اتحاد امت کی فضا قائم کرنے کی ضرورت :مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے زیر اہتمام امام سید محمد علی مونگیری کی خدمات قدیم صالح اور جدید نافع کے پس منظر میں کے عنوان سے سمپوزیم کا انعقاد
نئی دہلی :
گزشتہ شب بعد نمازمغرب اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی جانب سے سیمینار ہال اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا میں’’ امام سید محمد علی مونگیر ی کی خدمات قدیم صالح اور جدید نافع کے پس منظر میں‘‘ کے عنوان سے اہم سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا و سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے کی پروگرام کا آغاز قاضی عاشق الہی صاحب کی تلاوت سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض مفتی احمد نادر القاسمی نے انجام دیے
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صدر اجلاس مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا کہ
اس وقت دنیا میں جتنی بھی فقہ اکیڈمیاں ہیں ان میں سب سے زیادہ جدید مسائل پر کام اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ہے یہاں سب سے زیادہ مسائل حل ہوئے ہیں، بعض عرب علما کی رائے ہے یہاں کے مسائل میں احتیاط اور اعتدال کا پہلو بہت زیادہ ہے، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے قابل افتخار ہےاس کی ایک جہت تعلیمی ہے کہ اسلامی علوم میں ہمارے علما فضلا کس طرح مہارت حاصل کریں جبکہ دوسرا پہلو فکری تربیت کا ہے ، ہمارے بہت سے پروگرام فکری پہلو کو لیے ہوئے ہیں ان پروگراموں کے ذریعہ کوشش ہوتی ہے کہ عالم اسلام اور ملک کے مفکرین کی فکر کو روشن کیا جائےمولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہا کہ ایک اہم بات غور کرنے کی یہ ہے کہ امت کو جن اختلافات سے دوچار ہونا پڑتا ہےوہ دو طرح کے ہیں ایک اسلام کی طرف سے دوسرے غیر مسلم کی طرف سے پہلا مسلکی ہے یہ کوئی خاص نہیں ،سلف صالحین نے اختلاف رائے کو برا نہیں سمجھا تاریخ اسلام میں کئی موقعے ایسے آئے جہاں اختلافات کا ختم کیا جانا ممکن تھا مگر سلف صالحین نے اس کو ترجیح نہیں دی دوسرے غیر مسلمین کی طرف سے یہ دوسری جہت ہے،ہمیں آپسی اختلافات پر توجہ دینے کے بجائے باہر سے اسلام پر جو حملے ہو رہے ہیں اس پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے
مولانا عتیق احمد بستوی قاسمی استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مولانا محمد علی مونگیری کا نام بہت متعارف ہے ،آج مولانا محمد علی مونگیری کی کتابیں شائع کرنے کی ضرورت ہے، ان کے علمی اور فکری کارناموں پر پی ایچ ڈی ہونی چاہیے،انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عیسائیت اور قادیانیت کے رد اور اسلام کی تبلیغ میں صرف کیا انہوں نے صرف فرقہ قادیانیت کے رد میں سو رسالے لکھے، مولانا محمد علی مونگیری کی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ تحریک ندوۃ العلماء ہے، ان کے تعلیمی نظریات بھی بہت اہم ہیں باضابطہ اس پر سیمینار کی ضرورت ہے،حضرت مولانا علی مونگیری کی خواہش تھی کہ ندوۃ العلماء میں ایسا دارالافتاء ہونا چاہیے جہاں جدید مسائل کے حل پر توجہ دیا جائےاور ندوۃ العلما کے قیام کے اگلے ہی سال دارالافتا کا قیام عمل میں آ گیا،مولانا بستوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ایسے فضلا کی ضرورت ہے جو دنیا کی بہت سی زبانوں سے اچھی طرح واقف ہوں اور ان زبانوں میں اسلام کی ترجمانی کرسکیں بہت سے ایسےممالک ہیں جہاں انگریزی میں سننا لوگ پسند نہیں کرتے آج محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ندوہ جن مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا ان میں سے کتنے پورے ہوئے اور کتنے باقی ہیں ان سب کو پورا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، تحریک ندوہ کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے، مولانا نے مزید کہا کہ
مخالف حالات میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے، جس زمانہ میں مولانا مونگیری اور نانوتوی وغیرہ نے کام کیے بہت ہی بدتر حالات تھے مگر یہ حضرات پیچھے نہیں ہٹے، اپنا ایک مقصد اور لائحۂ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے، آج ایسے علما کی ضرورت ہے جو اسلام کا تعارف بھی پیش کریں اور دفاع بھی کر سکیں ،پروگرام کا اختتام مولانا عبدالقادر خان قاسمی کی دعا پر ہوا، پروگرام میں بطور خاص مولانا فیروز اختر قاسمی، مفتی اعجاز ، مولانا اسامہ، پروفیسر توقیر احمد خان، ڈاکٹر مجیب احمد، مفتی امتیاز، مولانا سعید انور قاسمی ، مولانا عبدالقادر خان،
ڈاکٹر مشتاق تجاری، مفتی امتیاز احمد اور مولانا صفدر ندوی وغیرہ نے شرکت کی.