آوازِدوست،جوابِ دوست اور دھوپ چھاؤں

(مختارمسعود،نسیم انصاری اور ریاض الرحمن شیروانی کی کتابوں کا مطالعہ)
(پہلی قسط)
نایاب حسن قاسمی
مختارمسعود کی نثر میں سحر ہے،ان کے طرزِ تحریر میں دلکشی اور بیان و ادامیں بے پناہ جاذبیت ہے۔’’آوازِدوست‘‘جو دراصل ان کی یادداشتوں پر مشتمل تقریباً ڈھائی سو صفحے کی کتاب ہے،اس میں کیاکچھ نہیں ہے!یہ کتاب بہ یک وقت آپ بیتی ہے،جگ بیتی ہے،سفرنامہ ہے،تحقیق ہے،تنقید ہے،تاریخ ہے،تشریحِ مذہب ہے اوربیسویں صدی کے زیادہ ترغیرمنقسم اورکچھ منقسم ہندکا سیاسی جائزہ ہے۔ان کا ذہن گہرے تجربات کا مخزن اور ان کی نگاہ وسیع تر مشاہدات کی جلوہ گاہ ہے،ان کے قلم میں وہ قوت ہے،جوالفاظ،تعبیرات و تراکیب کو اپنا اسیر بنالیتی اوردلنواز و دل آگیں معانی و مطالب جھرنے کے مانند اس سے بہتے چلے جاتے ہیں،روانی ایسی ہے کہ قاری ان کی تحریر کی اوج موج میں کھوجاتا ہے،سبکی و شیرینی اتنی کہ پڑھتے ہوئے ان کے لفظوں کاخوشگوار ذائقہ آنکھوں سے گزرکر زبان و ذہن کے اَعماق میں اتر جاتا ہے،ان کے بعض جملے معانی کی کائنات آباد کیے ہوتے ہیں، مختصر لفظوں میں وہ تاریخ کے کئی ابواب کو سمیٹ دیتے ہیں۔یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ ان کا ذہن ایک ہی وقت میں کئی ایک موضوع کو سوچ سکتا اور ان کا قلم بہ یک وقت کئی عنوانات پر سرپٹ دوڑتاہے،وہ اپنے آپ کو پڑھواتے نہیں ،قاری پر افسوں پھونکتے اور اس کے دل ودماغ میں جادوجگاتے ہیں،اس کتاب میں ان کی تحریراور موضوعِ تحریر اس تیزی سے پہلو بدلتے ہیں اور قاری کے ذہن وخیال کو اس سختی سے جکڑلیتے ہیں کہ وہ ان کے بیان و حکایات کابے دام اسیر ہوکر رہ جاتاہے،ان کے لہجے میں ایک اسطوریت اور طلسمی کیفیت ہے ،جوسسپنس کاسماں پیدا کردیتی ہے ۔وہ ایک ساتھ تاریخی واقعات بیان کرتے،اپنی اور دوسروں کی سرگزشتِ حیات سناتے،بیسویں صدی کی سیاست پر تبصرے کرتے،ادب و شعر کے مختلف مسائل پر اظہارِ رائے کرتے،اسی دوران مشرق و مغرب کی اپنی من پسند شخصیات اور ان کے کارناموں کا ذکر چھیڑدیتے،درمیان میں بڑی چابک دستی سے مذہبی حوالے بھی استعمال کرتے جاتے ہیں اور ان کے قاری کی کیفیت ایک صبا رفتار ٹرین میں کھڑکی کے پاس بیٹھے اس مسافرکی سی ہوتی ہے،جس کے نگاہوں کے سامنے ہر آن منظربدلتا ہے ،خوب صورت،نہایت خوب صورت،دل کوبھانے والا،کریہہ ،شوخ ،بھدا، مناسب ، مسرآمیز،غم انگیز ، سروربخش ،یاس انگیز وغیرہ وغیرہ۔
