اردو اکادمی کے زیراہتمام ہندی بھون میں شاعرات کے کل ہند مشاعرے کاانعقاد

زندگی کے ہرشعبے میں خواتین کی خدمات ناقابل فراموش:شہپررسول
اردو کے فروغ کے لیے دہلی حکومت کوشاں:عمران حسین

نئی دہلی:۱۱؍اکتوبر۔اردو اکادمی کے زیراہتمام شاعرات کا کل ہند مشاعرہ ،ہندی بھون ،وشنودگمبرمارگ ،راؤز ایونیو،آئی ٹی او ،نئی دہلی میں منعقدہوا۔اس مشاعرے کی صدارت معروف سینئرشاعرہ شیاماسنگھ صبا نے کی۔اس موقع پر استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے صدرشعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسرشہپررسول نے کہاکہ مشاعروں کا انعقاد اردواکادمی،دہلی کی روایت رہی ہے ۔اردو اکادمی کی تاریخ اہم، بامعنی اوریادگار مشاعروں سے بھری پڑی ہے ،شاعرات کا مشاعرہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس مشاعرے میں پورے ہندوستان کی نمائندہ شاعرات کو مدعو کیا گیا ہے۔ اردو کادمی ہرسال شاعرات کا مشاعرہ منعقد کرتی ہے مگردرمیان میں بوجوہ شاعرات کا مشاعرہ نہیں ہوسکا ۔اردو اکادمی خواتین کو آگے لانے کے لیے بھی ہمیشہ سنجیدہ رہی ہے ۔خواتین کا متحرک کردارناقابل فراموش ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی نمائندگی قابل صدستائش رہی ہے ۔شاعری کی دنیا میں بھی خواتین کی ایک کہکشاں ہے ۔مہ لقا چندابائی سے لے کر ہنوز خواتین نے شاعری کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں ۔اردو اکادمی کے تمام پروگرام دہلی حکومت ،وزیراعلی اور نائب وزیراعلی کی خصوصی دلچسپیوں سے انجام پاتے ہیں ۔اس مشاعرے کے لیے بھی نائب وزیراعلی کے مشورے اور ان کی دلچسپی ہمارے لیے حوصلہ کا سبب ہے ۔اردو اکادمی پہلے کی بہ نسبت اب زیادہ فعال ،متحرک اور اردوکے فروغ کے لیے کوشاں ہے ۔

