اردوکوخوداردووالوں سے مسائل کا سامناہے

سلمان عبدالصمد سے فیروز عالم ندوی کی بات چیت !

تازہ کار نسل میں سلمان عبدالصمدنے اپنی خاص شناخت قائم کی ہے۔فکشن اور تنقیدان کی دلچسپی کے موـضوعات ہیںاور ان کے ناول ’’لفظوں کا لہو‘‘ کو حکومت ہند کے ادارہ ساہتیہ اکادمی نے یووا پرسکار 2019سے نوازا ہے۔رسالہ’’پیامِ سدرہ‘‘کے معاون ایڈیٹرفیروزعالم ندوی سے معاصر ادبی سمت ورفتار ، مدارس اور اردو کے متعلقا ت پر ان کی گفتگوکے چند اقتباسات نذرِ قارئین ہیں:

فیروز عالم ندوی : کم عمری میں ہی آپ نے اردو زبان و ادب کی دنیا میں اپنی شناخت بنالی ہے۔یقینا یہاں تک پہنچنے کے لیے آپ نے بہت سی دشواریوں کا سامنا کیا ہوگا۔ لہذا مختصرا اپنا تعارف پیش کریں۔
سلمان عبد الصمد:میری پیدائش دربھنگہ کے ایک چھوٹے سے گاؤںبرّا میں ہوئی۔دلی میں حفظ کیا۔ دارلعلوم ندوۃ العلما لکھنو سے سندِ عالمیت حاصل کی ۔ دلی یونی ورسٹی سے ایم اے کیا اور اب جے این یو میں پروفیسر انور پاشا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہا ہوں۔جہاں تک رہی بات میری شناخت کی تو یہی کہنا مناسب ہوگا کہ ابھی ابتدائے عشق ہے۔ البتہ چند برسوں سے لکھ رہا ہوں۔ میرے چند افسانے اور اسلامی و تنقیدی مضامین شایع ہوئے۔ میں نے ایک ناول ’’لفظوں کا لہو‘‘ لکھا ۔ خدا کا شکرہے کہ امید سے زیادہ لوگوں نے اسے پسند کیا۔
رہا مسئلہ دشواریوں کا تو کسی مرحلے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ لکھتا رہا اور آگے بڑھتا رہا۔ یہاں اتنی بات کہنا چاہتا ہوں کہ بچپن میں میرے ابو کی نانی اور پھوپھیوں نے مجھے قصے سنائے۔ ان قصوں کی وجہ سے میرا ذہن فکشن آشنا ہوگیا تھا۔ جب دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو کی شاخ مدرسہ سیدنا بلال ڈالی گنج پہنچا، تو لکھنے کی طرف مائل ہوا؛کیوں کہ وہاں کے اساتذہ ہر لحاظ سے طلبا کی رہنما کرتے ہیں۔ لکھنے لکھانے کا ماحول بناتے ہیں۔مجھے تو یہاں یہ بھی کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ندوے سے زیادہ میرے لیے سید نا بلال کا ماحول سازگار رہا۔ ندوے کے گیٹ پر بلاوجہ پابندی ہوتی ہے۔ پابندی کے زمانے میں میں سیاسی مضامین لکھنے کی کوشش کرتا تھا، مگر ہفتے بھر کی پابندی سے میرا سیاسی تجزیہ باسی ہوجاتا تھا۔ یہی وہ دور تھا جب میں فکشن کی طرف مائل ہوا۔ اس لیے دشواری کہیں ہوئی تو فقط ندوے میں ۔
فیروز عالم ندوی:نوجوان ناول نگاروں میں آپ نے جگہ بنالی ہے،جس کے اعتراف میں ساہتیہ اکادمی(حکومت ہند) نے آپ کویووا پرسکار سے نوازا، ہم سب آپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یونہی کامیابیاں آپ کی مقدر بنتی رہیں۔ آپ اپنے ناول ’’لفظوں کا لہو‘‘ کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔
سلمان عبد الصمد:میںنے اس ناول میں شہر ودیہات کی کشاکش، جمہوریت وصحافت کے رشتے اور خصوصاً عورتوں کی نفسیات کا گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ سب سے زیادہ صحافت، خصوصاً کارپوریٹ صحافتی گھرانے کی دو غلی پالیسی واضح کی ہے۔ ساتھ ہی حقیقی صحافیوں کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے کہ انھیں کیسے بڑے صحافیوں کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتاہے۔ کیسے انھیں بڑے صحافیوں کے لیے لکھنا پڑتا ہے اور کیسے ان گھرانوں میں چھوٹے صحافیوں کا استحصال ہوتا ہے۔ ان اشاروں کے علاوہ میرے ناول میں بہت کچھ ہے،پڑھنے والے خود اس کی خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ کرسکیں گے۔
فیروز عالم ندوی : ہندوستان میں اس وقت اردو زبان کے لیے کیا چیلنجز ہیں اور ان کا کیسے سامنا کیا جانا چاہیے؟
سلمان عبد الصمد: یہ بہت مشکل سوال ہے۔ کسی ماہر فرد کے لیے بھی اس کا جواب دینا آسان نہیں ؛ کیوں کہ اردو کے لیے چیلنج اردو والے خود بنے ہوئے ہیں۔ اس معاملے کو کئی طرح سے واضح کیا جاسکتا ہے ۔
اول :اخبار کے مالکان ہمیشہ روتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ہمیں اشتہارات نہیں ملتے ہیں، مگر حقیقت برعکس ہے ۔ ملتے ہیں اور بہت ملتے ہیں، مگر ’’اخبارات کے ملازمین‘‘ کو کچھ نہیں ملتا۔ صرف مالکان ہی اشتہارات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اوراس کی ایک سے ایک مثال موجود ہے ۔
دوم: ایسے ایسے اخبارات بھی اشتہارات لے لیتے ہیں جو کبھی مارکیٹ میں نظر نہیں آتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو صحافت کے نام پر خرچ ہونے والا سرمایہ ضائع ہورہا ہے، یہ بھی اردو زبان کے لیے ایک چیلنج ہے۔
سوم: فروغ ِاردو کے لیے بہت سے ادارے قائم ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ فروغ کس کا نام ہے؟ کیا فقط دس اردو والے ایک ساتھ بیٹھ کر اردو کا مرثیہ پڑھ لیں اور لفافے تقسیم کرلیں تو اردو کا فروغ ہوگا؟ کیا مال دار لوگوں کو کتاب شائع کرنے کے لیے مالی مدد دینے سے اردو پھلے پھولے گی ؟ میرا ماننا ہے کہ غیر اردو داں طبقے میں اردو کو پروموٹ کرنے سے اردو کا فروغ ہوگا۔ اس کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں۔ اکیڈماں غیر ضروری سیمیناروں کی روایت ختم کرکے تراجم کے شعبے قائم کرے۔ گلوبلائزیشن کے عہد میں ترجمے کی اہمیت اور بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ظاہر ہے اردو والوں کو دیگر زبانیں سکھانے کا اہتمام کیا جائے گا تو اردو کی خوشبو دوسری زبان کے جاننے والوں تک پہنچے گی اور دوسری زبانوں سے اردو میں بھی سرمایہ آئے گا، مگر یہ سب نہیں ہورہا ہے۔
چہارم: اردو اداروں کا بجٹ کڑوروں میں ہے، مگر یہ مکمل بجٹ فقط سمینار وں اور مشاعروں میں ضائع ہوجاتاہے۔ روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے تو ظاہر ہے اردو کے سامنے چیلنجز پیدا ہوں گے۔ اس لیے اردو اور چیلنجز پر گفتگو کرنا کوئی آسان نہیں ہے؛ کیوں کہ اردو کی جنگ اردو والوں سے ہی ہے۔
فیروز عالم ندوی : بولنے کے اعتبار سے یہ زبان ہندوستان میں کافی وسیع ہے؛ لیکن لکھنے اور پڑھنے والوں کے اعتبار سے کافی کم۔ کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا خاکہ ہے، جس پر عمل درآمد کر کے اس کو ان تمام بولنے والوں کے لیے پڑھنے اور لکھنے کی زبان بھی بنائی جاسکے؟
