ابن کنول کا افسانہ”ہمارا تمھارا خدا بادشاہ“

شاہد اقبال
پی،ایچ،ڈی اسکالر دہلی یونیورسٹی
افسانوی نثر میں اندازِ بیان کے مختلف النوع آہنگ اور موضوعات کی بہت اہمیت ہے۔ اسی وجہ سے ہر افسانہ نگار کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ ابن کنول کااندازِ بیان اور موضوعات ان کے ہم عصروں سے مختلف ہے۔ ابن کنول آج بھی داستانوی اندازِ بیان کی اس قدیم ہندوستانی قصّہ گوئی کی روایت کو زندہ وجاوید کیے ہوئے ہیں جس کا ماضی بہت تابناک تھا۔وہ داستان جس میں کسی بھی ملک کی تاریخ، تہذیب، رسم ورواج وغیرہ کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ محمد حسن نے کہا تھا کہ ”افسانہ ملک وقوم کی بنیادی حقیقتوں کو ایک دل نشیں پیرایے میں ذریعہ اظہار بخشتا ہے“۔”ہمار اتمھارا خدا بادشاہ“ بھی ملک وقوم کی بنیادی اوراندرونی حقیقتوں کو پیش کرتا ہے کہ جس میں حکومتِ وقت کی گندی سیاست اور اس کی عیاری ومکاری کوموضوع بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ افسانہ داستانوی رنگ میں ہے۔یعنی داستان افسانے کاتحت متن ہے اوراس کے اندر بہت کڑوی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابن کنول آج بھی اس افراتفری دور میں جس میں انسان کو سانس لینے کی فرصت نہیں ہے کیوں داستانوی رنگ کے قصّے کی طرف قاری کے ذہن کوراجع کررہے ہیں؟ شاید ابن کنول اس دنیا کو پسند کرتے ہیں جہاں انسانوں کی قدر ہو، جہا ں امن وسکون ہو۔
ابن کنول کا نام اردو افسانوی ادب میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ وہ محقق،ناقد، افسانہ نگار،ڈرامہ نگار، مفکر کے ساتھ ہردلعزیز استاد بھی ہیں۔ لیکن ابن کنول دنیائے ادب میں بحیثیت افسانہ نگار ہی مشہور ومقبول ہیں جن کے کئی افسانے اردو ادب میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔جیسے نیا درندہ، تیسری دنیاکے لوگ، لکڑبگھا زندہ ہے،وغیرہ۔ ابن کنول کے اب تک چار افسانوی مجموعے منظرِ عام پرآچکے ہیں پہلامجموعہ تیسری دنیا کے لوگ(1984)، بندراستے (2000)خانہ بدوش (2014)اور پچاس افسانے(ان کے افسانوں کا انتخاب ہے) (2015)زیرتبصرہ افسانہ ”ہمارا تمھارا خدا بادشاہ“ چوتھے مجموعے میں شامل ہے۔یہ افسانہ واحد غائب راوی کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں زیادہ کردار نہیں ہے۔یہ افسانہ علامتی افسانہ ہے۔جس کی کہانی میں کوئی پیچ وخم نہیں۔ کہانی یہ ہے کہ ایک شہر ہے جہاں کے لوگ ایک آسمانی عذاب کا شکار ہیں،عقاب آئے دن شہر پر منڈلا تا ہوا دکھائی دیتا ہے جس کے پنجے میں سانپ لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ جوکسی نہ کسی کے اوپر گرکرڈس لیتا ہے۔ پہلی بارجب یہ واقعہ ہوا تو اتفاق سمجھا گیا لیکن بار بار جب یہ واقعہ رونما ہونے لگا تو لوگوں میں خوف وہراس پیدا ہوا۔اس آسمانی عذاب سے نپٹنے کے لیے شہر کے دانشوران ایک ساتھ بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے، جس میں عقاب کومارنے کامشورہ ہوا۔ایک دن ایک نوجوان کے ہاتھوں عقاب مارا گیا، شہر میں خوشیاں منائی گئیں،لیکن اگلے روز ایک نہیں بلکہ کئی عقاب آسمان میں اڑتے ہوئے نظر آئے اور سب کے پنجے میں سانپ تھا۔ اس واقعہ سے شہر کے افراد جہاں پناہ کی رہائش پر گئے اوراپنا حال بیا ن کیا۔ جہاں پناہ نے آسمانی عذاب سے چھٹکارا دلانے کا وعدہ کیا جہاں پناہ کی اس بات سے سب خوش ہوئے مگر اچانک جہاں پناہ کی عالیشان محل میں چارعقاب سانپوں کو دبائے ہوئے داخل ہوئے اورمجمع پر چھاگئے۔ رعایا نے عالم غیض وغضب میں جہاں پناہ کی طرف دیکھاوہ اب بھی کہہ رہا تھا تم سب میری اولاد کی طرح ہو، تمھارے لیے فکر مند ہیں ہم۔