آوازِ دوست میں خود ان کے بقول’’صرف دو مضمون ہیں،ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر،ان دونوں مضامین میں فکر اور خون کا رشتہ ہے،فکر سے مراد فکرِ فرداہے اور خون سے خونِ تمنا‘‘۔پہلے مضمون کا عنوان’’مینارِ پاکستان‘‘ہے اور اس میں انھوں نے مینارِ پاکستان کی تعمیر کے پس منظر سے لے کر انسانی سیاسی تاریخ میں میناروں کی تعمیر اور ان کی مختلف نوعیتوں پر ایک تاریخی دستاویز فراہم کردی ہے،پھر ان کا ذہن ماقبل آزادی کے حالات کی طرف منتقل ہوگیاہے اور وہ قیامِ پاکستان کے دلائل یکجا کرنے لگے ہیں،اس ضمن میں انھوں نے مسلم لیگ کے فضائل پر اپنا قلم توڑدیاہے ، اس دھن میں وہ کانگریس کے ساتھ قوم پرست مسلمانوں ، جمعیت علما ،مجلسِ احراراورخاکسارتحریک پر کہیں لطیف اور کہیں غیرلطیف طنزبھی کرتے گئے ہیں۔اس مضمون کے اختتام پر۱۹۶۸ء کا سال درج ہے۔دوسرا مضمون ہے’’قحط الرجال‘‘اور اس کی شروعات یوں ہے:
’’قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی،مرگِ انبوہ کا جشن ہو،تو قحط،حیاتِ بے مصرف کا ماتم ہو،تو قحط الرجال،ایک عالَم موت کی ناحق زحمت کا ،دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا،ایک سماں حشر کا،دوسرا محض حشرات الارض کا،زندگی کے کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں‘‘۔(ص:۴۹)پھر اصل بات ۱۳؍ستمبر ۱۹۳۸ء سے شروع ہوئی ہے ،جب وہ مسلم یونیورسٹی ہائی اسکول میں پانچویں کلاس کے طالب علم تھے اوران کے گھر ایک چینی مسلمان آئے تھے،ان کے والد(شیخ عطاء اللہ جوتب اے ایم یومیں معاشیات کے پروفیسر تھے) نے انھیں کہاتھاکہ ان سے ملواور ان کا آٹوگراف حاصل کرو،پھرانھوں نے ورمافوٹوگرافرکے یہاں سے ایک نیلے رنگ کا البم لیا ،مہمان کو پیش کیا اور انھوں نے چینی زبان میں کچھ لکھا ، پھر البم کے ایک صفحے پراپنا دستخط ثبت کردیا،ان کا نام محمد ابراہیم شاکیوچن تھا۔ پھروہ اپنی پرانی یادوں میں کھوجاتے ہیں ،پے درپے واقعات ذکر کرتے اوران کے نتائج و حاصلات پر گفتگو کرتے جاتے ہیں،مغرب و مشرق کے بڑے لوگ ،ان کی زندگیوں،ان کے کارناموں پر وہ بڑی خوبی و خوب صورتی سے تبصرے کرتے ہیں،ان کے آٹوگراف البم میں یکے بعد دیگرے کئی بڑے لوگوں کے دستخط ثبت ہوتے جاتے ہیں،جن میں بہادریارجنگ،ای ایم فاسٹر،ملاواحدی،مولاناحسرت موہانی،ظفرعلی خاں،سیدعطاء اللہ شاہ بخاری،نواب حمیداللہ خاں،راجہ محمودآباد،محمد عثمان ود،سروجنی نائیڈو،ٹائن بی،محمد علی جناح جیسے لوگوں کے نام ہیں،ان میں سے ہر ایک دستخط کے سابقہ اور لاحقہ کے طورپر اس سے جڑی اپنی یادوں اور واقعات کو وہ دلچسپ اندا ز میں بیان کرتے ہیں۔