اردوناول کے نئے ڈسکورس کا ہمیں استقبال کرنا چاہیے:شافع قدوائی


ساہتیہ اکادمی اورمحفل نساء کے اشتراک سے پانچ معاصر ناولوں پر ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد
بنگلور:ساہتیہ اکادمی اور محفلِ نساء بنگلور کے باہمی اشتراک سے الامین کیمپس بنگلور میں ’’اکیسویں صدی کے اہم اردو ناول‘‘کے عنوان سے ایک روزہ سمپوزیم منعقد کیا گیا، جس میں سید محمد اشرف، انیس اشفاق، رحمن عباس، نورالحسین اور فیاض رفعت کے ناولوں پر ناقدین نے اپنے مقالات پیش کیے اور ناول نگاروں نے ناول کے کچھ حصوں کی قرأت کی۔ساہتیہ اکادمی کے مقامی سکریٹری ایس پی مہالنگیشور اورصدر محفل نساء شائستہ یوسف نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ پہلے سیشن میں سید محمد اشرف کے ناول ’’آخری سواریاں‘‘ پر مشہور نقاد شافع قدوائی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اشرف ہمارے عہد کے اہم فکشن نگار ہیں،ان کا تازہ ناول گنگا جمنی قدروں کے انتشار کا بیانیہ ہے، ماضی اور اقدار اشرف کی دوسری تحریروں میں بھی ایک اہم موضو ع کے طورپر دکھائی دیتے ہیں، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ نقاد نظام صدیقی نے انیس اشفاق کے ناول ’’خواب سراب‘‘ کی تہہ داری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انیس اشفاق نے مرزا رسوا کے ناول ’’امراؤجان ادا‘‘ کے متن کو ایک نئی تعبیر عطا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شہر لکھنؤ کے تہذیبی سرمایے کو ناول میں محفوظ کیا ہے۔صدرمحفل نساء اور معروف شاعرہ شائستہ یوسف نے پہلے سیشن کے اختتام پر رسم شکریہ ادا کرتے ہوئے سمپوزیم کے مقاصد پر بھی روشنی ڈالی۔
دوسرے سیشن میں ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ فکشن نگار بیگ ا حساس نے رحمن عباس کے ناول ’’روحزن ‘‘ کو ممبئی کی زندگی پر ایک اہم ناول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں آج کل لوگ تاریخی متون میں کھوئے ہوئے ہیں، رحمن عباس اپنے عہد کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ روحزن کی کہانی بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ناول کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے شروع کرنے کے بعد قاری ختم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ عزیزاللہ بیگ نے نورالحسین کے ناول’’چاند ہم سے باتیں کرتا ہے‘‘ پر مضمون پڑھتے ہوئے کہا کہ دنیا کی اہم رومانی داستانوں کوحسین نے ایک ناول میں سمودیا ہے ۔اس ناول کے ذریعے محبت کی جادوگری کے ماضی کے قصوں کو سامنے رکھ کر ہم عہد حاضر کے تصورِ عشق کو سمجھ سکتے ہیں۔ آخری مقالہ فیاض رفعت کے ناول’ ’بنارس والی گلی‘‘ پر شہزاد انجم نے پڑھا۔ شہزاد انجم کے مطابق فیاض رفعت کا ناول بنارس پر ایک منفرد ناول ہے،انہوں نے کہاکہ یہ ناول پورے شہر کی ثقافت اور سیاست کو عمدگی سے پیش کرتا ہے ۔سمپوزیم میں پڑھے گئے مقالات پر شافع قدوائی نے تفصیلی بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانچوں ناول اپنی انفرادیت کے سبب اس سمپوزیم کا حصہ بنے ہیں اور یہ ایک کوشش ہے ادب کو سمجھنے اور مکالمے کو آگے بڑھانے کی،خوش آئند بات ہے کہ اردو ناول کا سفر اب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،انہوں نے کہاکہ ناول پر ہونے والے ڈسکورس کا ہمیں استقبال کرنا چاہیے۔