ادبی تاریخ میں علاقائی ادب کااہم حصہ: پروفیسر مولا بخش

دربھنگہ میں دوروزہ بین الاقوامی سیمنار اختتام پذیر


دربھنگہ: 7 جنوری ، (قندیل نیوز)دربھنگہ کے تاریخی تعلیمی ادراہ مہاراج لکشمیشور میموریل کالج دربھنگہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، نئی دہلی اور بہار اردو اکادمی، پٹنہ کے جزوی مالی تعاون سے دوروزہ بین الاقوامی سیمنار کئی معنی میں تاریخی اہمیت کا حامل رہا۔ واضح ہوکہ دربھنگہ میں پہلی بار بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا گیا اور مرکز سے دور دراز علاقے میں جس طرح اردو ادب کے ادیب وناقد نے اپنی موجودگی سے مقامی سائقین ادب کو پرمغز مقالات سے محظوظ کیا اور تاریخ پارینہ کے جتنے ابواب وا کیے اس سے نئی نسل کو ایک نئی روشنی حاصل ہوئی۔ واضح ہوکہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد نے گزشتہ کل افتتاحی اجلاس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اس سیمنار کا مقصد اپنے اکابرین کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ تمام مقالہ نگاروں نے اس حقیقت کو ملحوظ خاطر رکھا اور ان شخصیات پر مقالات پیش کیے جسے عہد حاظر میں لوگ بھولتے جارہے ہیں۔ آج دو تکنیکی اجلاس ہوئے ۔ واضح ہوکہ ایک تکنیکی اجلاس کل ہی افتتاحیہ کے بعد ہوا تھا۔آج اجلاس دوئم کی مجلس صدارت میں پروفیسر شاکر خلیق، پروفیسر مولا بخش اور پروفیسر آفتاب احمد آفاقی شامل تھے۔ جبکہ مقالہ نگاروں میں پروفیسر صفدر امام قادری(پٹنہ)، ڈاکٹر مشرف علی(وارانسی)، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی(پٹنہ)، ڈاکٹر جاوید دانش (کنیڈا)، ڈاکٹر عالمگیر شبنم(دربھنگہ)، پروفیسر انیس صدری( سمستی پور) ڈاکٹر شمشاد اختر (بہیڑی)، ڈاکٹر نازیہ بیگم(دربھنگہ) نے اپنے مقالات پیش کیے۔
اجلاس سوئم کی صدارت پروفیسر صفدر امام قادری،ڈاکٹر جاوید دانش، پروفیسر کمال الدین اور ڈاکٹر آفتاب اشرف نے کی۔مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر نفاست کمالی، عاقل زیاد،عصمت آرا، محمد ارشد حسین، جاوید اختر، ریحان احمد قادری، مہتاب عالم خاں، محمد سجاد خاں ، شباہت پروین، محمد رضوان وغیرہ شامل تھے۔
جلسہ اختتامیہ کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر صفدر امام قادری، پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر محمد زاہدالحق نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ پروفیسر مولا بخش (علی گڑھ) نے سیمنار کے موضوع کی تعریف کی اور کہا کہ اس طرح کے موضوع’’اردو کے فروغ میں دربھنگہ کے ادباء وشعراء کا حصہ 1960تک‘‘ تحقیق وتنقید کے نئے دریچے کھولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب کی تاریخ اسی وقت مکمل ہوسکتی ہے جب ہم علاقائی تاریخ کی کڑیوں کو جوڑیں گے اور یہ سمینار اس کی ایک پہل ہے۔ پروفیسر مولا بخش نے کہا کہ دربھنگہ اگرچہ سنسکرت اور میتھلی کا گہوارا رہا ہے لیکن یہاں کے اردو کے قلمکاروں نے پوری اردو دنیا کو اپنی علمی وادبی ضیا سے روشنی بخشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمینار کی ایک تاریخی حیثیت ہے کہ عصری اردو ادب کے بیشتر چاند ستارے یہاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ آفاقیت اس وقت تک مستحکم نہیں ہوسکتی جب تک مقامیت کو فروغ حاصل نہیں ہوگی۔ علاقائیت تعصب نہیں بلکہ ایک علاقے کی شناخت کو مستحکم کرنے کا مثبت جذبہ ہے۔ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، صدر شعبہ اردو ، بی ایچ یو(وارانسی) نے کہا کہ زمانے قدیم سے یہ علاقہ علم ودانش کا رہا ہے اور ادبی مراکز سے دور رہتے ہوئے بھی یہاں کے قلمکاروں نے دنیائے ادب کو تازگی نو کا احساس کرایا ہے اور اب تو دربھنگہ بھی ایک ادبی دبستان کی حیثیت رکھتا ہے۔یہاں کے ادباء وشعراء کی علمی وادبی خدمات کو فراموش کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی سیمنارنے بہت سے سوالات کے حل کردئیے ہیں۔ جن ادبی شخصیات سے ہم ناواقف تھے ان سے نہ صرف واقف ہوئے ہیں بلکہ ان کی خدمات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سو دوسال پہلے اس علاقے میں اس طرح کے گوہر نایاب موجود تھے۔
اردو کے نامور ناقد پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا کہ جب ہم ہندوستانی زبانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو میتھلی اور اوہٹ کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے فروغ کا پتا چلتا ہے کہ تیرہویں صدی میں جب ودیا پتی میتھلی اور اوہٹ میں شاعری کررہے تھے تو ان کے یہاں بھی اردو کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس علاقے میں اردو زبان کا چلن بہت پہلے سے ہے۔ اس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دربھنگہ کی لسانی خدمات کے ذکر کے بغیر ہندوستانی لسانیات کا باب مکمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اس بین الاقوامی سیمنار کے لئے ایم ایل ایس ایم کالج کے پرنسپل اور اساتذہ کو مبارباد پیش کیا کہ بہت ہی اہم موضوع پر سمینار منعقد ہوا ہے۔
اختتامیہ اجلاس کے صدر اور کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ہم نے جن مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے موضوع طئے کیا تھا وہ دونوں کے چار اجلاسوں میں اردو کے ناقدین اور ریسرچ اسکالروں کے مقالات نے واضح کردےئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر دربھنگہ کے ادباء وشعرء کی خدمات کی دھندلی تصویر صاف ہوئی ہے اور جب تمام مقالات کتابی صورت میں سامنے آئیں گے تو یہاں کے ادباء اور شعراء کی علمی وادبی خدمات سے پوری دنیا واقف ہوگی۔انہوں نے تمام مقالہ نگاروں، سامعین، اساتذہ، طلبہ وطالبات اور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا کہ موسم کی خرابی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں اردو ادب کے سائقین سیمنار میں شامل ہوئے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ آج بھی شمع اردو کے پروانوں کی کمی نہیں ہے۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شمع کو فروزاں کیا جائے، یہ ایک زندہ زبان ہے اور یہ کبھی پژمردہ نہیں ہوسکتی۔ سمینار میں ڈاکٹر نجیب اختر، احتشام الحق، جنید آروی، ڈاکٹرنثار احمد، ڈاکٹر جنید احمد، پروفیسر محمد فیروز، فیروز احمد، ڈاکٹر ارمان، پروفیسر پریم موہن مشرا، ڈاکٹر کرشنا نند مشرا، اسرار الحق لاڈلے، آفتاب عالم، شامل تھے۔