بہادریار جنگ کی خطابت اور اس سے جڑے واقعات پر خوب لکھاہے،ای ایم فاسٹر کی ناول نگاری اور اس کی ادبی عبقریت کا تذکرہ پرلطف ہے،ملاواحدی کے تذکرہ کرتے ہوئے ان کے زمانے کی دلی کی رودادملاواحدی کی زبانی ایک مختلف زاویے سے بیان کی ہے،انہی کی زبانی دیوبنداور علی گڑھ کا علمی ظہور،دونوں کے بانیوں کی ایک استاذ اور ایک درس گاہ سے وابستگی اور پھر دونوں میں سیاسی اختلافات پر سرسری تبصرہ کیاہے،مفتی کفایت اللہ دہلوی کی علمی وجاہت،فقہی بصیرت ، معاملہ فہمی اور توازنِ فکر و نظرکے اعتراف کے ساتھ طلاق کے ایک مسئلے پرمعروف کانگریسی رہنما ووکیل اور مفتی صاحب کے درمیان ہونے والے ایک علمی ، قانونی وفقہی مباحثے کا تذکرہ،ساتھ ہی ملاواحدی کایہ بیان کہ’’دیوبند میں بڑے بڑے صاحبِ علم و کمال گزرے ہیں،مگرادب سے ان کا زیادہ تعلق نہیں رہا،آپ نے شیخ الہند کے ترجمۂ قرآن پاک پر شبیر احمد عثمانی کے حاشیے دیکھے ہوں گے،زبان کے لحاظ سے بہت معمولی ہیں۔اشرف علی تھانوی بہت باکمال بزرگ تھے،مگر تھانہ بھون زبان اور محاورے کے لیے سند نہیں ہے،خواجہ حسن نظامی نے ایک بار’’منادی‘‘میں معافی نامہ شائع کیا،جس میں لکھاتھا کہ میں مولوی اشرف علی تھانوی سے اس بات پر معافی مانگتا ہوں کہ میں نے بہشتی زیور پر فحش نگاری کی تہمت رکھی ہے،مگر میں اپنی اس رائے کے لیے معافی نہیں مانگ سکتا کہ انھیں اردو لکھنی نہیں آتی،علمامیں زبان پر ادیبانہ قدرت صرف نذیر احمد کو حاصل تھی،بے حد محنتی اور ذہین تھے،محض مولوی نذیر احمد نہ تھے؛بلکہ ڈپٹی نذیر احمد تھے؛لہذاعلمانے انھیں مان کر نہ دیا،ویسے نذیر احمد کے مزاج میں شوخی تھی،وہ ادب کی خاطر دین سے بے ادبی کرجاتے تھے،ان کے ترجمے(ترجمۂ قرآن) کے بعض مقامات محلِ نظر ہیں‘‘۔(ص:۱۱۲۔۱۱۱)
احرارکے بارے میں مسعود صاحب کا نظریہ صاف نہیں؛اس لیے سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی خطیبانہ عبقریت اور فکر و نظر کی نابغیت کو تسلیم کرنے اور ان سے ملاقات کی اپنی خواہش و اشتیاق کے اظہار ، پھر ان سے ملنے کی روداد کے بالتفصیل بیان کے ساتھ بعض حوالوں سے ڈنڈی بھی مارگئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:’’جب میں ملتان تعینات ہوا،تو ضلع کے اہم افراد کی ایک فہرست پیش ہوئی،اس میں سرکردہ افراد بھی تھے اور سرکش اشخاص بھی،بڑے سے بڑے ٹوڈی سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے باغی کانام درج تھا۔ایک نام دیکھ کر میں ٹھٹھک گیا،یہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کانام تھا‘‘۔(ص:۱۴۷)انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ شاہ صاحب کانام کس ضمن میں درج تھا …سرکردہ افراد میں ،سرکشوں میں ،ٹوڈیوں میںیا باغیوں میں؟قاری کو ان کے طرزِ بیان سے مغالطہ ہوتاہے کہ شاید شاہ صاحب کانام ’’سرکشوں‘‘یا’’باغیوں ‘‘میں ہوگا۔ آگے انھوں نے لکھاہے کہ شاہ صاحب اپنی ذات سے ایک انجمن تھے اوراس انجمن کانام مجلسِ احرار تھا،مگر احرار کے تئیں ان کے دل میں جو شدید بغض یا بدگمانی تھی ،اس کے اظہار کے لیے فوراً ہی لکھتے ہیں:’’ظفرعلی خاں نے اسی مجلسِ احرار کا قافیہ بیزار،اشرار،غلط کار،چندے کے طلب گار اور رسوا سرِ بازار سے ملایاتھا‘‘۔انھوں نے کتاب کے کل نوصفحات میں شاہ صاحب کا تذکرہ کیاہے اور بیشتر تعریفی جملے کے فوراًیاچندسطروں کے بعد کوئی ایسا جملہ ضرور لکھاہے،جس سے ان کی ذات یا جس تحریک سے وہ وابستہ رہے ،اس کے سقم کا پہلو نکلتاہو،اس طرح ایک توانھوں نے احرار کے تئیں اپنے روایتی تحفظ کا اظہار کیا،دوسرے چوں کہ وہ ان دنوں گورنمنٹ کے آدمی تھے اور پاکستان حکومت نے ابتدائی دنوں میں باقاعدہ احرارکوموردِملامت قراردے رکھاتھا؛اس لیے بھی وہ صرف تعریف نہیں کرسکتے تھے۔۲۸؍جون ۱۹۵۹ء کو شاہ صاحب سے اپنی ملاقات کاحال بھی لکھاہے ، انھیں شاہ صاحب سے ملنے کا اشتیاق تھا،انھوں نے شاہ جی کے ایک ملنے والے منشی عبدالرحمن کو بیچ میں ڈالا،شاہ صاحب کو پہلے تو یہ جان کر کہ وہ ڈپٹی کمشنر ہیں ،ملنے میں تامل ہوا،مگر پھران کے یہاں پہنچے،کئی گھنٹوں کی مجلس رہی اور اس دوران شاہ صاحب نے اپنے مزاج و مذاق کے مطابق گزشتہ چالیس سال کی بر صغیر کی سیاسی و سماجی تاریخ کے اوراق الٹ کر رکھ دیے،مسعودصاحب نے لکھاہے کہ اسی اثنامیں انھوں نے شاہ صاحب سے متعدد سوالات بھی کیے اور انھوں نے ان سوالوں کے جواب بھی دیے۔آخری سوال انھوں نے پوچھا:’’اگر قیامت کے دن آپ سے پوچھاگیا کہ اے وہ شخص،جسے بیان و کلام میں چالیس کروڑ افراد پر فوقیت دی گئی تھی،اس خطابت کا حساب پیش کرو،توآپ ناکام تحریکوں کے علاوہ کیاپیش کریں گے؟اسی سوال کی دوسری شکل یہ تھی کہ آپ نے اپنی جدوجہد کا انجام دیکھ لیا،اب اگر زمانہ چالیس برس پیچھے لوٹ جائے،توآپ اپنی خطابت اور طلاقت کا دوبارہ وہی استعمال کریں گے یا آپ کی زندگی بالکل نئی ہوگی؟شاہ جی یکایک خاموش ہوگئے،ان کی خاموشی میں آزردگی بھی شامل تھی،میں نے موضوع بدل دیا اور اپنی آٹوگراف البم ان کے سامنے پیش کردی‘‘۔(ص:۱۵۲)
ملاقات کا یہ اختتامیہ ایسا ہے گویا شاہ صاحب مختار مسعود کا سوال سن کر لاجواب ہوگئے،ان سے کوئی جواب بن نہیں پڑرہاتھا،تو فوراً ہی مختارصاحبنے بات کارخ پھیر دیا،گویا اس طرح انھوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور احرار کی چالیس سالہ سیاسی و سماجی جدوجہد کی ناکامی و نامرادی پر مہر ثبت کرنا چاہی ہے۔ ان کے جیسے دیدہ ور اہلِ علم و قلم کی ایسی تنگ نظری تاریخ کے طالب علموں کوآزردہ کرتی ہے اور جب حقائق کے دوسرے رخ سامنے آتے ہیں،تو تکلیف ہوتی ہے کہ تمام تر روشن دماغی و روشن ضمیری کے دعووں کے باوجود بھی انسان کہیں نہ کہیں جانبداری و تعصب کاشکارہوکررہتاہے۔