اب گداگر ہیں

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 1

فضیل احمد ناصری

ہماری ملتِ بیضا ہی سب پہ چھائی رہی
اگرچہ بولَہَبوں سے سدا لڑائی رہی

جہاں جہاں سےبھی گزرے،ہمیں رہےفاتح
ہمارے زیرِ قدم کفر کی خدائی رہی

مقابلہ تھا سکندر میں اور قلندر میں
شہنشہی سے فزوں تر مری گدائی رہی

جو کل سکندرِ اعظم تھے، اب گداگر ہیں
ہماری محفلِ غیرت جمی جمائی رہی

وہ بت کدے سے جڑا تھا، اسی لیے چھوٹا
میں کلمہ خواں تھا، معلق مری رہائی رہی

خلوصِ دل تھا ہمارے بڑوں کا سرمایہ
ہماری منزلِ مقصود خود نمائی رہی

جہانِ گندم و جو سے نکل گئے وہ لوگ
دلوں میں جن کے شریعت سدا سمائی رہی

ملے گا کیا ہمیں اب سیرِ فصلِ گل کر کے
چمن میں جب نہ عنادل کی خوشنوائی رہی

اٹھے جو عالمِ فانی سے، کھل گئیں آنکھیں
نہ اپنے لوگ رہے اور نہ دل ربائی رہی

  • سعید الرحمن سعدی
    9 فروری, 2018 at 17:12

    ” تازہ” کے بعد” تازہ بہ تازہ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    سچ پوچھیے! تو مزہ دوبالا ہوگیا،اللہ تازگی کے اس سلسلے کو بہتری اور برتری کے ساتھ ساتھ دوام نصیب فرمائے۔
    اٹھے جو عالمِ فانی سے، کھل گئیں آنکھیں
    نہ اپنے لوگ رہے اور نہ دل ربائی رہی
    مصرعہ ثانی کو اگر یوں پڑھا جائے تو اس جملہ کا حسن مزید بڑھ جائے گا۔
    نہ اہل دل ہی رہے اور نہ دل ربائی رہی

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*