اس موقع پرمہمان خصوصی کے طورپر وزیربرائے خوراک ورسد،دہلی حکومت عمران حسین نے کہاکہ اردواکادمی بہت اچھے پروگرام منعقد کرتی ہے۔اکادمی ،اس کے عہدیداران ،ذمہ داران اور کارکنان کے سروں میں اردوکے فروغ کا سوداسمایاہوا ہے،تمام پروگراموں کے انعقاد میں یہ سب مل کر اپنی خوش اسلوبی کی وجہ سے لوگوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں ۔مجھے اکادمی کے پروگراموں میں شرکت کرکے انتہائی مسرت ہوتی ہے ۔اردواکادمی اب دہلی کے مختلف مقامات پراپنے پروگرام اور مشاعرے منعقد کرتی ہے جس سے عوام کو سہولت ہوتی ہے ۔اکادمی کے مشاعرے اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ لوگ دور دور سے شرکت کرنے آتے ہیں ۔ اکادمی کا بنیادی مقصداردوکافروغ ہے ،جس میں یہ بہت حدتک کامیاب ہے ۔اردوکے فروغ کے لیے دہلی حکومت کمربستہ ہے اوراردو کو دہلی حکومت گھرگھرتک پہنچاناچاہتی ہے،جس کے لیے حکومت عملی اقدام پر یقین رکھتی ہے ۔اردو کے فروغ کے لیے حکومت نے ہمیشہ راستے ہموار کیے ہیں اورہمارے نائب وزیراعلی اردو اکادمی کے تمام پروگراموں میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں ۔میں انہیں مبارک باد پیش کرتاہوں کہ آج خواتین کے مشاعرے کے انعقاد میں انہوں نے خصوصی دلچسپی لی ۔
اردواکادمی،دہلی کے سکریٹری ایس ایم علی نے اظہارتشکرکرتے ہوئے کہاکہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ دہلی کے عوام کو اردوکی مٹھاس ،شیرینی اور سنجیدگی سے روبروکیاجاتا رہے ۔اس لیے ہم دہلی کی مختلف جگہوں پر مختلف طرح کے پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔تاکہ عوام میں اردوسیکھنے ،سمجھنے اور پڑھنے میں دلچسپی پیداہو۔اردو کافروغ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ پہلے عوام کو یہ بتایاجائے کہ اردو کسی مخصوص طبقے یا قوم کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی اہم زبان ہے اور ہمارے اس مشن میں دہلی حکومت پوری طرح شامل اور شریک ہے ۔وزیراعلی ،نائب وزیراعلی اور دہلی حکومت کے دیگر وزرا کی شراکت ہمیں ملتی ہے ۔یہ خوش آئند بات ہے ۔ہمارے تمام پروگراموں میں نائب وزیراعلی کا تعاون حاصل ہوتا ہے ۔اکادمی دہلی حکومت ،وزیراعلی اروندکیجریوال اورنائب وزیراعلی منیش سسودیا کا شکریہ اداکرتی ہے کہ اکادمی کوان کا پورا تعاون حاصل ہوتا ہے ۔میں خواتین کے مشاعرے میں شریک تمام شاعرات ،مہمانان خصوصی اور تمام سامعین کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ اداکرتاہوں کہ آپ سب کی شرکت سے یہ مشاعرہ کامیاب ہورہاہے ۔
مشاعرے کی شمع وزیرخوراک ورسد عمران حسین ،پروفیسر شہپررسول ،اکادمی کے سکریٹری ایس ایم علی اور مشاعرے کی صدرشیاماسنگھ صبا اور دیگرشاعرات نے روشن کی ۔اس موقع پر اکادمی کے سکریٹری ایس ایم علی نے عمران حسین کو گلدستہ پیش کیا اور وزیرخوراک ورسد عمران حسین نے تمام شاعرات کو گلدستہ پیش کرکے مشاعرے میں ان کا استقبال کیا ۔
مشاعرے کی نظامت شاعرہ وصحافی وسیم راشد نے کی ۔مشاعرے میں دہلی کی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔
اس مشاعرے میں محترمہ شیاما سنگھ صبا،ڈاکٹرشبانہ نذیر،ڈاکٹرعفت زرّیں،محترمہ شبنم عشائی،ڈاکٹرعذرا نقوی،محترمہ تاجورسلطانہ،محترمہ صبیحہ سنبل،ڈاکٹرمنورممتاز پیربھوئے،محترمہ حنا تیموری ،محترمہ راشدہ باقی،محترمہ علینہ عترت،ڈاکٹرمہ جبیں غزال،محترمہ عظمیٰ160اختر،محترمہ نوری پروین،محترمہ مہک کیرانوی،ڈاکٹرسلمیٰ شاہین،محترمہ خوشبو سکسینہ،محترمہ انیتا مکتی،ڈاکٹرشہلا نواب، ڈاکٹروسیم راشد نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے منتخب اشعار قارئین کے لیے پیش ہے:
ضرور اس میں ہے مصلحت کوئی ورنہ
وہ کیوں مجھ پہ اتنا کرم کرتے ہیں
(شیاما سنگھ صبا)
ایسی پستی کہ بس خدا کی پناہ
مان لو یہ خطا ہماری ہے
(شبانہ نذیر)
پھیلتے ہوئے شہرو! اپنی وحشتیں روکو
میرے گھر کے آنگن پر آسماں رہنے دو
(عذرا نقوی)
آج ساحل پھ جنھیں جشن مناتے دیکھا
کل انھیں خون کے دریا میں نہاتے دیکھا
(عفت زرّیں)
وہ زمانے موت سے کچھ کم نہ تھے
زندگی میں جب تمھارے غم نہ تھے
(ڈاکٹر ممتاز منور)
نرم دل ہونے میں کچھ دیر لگے گی شاید
مضمحل ہونے میں کچھ دیر لگے گی شاید
(صبیحہ سنبل)
زندگی کے لیے کچھ کام ضروری ہے حنا
میں نے لوگوں کو یہ احساس دکھا رکھا ہے
(حنا تیموری)
ہے روح کہاں میرے بدن میں
ویرانے میں پاگل کی ہوا ہے
(ڈاکٹر مہ جبیں غزال)
کوزہ گر نے جب مری مٹی سے تخلیق تو
ہوگئے خود جذب مجھ میں آگ اور پانی پانی
(علینا عترت)
تمھارے علم میں وہ اصل واقعہ کب تھا
ملا تھا تم کو جو میرا مراسلہ کب تھا
(ڈاکٹر سلمیٰ شاہین)
خوشی کے واسطے جینا عذاب کرتے ہیں
عجیب لوگ ہیں خانہ خراب کرتے ہیں
(تاجورسلطانہ)
پتھروں کے شہر میں اے عظمیٰ
خود کو مشکل ہے آئنہ کرنا
(عظمیٰ اختر)
مائیکے جاؤں تو اب تک مری چوکھٹ پہ وسیم
مری ہی شکل کی اک لڑکی کھڑی ملتی ہے
(ڈاکٹر وسیم راشد)
وفا کا فیصلہ اقرار پر ہے
میرا سب کچھ نگاہِ یار پر ہے
(نوری پروین)
خدا دانی کی آڑ میں شہلا
قدر کتنی گری نہیں معلوم
(ڈاکٹر شہلا نواب)
چہرے کا ذکر چھوڑ کے آئینے یہ بتا
کیا کچھ کمی تجھے میرے کردار میں ملی
(مہک کیرانوی)