اردو زبان ورسم الخط کے تئیں ہمارا فریضہ

مسعود جاوید
اردو رسم الخط کے تعلق سے لوگوں کی تشویش قابلِ قدر ہے اور اس کی جانب عوامی سطح پر تحریک کی شکل میں توجہ کی ضرورت ہے،آپ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ اردو رسم الخط کو ختم کرکے دیوناگری اس کا بدل کے طور پر تھوپنے کی کوشش ماضی میں بھی ایک مخصوص طبقہ کرتا رہا ہے اور بدقسمتی سے ان کی تائید خود ہم میں سے بہت سے روشن خیال لوگ کرتے رہے ہیں،اردو اور اردو رسم الخط پر یہ الزام ہے کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے؛حالانکہ ایسا نہیں ہے ،اگر ایسا ہوتا ،تو یہ ہندوستان کے مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک میں بسے ہوئے مسلمانوں کی زبان ہوتی، دراصل زبان اور کلچر کا تعلق مخصوص علاقے میں رہنے والے با شندوں سے ہوتا ہے، نہ کہ مذہب سے،انگریزی زبان عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی زبان نہیں ہے،عربی صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے؛ بلکہ عرب دنیا میں رہنے والے عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کی زبان بھی یہی عربی ہے،اسی طرح اردو ہندوستان کے مخصوص علاقوں میں رہنے والے مسلم اور غیر مسلم کی زبان تھی، اردو کے بڑے بڑے غیر مسلم مشہور شعرا،ادباصحافی مصنفین گزرے ہیں اورآج بھی ہیں،اسی طرح اردو کے اخبارات جن میں حال تک پرتاپ، ملاپ، ہند سماچار اور پنجاب کیسری وغیرہ اشاعت میں رہے ہیں، جن کے مالک اور ادارتی عملہ غیر مسلم تھے، تاہم یہ بھی ایک ناقابلِ رد حقیقت ہے کہ اردو زبان اور اردو رسم الخط میں ہمارے دینی اور ادبی اثاثے محفوظ ہیں اور اسی طرح اردو رسم الخط عربی اور فارسی رسم الخط سے مستخرج ہے اور ہندوستانی مسلمان اس اردو رسم الخط کی مدد سے بآسانی عربی میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے؛ اس لئے اس کی بقا کی نہ صرف لسانی اور تہذیبی ذمہ داری ہم مسلمانوں کی ہے بلکہ یہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔
جہاں تک یہ بات کہ ان دنوں سوشل میڈیا پر دیوناگری رسم الخط میں اردو شاعری کا زور ہے تو یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور وہ اس طرح کہ اسے ہم اردو شعر و ادب کی مقبولیت کے طور پر بھی دیکھتے ہیں ؛اس لئے کہ پوسٹ کرنے والوں کی اکثریت غیر مسلم لڑکے اور لڑکیوں کی ہے، جن کے اشعار نا صرف یہ کہ دیوناگری یا رومن میں ہوتے ہیں ؛بلکہ بسا اوقات تلفظ، تذکیر و تانیث کی غلطی اور قافیہ ردیف وزن اور بحر سے بھی خالی ہوتے ہیں، ہم اردو والے بھی دیوناگری میں اشعار پوسٹ کرتے ہیں اور مطمحِ نظر ہوتا ہے bigger audienceاب یہ مسئلہ اس وجہ کر پیچیدہ اور حساس ہو جاتا ہے کہ اگر ان پر تنقید کریں، تو ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور چھوڑ دیں ،تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نئی نسل اسی غلط کو صحیح اردو تلفظ، ہجے ،واحد، جمع اور مذکر مؤنث نہ سمجھ لے،میں نے ڈی اے وی اسکول کے پرنسپل سے شکایت کی میں اپنے بچے کو صحیح اسپیلنگ بتاتا ہوں، تو وہ نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کرتا؛ بلکہ ناراض ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میم نے جو لکھایا ہے، وہی صحیح ہے،پرنسپل صاحب نے کہا کہ خود ان کی بچی کے ساتھ یہی صورتحال تھی۔