بظاہریہ کہانی بہت آسان اور سہل معلوم ہورہی ہے۔ لیکن جب ہم افسانے کابغور مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ راوی موجودہ زمانہ اور داستانوی عہد کا تقابل کررہاہے۔ یہ افسانہ سپاٹ بیانیہ یا سیدھے سادے اندازمیں بھی لکھا جاسکتا تھا مگر یہاں افسانہ نگار افسانے کی بنت میں داستانوی اندازِ بیان اختیار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ راوی اس افسانے میں افسانہ نگار کم اور داستان گو زیادہ معلوم ہورہا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کی تشکیل میں اساطیر کابہت اہم رول ہوتا ہے اسی لیے levis strauss نے کہا ہے کہ "Myth Thinks into the man”دنیا کے ہر مذہب میں مذہبی اساطیر ی واقعہ ملتا ہے اورمذہب کے علاوہ اساطیری واقعہ داستانوں میں خوب ملتے ہیں۔ عموماً داستانوں میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی رعایا کا ایک بادشاہ ہوتا ہے جہاں کے لوگ عیش وعشرت کے ساتھ رہتے ہیں اگر کسی طرح کے آفات آتی ہیں تو اس کامقابلہ کرکے آخر میں پھرسے سکون قائم ہوجاتا ہے۔ مگر ”ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘‘میں شروع سے آخر تک پورا شہر پریشان حال نظر ہے۔ یعنی کہ راوی زمانے کے بدلتے ہوئے رنگ کو پیش کیا ہے اور موجودہ حکومت پر بہت بڑا سوال کھڑا کیا ہے کہ کب تک سیاست کی بھنور میں عوام کوپریشان رہنا ہوگا؟ یہاں عوام سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جو مزدور اور غریب طبقے سے ہیں۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
”سانپ انہیں کی گردنوں پر کیوں گرتے ہیں جن کے سروں پر اونچے مکانوں کی چھتیں نہیں ہوتیں۔ جن کوزندگی کا تمام سفر پیدل طے کرنا ہوتا ہے۔جوموسموں کی تبدیلیوں کواپنے جسموں پربرداشت کرتے ہیں۔“ص63
اس اقتباس میں بہت بڑا سوال پوشیدہ ہے جو ہرزمانے کے لیے باعث فکر بنا رہتا ہے۔ اس طرح کے سوالات مارکس اور لینن وغیرہ نے بھی اٹھائے تھے۔ملک گیر سطح پر جوبھی واقعات حادثات ہوتے ہیں چاہے وہ فتنہ وفساد ہویا جبر وظلم کی کوئی بھی صورت، اس آگ کا شکار عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سروں پر اونچے مکان نہیں ہوتے اور وہ پوری زندگی پیدل سفر طے کرتے ہیں۔یعنی وہ جومزدورہیں کسان ہیں یا مفلس۔ ایک اقتباس اور ملاحظہ ہو جس سے حکومت کی اس گندی سیاسی کھیل سے پردہ فاش ہوجائے گا جس سے بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں۔ وہ اس دعوے کا شکار ہوجاتے ہیں:
”اور جب تیسرے روز بھی یہ حادثہ پیش آیا تو تمام افراد شہر کواپنی گردنوں پر سانپ اور سروں پرعقاب اُڑتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ صاحب دانشورغور وخوض میں مبتلا ہوئے کہ اب اتفاق نہیں ہے۔ اتفاق مسلسل نہیں ہوتا۔ پورے شہر میں اجتماعی مشورے ہونے لگے، مفتیان شہر نے اعلان کیا کہ اس شہر میں گناہ بڑھتے جارہے ہیں۔ شاید یہ خدا کے عذاب کی ایک شکل ہے کہ اس سے پہلے بھی آسمانی پرندوں نے کنکڑیا ں برسائی تھیں اور جولوگوں کے سروں میں اتر گئی تھی۔“ص60
مذکورہ بالا اقتباس سے قاری کا ذہن سب سے پہلے اسلامی اساطیر کے اس واقعہ کی طرف جاتا ہے جب ابابیل خانہ کعبہ کی حفاظت کے لیے ابرہہ کی فوجوں اور ہاتھیوں کو تباہ کرنے کے لیے ساتویں آسمان سے آئے تھے۔ لیکن یہاں ابابیل نہیں بلکہ عقاب نامی پرندہ ہے جواپنے پنجے میں سانپوں کو لے کرآتاہے بازار میں چھوڑ دیتا ہے۔عقاب آج کے ”شرپسند عناصر“ اورمارِسیاہ”ہتھیار یا پُرپیچ قوانین“ کی علامت ہے۔ سانپ کا گلے میں پڑنا اور لوگوں کو ڈسنا حکومتی طبقے کااپنے عوام کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار کرنے کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔اگر ہم اس اقتباس کو موجودہ تناظر میں دیکھیں تو حکومت کے اس ایجنڈے پرطنز معلوم ہوتا ہے جو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے بار بار عوام کومذہب،زبان، علاقہ،ذات اور برادری کے نام پر بانٹ کر اوران میں نفاق اورجھگڑے پیدا کرتے ہیں اورپھر یہی حکومتی طبقہ ان کے درد کامداوا کرنے کا دعویٰ کرتاہے۔
