین میں اپنے مخصوص انداز اور تنقیدی رویے سے ان شعرا کی شاعری اور فکر وفن کے مختلف گوشوں پر نہ صرف نظر ڈالی ہے؛ بلکہ تجزیاتی نقطۂ نظر سے بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے اور بڑی صفائی اور سادگی اور برجستگی سے اپنی تنقیدی آرا کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس کتاب میں اردو کے جن شعرا کی شخصیت اور شاعری پر بالترتیب تنقیدی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے، ان میں (۱)انورؔ جلال پوری (۲) پروفیسر وسیمؔ بریلوی (۳) منور راناؔ (۴) کوثرؔ معروفی (۵) ڈاکٹر راحتؔ اندوری (۶) گمانؔ انصاری (۷) ڈاکٹر تابشؔ مہدی (۸) ڈاکٹر ایم. نسیمؔ اعظمی (۹) ڈاکٹر نوازؔ دیوبندی (۱۰) محفوظ الرحمن عادلؔ (۱۱) ایم. اے ساغرؔ ادروی (۱۲) ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی (۱۳) کلیمؔ معروفی (۱۴) منظرؔ بھوپالی (۱۵) ڈاکٹر شفیقؔ اعظمی (۱۶) ڈاکٹر امتیاز ندیمؔ (۱۷) مجیبؔ بستوی کے نام شامل ہیں۔
مجھے یہ تحریر کرتے ہوئے کوئی تأمل نہیں ہے کہ مؤ ضلع کی نوجوان نسل میں کئی ایسے ابھرتے ہوئے ادیب وقلم کار ہیں، جو اپنی علمی، ادبی، تخلیقی اور تحریری سرگرمیوں سے اپنے روشن اور تابناک مستقبل کا پتہ دے رہے ہیں، ایسے ہی نئی نسل اور نوجوان ادیبوں میں ایک نام اسامہ ارشاد معروفی قاسمی کا بھی ہے۔ ان کی علمی، ادبی سنجیدگی اور ’’نرم دم گفتگو گرم دم جستجو‘‘ کا انداز، ان کی علمی، ادبی سوچ اور مثبت نقطۂ نظر اور طریقِ کار، ادبی وشعری ذوق وشوق اور ہر دم کچھ کرتے رہنے کی عادت یقیناًآنے والے دنوں میں انھیں نت نئی کامیابیوں سے ہم کنار کرے گی۔
انھیں اس بات کا بھی بخوبی احساس ہوگیا ہے کہ تنقید کے لیے تخلیق ناگزیر ہوتی ہے اور ہر تخلیق کار کے اندر ایک نقاد بھی پوشیدہ ہوتا ہے اور وہی پوشیدہ نقاد تخلیق کار کی تخلیق کو خوب سے خوب تر بنانے میں کارفرما رہتا ہے، جس فن کار میں تخلیق وتنقید کی دونوں صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، اس کا فن اتنا ہی بہتر اور اعلی ہوتا ہے اور کسی بھی ادب پارہ کی جانچ پرکھ کے لیے کچھ اصول وضوابط بھی ہوتے ہیں اور نقاد کا اپنا نقطۂ نظر اور حسن وقبح کی تفہیم کا اپنا طریقۂ کار بھی۔ چنانچہ اسامہ ارشاد معروفی کسی بھی شاعر کی شاعری پر تنقیدی روشنی ڈالتے وقت مذکورہ باتوں کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں اور ادب وشاعری پر اپنی تنقیدی رائے کا اظہار کرتے وقت کسی قسم کے افراط وتفریط کا شکار نہیں ہوتے اور ادبی دیانت داری اور ذمہ داری کا دامن بھی تھامے رہتے ہیں اور پورے توازن اور اعتدال کے ساتھ تأثراتی یا جمالیاتی تنقیدی نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ انورؔ جلال پوری کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’انورؔ جلال پوری ایک معتبر شاعر ہونے کے ساتھ ایک بہترین اناؤنسر بھی تھے، بلکہ پوری اردو دنیا میں عالمی پیمانے پر جو ان کی دھوم مچی تھی، جو شہرت ومقبولیت حاصل تھی، وہ ایک ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے ہی تھی، جنھوں نے اردو مشاعروں میں نظامت کے حوالے سے اپنی ایک الگ پہچان بنائی، ان کا کمال یہ تھا کہ وہ سامعین اور شعرا کے درمیان اپنی جادوئی آواز، برجستہ اشعار اور حسین جملوں سے ایک ایسا ربط پیدا کیے رہتے تھے کہ شروع سے آخر تک ناظم وشاعر کی آواز والفاظ کے حسین امتزاج سے جو خوش گوار ماحول بنتا تھا، سامعین اس سے اپنے آپ کو الگ نہیں کرپاتے تھے اور اسی انداز وادا نے انورؔ جلال پوری کو ایک عالمی اناؤنسر بنادیا تھا۔‘‘