بہر حال شاہ صاحب سے مختار مسعود کی ملاقات کا ایک احوال تووہ ہے،جو’’آوازِ دوست‘‘میں ملتاہے اور اسے اب تک ہزاروں لوگوں نے پڑھاہوگا اور احرار و بخاری کے بارے میں ایک رائے قائم کرلی ہوگی،جبکہ اسی ملاقات کی ایک روداد مجھے ایک دوسری کتاب’’شورش کاشمیری:احوال و آثار‘‘میں پڑھنے کو ملی،جس کے مطابق مختار مسعود کے بیان کردہ واقعے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے شاہ صاحب کے بیٹے سید عطاء المومن نے ۱۵؍ستمبر ۱۹۸۵ء کو فیصل آباد کے ایک جلسے میں یہ کہاکہ :جناب مختار مسعود نے دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام لیاہے،جہاں تک اس ملاقات کا تعلق ہے،تو وہ ہوئی تھی اوراس میں اور بھی لوگ شامل تھے، جو سبھی زندہ ہیں اور اس واقعے کے گواہ ہیں اور اب بھی اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اس ملاقات کا مقصد حکومت کی طرف سے شاہ جی کودو مربع زمین مع ٹیوب ویل کی پیش کش کرناتھا،مگر شاہ صاحب نے سختی سے انکار کردیااور یہ کہاکہ:میں نے تو آپ کو شریف انسان سمجھ کر ملاقات کی تھی۔(ص:۶۱۳)جہاں تک ان کے سوال کا تعلق ہے،تواس کا جواب ہر اُس انسان کے ذہن میں ہونا چاہیے،جوبیسویں صدی کی پہلے پچاس سال کی تاریخ سے آگاہ ہے،یہ حقیقت ہے کہ احرارجن مقاصد و مطالبات کو لے کر اٹھے تھے،فی الجملہ ان میں انھیں ناکامی ہاتھ آئی،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی جدوجہد کا اصل محور اجنبی حکومت سے سرزمینِ ہند کو پاک کروانا تھا اوراس کے لیے انھوں نے خصوصاً مڈل کلاس اور غریب مسلمان طبقے میں جوش وجذبہ پیدا کرنے کی مہم چلائی اوراس میں وہ کامیاب رہے،اسی طرح انھوں نے برصغیر میں پیدا ہونے والی جھوٹی نبوت کے خلاف جس شدت سے مسلم ذہن ودانش کو مجتمع کیا،اسی کا نتیجہ تھا کہ ایک زمانے کے بعد اس کے متبعین کو اقلیتوں کی فہرست میں شامل کیاگیا۔مختار صاحب کی چالیس سال والی بات بھی عجیب ہے؛کیوں کہ اگر زمانہ چالیس سال پیچھے لوٹے گا،توحالات بھی تو لوٹ کر وہیں پہنچیں گے ؛چنانچہ ان حالات میں ایک انسان اپنی صواب دید پروہی راہِ عمل اختیار کرے گا،جو اس نے پہلے اختیارکیا تھا۔ ویسے احرار اپنی تحریک میں کتنے کامیاب رہے اور کتنے ناکام،اس پر بھرپور اور غیر جانبدارانہ تبصرہ آغاشورش کاشمیری نے کیاہے،جو ان کی کتاب’’سید عطاء اللہ شاہ بخاری:سوانح و افکار‘‘اور ’’تحریکِ ختم نبوت‘‘میں موجودہے،اس موضوع پر شورش کی بات اس لیے قابلِ توجہ واستنادہے کہ وہ خود احرار کے شعلہ بجاں کارکنوں میں رہے ،اس کے باوجود انھوں نے جہاں فخر و مسرت کے ساتھ احرار کی کامرانیوں کا ذکرکیا ہے ،وہیں کھلے دل سے ان کی غلطیوں کی بھی نشان دہی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*