ابن کنول کے افسانوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے یہاں متن کا صرف ایک مفہوم ادانہیں ہوتا بلکہ ہرمتن کا تحت المتن ہوتا ہے اس اقتباس کی گہرائی میں جاکر غور وفکر کرنے پر ایک مسئلہ اور بھی سامنے آتا ہے کہ جس طرح موجودہ دور میں اکثریت کی طرف سے اقلیت پر جبر وظلم و بربریت ہورہا ہے اسے اتفاق سمجھنے کی اب غلطی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس مسئلہ پر غور وخوض ضروری ہے۔
اس افسانے کے مطالعے سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں خودان کے آدمی یاان سے جڑے ہوئے لوگ فتنہ وفساد مچاتے ہیں توسرکار خاموش رہتی ہے یعنی دفاع کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اس کے برعکس دوسری تنظیم جب کوئی چہل قدمی کرتی ہے پھر حکومت کا تیور بے رخا ہوجاتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
”ہم جانتے ہیں کہ ہماری رعایا ایک عذابِ آسمانی میں گرفتا ر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے اورایسا کیوں ہورہا ہے۔ تم سب ہماری اولاد کی طرح ہو۔ ہم تمھارے لیے فکر مند ہیں۔اور کوشش کریں گے کہ تم لوگوں کوجلد اس مصیبت سے نجات ملے۔ہم نے اپنے وزیروں کی ایک جماعت کو اس کی تحقیقات کے لیے متعین کیا ہے۔“
اس اقتباس کوموجودہ حالات کے پس منظر میں دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ راوی نے اکثریت طبقہ کی اس تنظیم کی طرف اشارہ کیاہے جو موجودہ حکومت کے اہم رکن ہیں جو آئے دن حکومت کے کہنے یاپھر اپنی مرضی سے جبر وظلم وفسادات برپاکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حکومت سب کچھ جانتی ہے مگر وہ خود کوانجان ثابت کرتی ہے جیسے کچھ جانتی نہیں۔ اورجب اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو وہ صرف عوام کو تسلّی دینے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم اس مسئلے پرقدم اٹھائیں گے۔ اورجب عوام کو حکومت کا اصلی چہرہ نظر آتا ہے تب تک وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔
ابن کنول کے افسانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ ”تخصیص کو تعمیم کے رنگ میں پیش کرکے اپنی کہانیوں کو ہر طرف سے کھلا رکھا ہے۔“ یہی وجہ ہے کہ ابن کنول کے افسانے عوام میں مقبول عام ہیں۔ وہی تخلیق زندہ رہتی ہے جو ہر قرات میں قاری کو نئے معنوی ابعاد کااحساس دلائے۔ ابن کنول کا یہ افسانہ علامتی ہے جس کو کئی زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ”ہمارا تمھار خدا بادشاہ“ خالص (Pure)ہندوستانی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ اس افسانہ کا اندازِ بیان ہو یا پھر موضوع سب میں ہندوستانی عناصر موجودہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ راوی نے موجودہ ہندوستانی حکومت کے اس چہرے کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے جوبہت کم افسانہ نگار کرتے ہیں۔ یعنی اس سیاسی چال کو جوخود حکومت چلتی ہے اور عوام کو دھوکے میں رکھ کر ان کانقصان کرتی ہے اور پھرSympathyبٹورتی ہے۔ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں اب کوئی آپ کا نجات دہندہ نہیں یعنی آپ کو خود ہی خودکانجات دہندہ بننا ہوگا۔ یہی اس افسانے کی تھیم ہے جسے ابن کنول نے بڑے ہی فنکارانہ انداز میں تشکیل دی ہے۔ان کا یہ مختصر افسانہ دراصل صدیوں سے جاری مسئلے کی طرف ذہن کو راجع کرنے والی ایک بلیغ کہانی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*