اس لئے ایک ایسے میکانزم کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انگلش اور ہندی میڈیم اسکولوں میں ضرور اچھی تعلیم دلائیں، مگر اردو بحیثیت مادری زبان کے لئے گھروں میں اتالیق مقرر کریں یا ہر محلے میں اردو خواندگی مراکز قائم کرکے ان میں اپنے بچوں کو بلا ناغہ بھیجیں اور بچوں کو اس کی اہمیت ضرورت اور افادیت بتاتے ہوئے اس کی طرف مائل کریں۔
اردو اور اردو رسم الخط کی بقا کے لیے صرف ہمارا کوشاں ہونا کافی نہیں ہے، ہاں ایک حد تک یہ کوشش اسے زندہ رکھ سکتی ہے، مگر محض ایک طبقہ کے کچھ لوگوں کی کوشش اس کو رائج نہیں کرسکتی،اس کے لیے اس زبان کو حکومت کی سرپرستی چاہیے، اس کو روزگار سے جوڑنے والی زبان بنانے کی ضرورت ہے اور سب سے اہم یہ کہ اس کے لئے اردو کے نام پر نوازشات سے فائدہ اٹھانے والے لوگ اردو کے لئے مخلص ہوں،اترپردیش، جی ہاں گہوارۂ اردو(دہلی، آگرہ، لکھنؤ اور حیدرآباد) میں اردو کو دوسری سرکاری زبان نہ بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسکولوں میں اردو پڑھانے کا نظم نہیں رہا اور یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہاں کی نئی نسل اردو بولتی ہے، مگر لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی جارہی ہے؛ کیونکہ مادری زبان کی وجہ سے اردو بول چال میں رہی، مگر اسکول میں بحیثیت لازمی مضمون نہ پڑھنے کی وجہ سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا، بہار میں اس کوشش کی شروعات جگن ناتھ مشرا جی نے کی تھی اور تنفیذی مراحل (عملدرآمد) کی تکمیل لالو پرساد جی کے مخلصانہ عزم سے ہوئی ،جس کے نتیجے میں اردو معلمین کی اسکولوں میں بحالی اور اردو مترجمین اور ٹائپسٹ کی ڈیپارٹمنٹس میں تقرری عمل میں آئی،سیاسی اختلافات اور اردو کے سلسلے میں کچھ خامیوں اور کوتاہیوں سے قطع نظر ان لیڈروں کی اردو کے لئے سنجیدہ کوشش اور دوسری سرکاری زبان بنانا ناقابل فراموش ہے۔
اسکولوں میں طلبہ کی رغبت اردو کی طرف اس لئے بھی ہوئی کہ یہ بھی ایک job orientedسبجیکٹ ہوگیا اور ملازمت کے مواقع فراہم کرانے والا بنا؛اس لئے میرا خیال ہے کہ ہر اس صوبے میں جہاں ہماری آبادی دس فیصد ہے، وہاں اس اردو کو دوسری سرکاری زبان کا آئینی حق دلانے کی بھر پور کوشش ہونی چاہئے،صرف شوقیہ پڑھنے اور لکھنے والوں سے یا مشاعرے اور سیمینار و سمپوزیم کرانا اس کی بقا کے ضامن نہیں ہو سکتے۔
Charity begins at homeاچھے کام کی شروعات اپنے گھر سے کریں۔اردو کی ترویج و اشاعت کے لئے انفرادی طور پر ہم اپنے عزیز و اقارب اور اردو داں متعلقین کے ساتھ اردو زبان میں مراسلات کرکے دعوت نامے کاروباری وزیٹنگ کارڈ/بزنس کارڈ، اپنے بزنس ہاؤس فرم اور تنظیموں کے لیٹر ہیڈ اور سائن بورڈ ہندی/ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھواکر، اردو اخبارات، رسالے،میگزین پرنٹ اور ڈیجیٹل خریدکر یا سالانہ اشتراک کر کے اور اپنے آس پاس میں رہنے والے غیر اردو داں لوگوں کو اردو سیکھنے کے لیے راغب motivateکرکے، ہو سکے، تو تھوڑا وقت ان کو دے کر رہنمائی کرکے ہم اردو زبان کی بقا میں معاون ہو سکتے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*