پروفیسر وسیمؔ بریلوی عصر حاضر کے ایک اہم اور قابل ذکر شاعر ہیں، اس کتاب میں ان کی شخصیت وشاعری سے متعلق جو مضمون شامل ہے، اس میں انھوں نے بڑے خوب صورت انداز میں ان کی شخصیت اور فکر وفن کا احاطہ کیا ہے اور ان کی شاعری کو اپنے مخصوص زاویۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اپنی اس کوشش میں ان کے فکر وفن کے مختلف گوشوں کو جس حقیقت پسندانہ انداز میں نمایاں کیا ہے، وہ قابل داد وتوجہ بن گیا ہے۔ ایک اقتباس پیش ہے:
’’انسانی زندگی جن ذہنی، تہذیبی، داخلی اور خارجی عوامل سے عبارت ہے، وہ ساری کیفیتیں وسیمؔ بریلوی کی شاعری میں متحرک اور متکلم دکھائی دیتی ہیں، زمان ومکان کی بے لباس صداقتیں ان کی غزلوں، گیتوں، نظموں اور قطعات میں جھلکتی، سانس لیتی اور بولتی ہوئی نظر آتی ہیں، ان کے احساسات اور تجربات شعر کے بیانیہ سانچے میں ڈھل کر لامحدود وسعتیں اور بے پایاں ترسیلی توانائیاں حاصل کرلیتے ہیں، شاعر کا غم، خوشی اور احساس ومشاہدہ پورے معاشرے کا دکھ سکھ بن جاتا ہے، انھیں سننے اور پڑھنے والوں کو ان کے کلام میں اپنے دلوں کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔ یہی اعجازِ فن وسیمؔ بریلوی کو معاصر شعرا میں خصوصی شناخت عطا کرتا ہے۔‘‘
اسامہ ارشاد معروفی نے اپنی اس کتاب ’’اردو شاعری کے معتبر چہرے‘‘ میں شامل جس شاعر کی شاعری اور شخصیت پر قلم اٹھایا ہے، بڑے دوٹوک اور واضح انداز میں لکھا ہے۔ عہد حاضر میں جن شاعروں نے اردو مشاعروں کی تہذیب وروایت اور شاعری کے فکر وفن کے معیار وقار کو باقی رکھا ہے اور کسی قسم کی مصلحت اندیشی اور سمجھوتے کو روا نہیں رکھا ہے، ان میں منور راناؔ کا نام سرِفہرست تصور کیا جاتا ہے، ان کی شاعری اور شخصیت کے بارے میں اسامہ ارشاد معروفی نے بڑے واضح انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’منورؔ رانا نے اپنے مختلف ومنفرد لب ولہجے، فنی دسترس، موضوع کے انتخاب، نئی تشبیہات واستعارات اور عام زندگی میں بولے جانے والے الفاظ کا بہترین استعمال کرکے غزل کے منظر نامے پر خود کو منور کیا، بنگال کی خلیج سے اٹھنے والی غزل کی یہ منفرد آواز اردو غزل کے لیے نہ صرف یہ کہ نئی تھی؛ بلکہ معاصرین میں سب سے الگ اور سب سے جدا تھی۔‘‘