سلمان عبد الصمد: دیکھئے روزگار کے بغیر اردو کا کچھ بھلا نہیں ہوسکتا۔ جب اردو روزگار سے جڑے گی، تو اس زبان میں لکھنے والے بھی پیدا ہوں گے اور مسلسل پڑھنے والے بھی۔ اردو صحافت اور اکیڈموں کے پاس پیسے بہت ہیں ، مگرصحیح طریقے سے انھیں خرچ نہیں کیا جاتا ہے؛ اس لیے اردو کا بھلا نہیں ہورہا ۔ آپ کے مذکورہ سوال کے ضمن میں جن چیلنجز کا میں نے ذکر کیا ، ان کے خاتمے کے لیے اگر اردو والے کمر کس لیں تواردو کا بھلا ہوگا اور اردو کے پھلنے پھولنے کا خاکہ ازخود تیار ہوکر ہمارے سامنے آجائے گا۔
فیروز عالم ندوی : کیا ایسا کیا جانا ممکن ہوگا کہ اس زبان کو زیادہ عام اور مقبول بنانے کے لیے اس کے رسم الخط کو بدل کر لاطینی یا دیوناگری کر دیا جائے؟
سلمان عبد الصمد:یہ سوال جتنا قدیم ہے ، اتنا ہی فضول؛ کیوں کہ رسم الخط سے ہی زبان کی شناخت ہوتی ہے۔ ہر ایک اردو یعنی فارسی رسم الخط پر ہی کیوں سوال کرتا ہے؟ اس کے علاوہ آج زبان کو مزے دار بنانے کے لیے اردو میںدیگر زبانوں کے الفاظ کثرت سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دراصل ایسے استعمال سے اردو کی چاشنی ختم ہورہی ہے۔ اسی طرح رسم الخط بدلنے سے اردو ، اردو کہاں باقی رہے گی۔ جس کو رسم الخط پر بات کرنے کی بیماری ہے، وہ ایک الگ زبان’’ رومن اردو‘‘ رائج کرلے اور اردو کو اپنی جگہ رہنے دے۔ ایک بات یہ بتائیے کہ سنسکرت اور دیگر زبانوں کا کا دائرہ بھی تو عالمی سطح پر وسیع نہیں؛ لہذا آپ یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ ہندی اور سنسکرت کو رومن رسم الخط میں تبدیل کردیاجائے؛ تاکہ یہ زبانیں بھی عالمی بن جائیں۔
فیروز عالم ندوی : مدارس میں ذریعۂ تعلیم تو اردو ہے، مگر عام طور پر وہ بحیثیت زبان کے صرف ابتدائی درجات میں ہی پڑھائی جاتی ہے، مدارس میں اس زبان کو بحیثیت مادہ کس معیار تک پڑھایا جانا ضروری ہے۔
سلمان عبد الصمد:کوئی ضرورت نہیں ہے منظم سطح پر مدارس میں اردو پڑھانے کی۔ اکثر ہندوستانی طلبا کی مادری زبان اردو ہوتی ہے۔ پھر مدارس میں وسیلۂ تعلیم بھی اردو ہے؛ اس لیے اہل مدارس ازخود اردو بہت جان لیتے ہیں۔ البتہ نصابی مطالعے میں اردو کی چندکتابوں کا مزید اضافہ کردیا جائے؛ تاکہ اردو ادب کی تاریخ سے بھی اہل مدارس کی’’ معمولی آشنائی‘‘ ہوجائے۔
اگر آپ مدارس میں زبان کی سطح پر تبدیلی چاہتے ہیں تو اہل مدارس کو عربی میں ماہر بنانے پر غور کریں؛ کیوں کہ آٹھ دس برس عربی پڑھنے کے بعد بھی وہ عربی میں ماہر نہیں ہوپاتے ہیں ۔ اس پس منظر میں فقط یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ طلبا پڑھتے نہیں۔ حالاں کہ یونی ورسٹی آتے ہی ان طلبا کی عربی میں پر لگ جاتے ہیں ؛ اس لیے اہل مدارس کوشش کریں کہ عربی کو بحیثیت زبان بھی پڑھائیں۔بولنے،لکھنے اور سننے کا باضابطہ اہتمام کریں۔ اہل مدارس کا یہ کھیل بھی سمجھ سے باہر ہے کہ وہ ’’تخصص‘‘ کے نام پر طلبا کے مزید کئی سال برباد کردیتے ہیں ۔ تخصص فی الادب، تخصص فی التفسیر ، تخصص فی الحدیث ۔۔۔برانہ مانیں ، ان درجات کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ ان کے بجائے ’’تخصص فی اللسان ‘‘ کا شعبہ قائم کرنے کی مہم چلائیں۔ زبان سیکھنے کے بعد محنتی طلبا خود تفسیری معاملات میں ماہر ہوجائیں گے۔ حدیث وفقہ میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور جو ماہرنہ بننا چاہیں تو کوئی بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتا ۔ اس لیے ’’تخصص فی اللسان‘‘ قائم کیجیے اور عربی سمیت متعدد عالمی زبانوں کی تعلیم دیجیے۔’’تخصص فی اللسان‘‘ سے کئی فائدے بھی برآمد ہوں گے۔ معاندینِ اسلام کو ان کی ہی زبان میں دندانِ شکن جواب دینا آسان ہو گا۔ عالمی میڈیا میں اہل اسلام بہت کچھ بولنے کے اہل ہوجائیںگے۔ اس کے علاوہ ان کے روزگار کا معاملہ بھی بڑی آسانی سے حل ہونے لگے گا۔
فیروز عالم ندوی :ٹکنالوجی کی محیر العقول ترقیوں نے زبان وادب کو کس حد تک متاثر کیاہے؟ اردو پر اس کے اثرات کتنے گہرے ہیں؟ ان تبدیلیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
سلمان عبد الصمد: ٹکنا لوجی سے زبان وادب کو ہرسطح پر فائدہ ہواہے۔ سوشل میڈیا میںبھی ادب کے متعلق باتیں ہونے لگی ہیں۔ بہت سی زبانوں کے ادیب ایک دوسرے سے متعارف ہورہے ہیں۔یونی کوڈ میں آپ گوگل پر اردو کا مواد سرچ کرسکتے ہیں۔ پھر میں کہوں گا کہ ٹکنالوجی سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے زبانوں کا علم ضروری ہے۔آپ جتنی زیادہ زبان جانیں گے ، ٹکنالوجی سے آپ کی زبان اتنی ہی زیادہ مستفید ہوگی۔اکیسوی صدی میں ٹکنالوجی کا بول بالا ہے ، اس کے باوجود یہ کہا جارہا ہے کہ یہ صدی فکشن کی صدی ہے۔اس سے ہی انداز ہ کیا جاسکتاہے کہ ٹکنالوجی سے ادب کا کوئی بہت زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
فیروز عالم ندوی : آپ نے ہندوستان کی دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے تعلیم مکمل کی ہے، اسی طرح ہندوستان کی نمبر ایک یونیورسٹی جواہر لال نہرو سے بھی فیضیاب ہورہے ہیں۔ دینی اور عصری درسگاہوں میں آپ نے معیار تعلیم کے اعتبار سے کیا فرق محسوس کیا ہے۔ نیز مدارس اور یونیورسیٹیوں کے نصاب تعلیم میں بنیادی فرق کیا ہے؟
سلمان عبد الصمد: ان میںکوئی موازنہ ہی نہیں ۔نہ مدارس کا نصاب زمانے سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی اس کی تدریس کا طریقہ کارآمد۔ حالاں کہ طلبا، مدارس میں یونی ورسٹی کے مقابلے بہت محنت کرتے ہیں۔ اس کے باوجوداہل مدارس فراغت کے بعد’’’ بہت کام‘‘‘ کے نہیں رہ پاتے۔ اگر اہل مدارس یہ کہیں کہ ہمارا کام دنیا کمانا نہیں ،فقط اسلام کی ترویج واشاعت ہی ہمارا فریضہ ہے،تو ہمیں بھی ان کے اس ’’نعرے‘‘ سے کلی اتفاق ہے، مگر مجھے سوال کرنے کی اجازت دیجیے کہ اگر اہل مدارس اپنے ملک میں ہی رائج بڑی زبانوں کا علم نہ رکھتے ہوں، تو کیسے وہ اپنے ملک میں بھی اسلام کی تبلیغ کرسکیںگے؟اگر آپ کے فارغین عالمی زبانوں کا علم نہ رکھتے ہوں،تو کیسے ترسیلی معاملات میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟صرف’’ قدوری‘‘ رٹ لینے اور ’’ہدایہ‘‘ کا تکیہ بنا لینے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ، نہ خود کا ، نہ اسلام کا ، نہ مسلمانوں کا۔ قرآن واحادیث ہر زمانے کے لیے ہیں؛ اس لیے اس پہلو پر بھی ہمیں غورکرنا ہے کہ ہمارے زمانے کے کیا تقاضے ہیں۔اس کے علاوہ تخصص فی اللسان کا شعبہ قائم کرکے چند طلبا کو ہندی میں ماہر میں بنائیں۔ چند ایک کو باضابطہ انگریزی پڑھائیں۔ چند ایک کو جاپانی، فارسی ، ترکش، چائنیز اور دیگرعالمی زبانوں سے آشنا کرائیں۔ ان عالمی زبانوں میں وہ ماہرنہ ہوپائیں، تو بھی کوئی مضائقہ نہیں،البتہ اتنی زبان تو سکھانی ہی چاہیے کہ فارغین ان زبانوں میں بات کرسکیں، اسلام کی تبلیغ کرسکیں۔اسی طرح کسی حدتک ہر طالب کو سائنس کی تعلیم دیں، اگر سب کے لیے ممکن نہ ہوسکے تو کم ازکم تفسیر میں ماہر بننے والوں کو سائنس ضروری پڑھائیں؛ کیوں کہ سائنسی علوم کے بغیر نہ قرآن سے مکمل طور پر لطف اندوز ہواجاسکتا ہے اور نہ ہی قرآن کی تفہیم ہی ممکن ہے۔
فیروز عالم ندوی : ماہنامہ پیام سدرہ اپنی اشاعت کے چار سال مکمل کرچکا ہے، ان چار سالوں میں آپ نے پیام سدرہ کو کیسا پایا؟ مزید اس کو معیاری بنانے کے لیے کیا لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے؟
سلمان عبد الصمد: پیام سدرہ کا پیغام ملک کے طول وعرض میں پھیل رہا ہے۔ سب سے اہم بات ہے کہ ایک ایسی جگہ سے اردو میں یہ رسالہ نکل رہا ہے، جہاں اردو کا رواج نہیں۔ اس طرح دیکھیں تو سدرہ بیک وقت دوکام کررہا ہے ۔ اسلامیات کی ترویج واشاعت اور اردو کا فروغ ؛ لیکن سدرہ کی بدقسمتی ہے کہ وہ اردو ادب اور اسلامیات کے درمیان جھول رہا ہے۔ اگر اس کو مکمل اسلامی پرچہ بنانا ہے، تو قطعاً افسانے یا ادبی مواد شائع نہ کریں، صرف زبان کا مزہ بدلنے کے لیے ادبی چیزوں کو شامل کرنا اور معمولی معمولی ادبی تقاضوں سے انحراف کرنا کوئی عقل مندی نہیں، مثلاً،ا شتہارات میں فوٹو کا استعمال ممنوع۔ بھائی اگر فوٹو سے اس قدر بیر ہے، تو ادبی چیزوں کو ڈالیے جہنم میں۔آپ اسلامی ہی بن کر رہیں،ایک بات یہ کہ اس رسالے میں پہلے سے مطبوعہ مواد کی اشاعت زیادہ ہورہی ہے، حتی کہ اخبارات میں چھپے ہوئے مضامین کو بھی شائع کردیا جاتا ہے، ممکن ہو تو غیر مطبوعہ مواد کی اشاعت کو ممکن بنایا جائے۔
فیروز عالم ندوی : میرا اور آپ کا تعلق پیام سدرہ سے ہے، اس کے ذریعے مختلف درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والے خصوصا دینی مدارس کے طلبا کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
سلمان عبد الصمد:مدارس کے ذہین بچوں کومیرا پیغام بس یہی ہے کہ آپ خالی اوقات میں اپنے متعلق،اپنے قیمتی اوقات اور اپنے گھر والوں کے متعلق سوچ لیاکریں، اس طرح آپ خود راہ راست پر چلیں گے اور وقت کا بہتر استعمال کریں گے ۔ مذکورہ سطور میں میں نے منتظمینِ مدارس کو کئی پیغامات دیے۔ اگر وہ ان پیغامات پر غور وفکر کرنے لگ جائیں گے، تو مدارس کے ذہین ومحنتی طلباکو الگ سے کوئی پیغام دینے کی ضرورت نہیں ؛ کیوں کہ کسی بھی معاملے میں وہ آزاد نہیں ہیں۔بس دعا ہے کہ اللہ ہم اہل مدارس کو حالات کی سمجھ عطا کرے۔(آمین)
(سلمان عبدالصمد کا رابطہ نمبر 9810318692)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*