رومانیت، حقیقت، ترقی پسندی، جدت اور ملک کی آزادی کے بعد ہندوستان میں ہونے والی ہمہ جہت تبدیلیوں اور اکیسویں صدی میں تیزی سے بدلتے حالات، سائنسی وتکنیکی فروغ، انسانی زندگی میں آنے والی نت نئی سہولیات اور ان کے مضر اثرات کو بھی اردو شاعروں نے بڑی باریک بینی اور سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور ان کے نتائج کا اپنی شاعری میں خوب صورت اور معنی خیز اظہار بھی کیا ہے۔ اسامہ ارشاد معروفی اس سے نہ صرف واقف ہیں؛ بلکہ پوری باریک بینی اور دِقت نظری سے سمجھنے کی بھی کوشش کی ہے اور عہد حاضر کے چند منتخب شعرا کی شاعری کو جانچنے اور پرکھنے میں اسے پیشِ نظر بھی رکھا ہے اور عہد بہ عہد رونما ہونے والے حالات اور بدلتے منظر نامے کے تناظر میں ان کی افہام وتفہیم بھی کی ہے، ان کا خیال ہے کہ جس طرح عہد انسانی میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، شعر وادب میں بھی تغیر پذیری کا عمل جاری وساری رہتا ہے اور اسی تبدیلی کے پیش نظر ان کی شاعری کی تنقید میں بھی تبدیلی کے اثرات پائے جاتے ہیں اور ان ہی بدلتے رجحانات کے تحت انھوں نے اردو شاعری کو بھی دیکھنے کی کاوش کی ہے، جس سے ان کی تنقید میں ایک قسم کی اعتباریت درآئی ہے۔ ڈاکٹر راحتؔ اندوری کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا بھی ہے:
’’ڈاکٹر راحتؔ اندوری ایک ایسے شاعر اور فن کار ہیں، جو اپنا فرض ادا کرنے سے غافل نہیں رہے، انھوں نے حالات کا مقابلہ سینہ سپر ہوکر کیا، وہ جدید ماحول اور نئے تقاضوں کے بموجب اردو ادب کو اپنے افکار وخیالات سے مالامال کرتے رہے ہیں۔ اردو شاعری کو اس قدر توانائی، دل کشی ورعنائی، محبوبیت ومقبولیت اور عمومیت عطا کرنے میں ڈاکٹر راحتؔ اندوری کا خاصا حصہ ہے، جس کی وجہ سے شعر وادب کی دنیا میں انھیں عالمی شہرت حاصل ہے۔‘‘
گمانؔ انصاری ایک فطرت شناس، حقیقت پسند اور جمالیاتی شاعر ہیں، ان کے یہاں کلاسیکی رچاؤ بھی ہے اور عصری حسیت بھی، وہ فکر وفن کی باریکیوں اور شعری نزاکتوں پر خاص توجہ دیتے ہیں اور شاعری میں صالح تہذیبی قدروں کے علم بردار تصور کیے جاتے ہیں اور ادب کے ایک وسیع حلقے میں استاد شاعر کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اتنا کچھ کہا ہے کہ اگر سخت سے سخت انتخاب کیا جائے تو بھی ان کے تین شعری مجموعے شائع ہوسکتے ہیں، اہل علم وادب کو جس کا بہرحال انتظار بھی ہے؛ کیوں کہ تادمِ تحریر ان کا کوئی مجموعہ منظر عام پر نہیں آسکا ہے؛ مگر شعر وادب کی محفلوں میں ان کی شاعرانہ خوبیوں کا ایک عرصے سے تذکرہ جاری ہے۔ اسامہ ارشاد معروفی نے بھی زیر تذکرہ کتاب میں ان کی شاعری اور فکر وفن پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ذیل میں اس کا ایک اقتباس پیش ہے:
’’گمانؔ انصاری کی شاعری صالح فکر، جمالیات، منفرد لفظیات، مضمون آفرینی، نفسیاتی کیفیات، اخلاقی علمیت، سنجیدگی ومتانت، حسن فصاحت وبلاغت، شگفتگی و بے ساختگی کے جواہرات سے مزین ہے، جو اُن کی شخصیت کی آئینہ دار بھی ہے، موضوعات کے انتخاب میں ان کی ذہانت جلوہ گر ہے، تو انداز بیان متانت سے معطر ہے، انھوں نے نازک احساسات وجذبات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ زندگی کے متنوع مسائل کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے، مگر جذبات کے نام پر شعری لطافتوں کو متأثر نہیں ہونے دیا، ان کے یہاں غور وفکر، افہام وتفہیم اور الفاظ کے خوب صورت استعمال خوب ملتے ہیں۔‘‘
اسامہ ارشاد معروفی نے زیر نظر کتاب میں شامل دیگر شعرا جیسے کوثرؔ معروفی، ڈاکٹر تابشؔ مہدی، ڈاکٹر ایم. نسیمؔ اعظمی، ڈاکٹر نوازؔ دیوبندی، محفوظ الرحمن عادلؔ ، ایم. اے ساغرؔ ادروی، ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی، کلیمؔ معروفی، منظرؔ بھوپالی، ڈاکٹر شفیقؔ اعظمی، ڈاکٹر امتیاز ندیمؔ اور مجیبؔ بستوی کی شاعرانہ نزاکت اور فنی رعنائیوں اور ادبی خوبیوں کو بھی اپنے مخصوص تنقیدی انداز میں نمایاں کیا ہے اور شعرا کی شخصیت اور شاعری سے بڑے معنی خیز انداز میں بحث کی ہے۔
اسامہ ابھی نوجوان ادیب ہیں اور ’’تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں؛ اس لیے ابھی اِس سے اچھے اور اہم تنقیدی کارنامے کی امید نہیں کی جاسکتی ہے اور ان کی اس اہم ادبی اور تنقیدی تصنیف میں بعض کمیوں کے امکانات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے؛ لیکن انھیں یہ سبق اچھی طرح ازبر ہوگیا ہے کہ حرکت میں برکت ہے اور ان کے اس جذبے کی جتنی قدر کی جائے کم ہے؛ کیوں کہ وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی بڑے متحرک رہے ہیں۔
ان کے والد محترم مولانا ارشاد خلیل قاسمی کی تربیت کی جو کارفرمائی رہی ہے وہ بھی قابل داد ہے، یہاں ’’فیضانِ نظر بھی ہے اور مکتب کی کرامات بھی‘‘ جس سے آداب فرزندگی اور خیال علم وادب دونوں ہے۔ میرے لیے یہ انتہائی مسرت اور خوشی کی بات ہے کہ اسامہ ارشاد معروفی محض روایتی قسم کے قلم کار اور صحافی ہی نہیں ہیں، ادب وشاعری کے پارکھ اور نقاد بھی ہیں اور بالکل نوجوان ہوتے ہوئے اپنا الگ تنقیدی نقطۂ نظر بھی رکھتے ہیں، جس میں ان کے انداز، لب ولہجہ، فکر وخیال اور آواز وغیرہ سب کچھ ان کی اپنی ہے، کسی کی بازگشت نہیں ہے اور ان میں ان کی اپنی مخصوص رمزیت، ایمائیت اور اشاریت بھی ہے اور انتہائی بامعنی اور بامفہوم بھی ہے اور مائل بہ انفردیت بھی ہے۔
اس کے علاوہ ان کی تنقیدی تحریروں کی دوسری بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ بالکل نوجوان اور نئے اہل قلم ہوتے ہوئے بھی اردو کی ادبی، شعری اور تہذیبی روایات کا بڑی حد تک ادراک بھی رکھتے ہیں اور کسی قسم کی بے بصیرت جدت کا شکار ہوتے نہیں نظر آتے ہیں، جو اُن کے مستقبل کے لیے نیک فال ہے۔ اسامہ ابھی نوخیز ہیں؛ مگر اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ادب وشاعری کی تنقید میں رد کرنے کی منزل قبول کرنے کے بعد آتی ہے اور عموماً تجربے کا حق بھی استفادے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے اور غزل کی شاعری میں تو روایت سے بالکل انحراف کیا ہی نہیں جاسکتا ہے، پھر بھی وہ اپنی بات کو نئی بناکر اور نئے انداز میں کہنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں؛ لیکن روایت کی پاسداری کو بہرحال برقرار رکھتے ہیں اور یہ بڑی بات ہے۔
میں اسامہ ارشاد معروفی کے حوصلے اور انتخاب کی داد دیتا ہوں اور ان کی کتاب ’’اردو شاعری کے معتبر چہرے‘‘ کا خیرمقدم کرتا ہوں اور یہ بھی امید رکھتا ہوں کہ اس کتاب کی اردو کے ادبی حلقوں میں ان شاء اللہ پذیرائی ہوگی اور کتاب کے مصنف اسامہ ارشاد معروفی کے ادبی سفر میں یہ کتاب سنگ میل ثابت ہوگی۔ ’’اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ‘‘