آوازِدوست،جوابِ دوست اور دھوپ چھاؤں

(مختارمسعود،نسیم انصاری اور ریاض الرحمن شیروانی کی کتابوں کا مطالعہ)
(آخری قسط)
نایاب حسن قاسمی
مختارمسعود نے تقسیمِ ہند کے فوراً بعد شاہجہانی مسجد میں تقریر کی صورت ظاہر ہونے والی مولاناآزاد کی مظلومانہ ٹیس اور دردوکرب کے اظہار کو بھی دوسرا رخ دینے کی کوشش کی اور ۱۹۲۱ء و ۱۹۱۴ء کی ان کی تقریروں کے حوالے سے اپنے فہم و استدلال کے زور پریہ بتانا چاہاہے کہ مولانا آزادگویاسرے سے علی گڑھ تحریک کے سخت مخالف تھے۔(آوازِدوست،ص:۱۷۰۔۱۷۱)حالاں کہ ان کے دوست شروانی صاحب نے اپنے فہم و مطالعے سے یہ سمجھاکہ شبلی کی طرح مولانا آزاد بھی محض علی گڑھ کے سیاسی موقف کے خلاف تھے،ان کے اختلاف کی نوعیت اس سے زیادہ کچھ نہیں تھی،پھر وہ کہتے ہیں:’’اور علی گڑھ کے سیاسی موقف سے تو خود ایم اے اوکالج اور بعد میں مسلم یونیورسٹی کے متعدد طالب علموں نے بھی انحراف کیا۔سرسید کے عہد کے سیاسی تقاضے جوبھی رہے ہوں،جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا گیا،علی گڑھ کی سیاست کا نقص واضح سے واضح تر ہوتاگیا‘‘۔(دھوپ چھاؤں، ص:۹۸)خود مولانا آزاد نے آزادی کے بعد ۲۰؍فروری۱۹۴۹ء کومسلم یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے کانووکیشن میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے واضح طورپر کہاتھا کہ انھوں نے اختلاف سرسید کے سیاسی نظریے سے کیاتھا،بحیثیت ایک مصلحِ قوم اور رہنماے تعلیم کے ہمیشہ ان کے دل میں سرسید کی عظمت رہی۔یہ پوری تقریرڈاکٹر محمدضیاء الدین انصاری کی کتاب’’مولانا آزاد،سرسیداور علی گڑھ ‘‘(ط:۱۹۹۲ء)میں شامل ہے، نومبر۲۰۱۵ء کے ’’تہذیب الاخلاق‘‘کے شمارے میں بھی شائع کی گئی تھی۔افسوس ہے کہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے جناب مختار مسعود نے اس تقریر کو بھی غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
پروفیسر ریاض الرحمن شروانی صاحب کونظریاتی اختلاف کے باوجودذاتی تعلقات میں تنوع اور فکر و نظر کی آزادی و کشادگی کا ماحول ان کے عظیم خاندان سے ملاہے؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف جب جناح صاحب علی گڑھ نازل ہوتے،تو حبیب منزل میں ٹھہرتے تھے اور ان کے والد نے ۱۹۴۶ء کاصوبائی اسمبلی کاالیکشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑکرکامیابی حاصل کی تھی،مگر دوسری طرف ریاض الرحمن شروانی باقاعدہ عملی سیاست میں عدمِ شمولیت کے باوجود قوم پرستانہ نظریہ رکھتے تھے، مولانا آزاد کے شیدائی تھے اور ہندومسلم اتحاد کے ساتھ تحریکِ آزادی کو آگے بڑھانے کی انھیں اتنی دھن سوار تھی کہ جب ۱۹۴۶ء میں مولانا آزاد نے قوم پرست مسلم رہنماؤں کی کانفرنس بلانے کا ارادہ کیااور اخبارات کے ذریعے اس کی خبر شروانی صاحب کو ملی ،توعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنے ہم خیال دوستوں کوساتھ لیا اور دیوبند جاپہنچے،دارالعلوم دیوبند کے طالب علموں سے ملاقات کرکے انھیں آمادہ کیا اور طلباکا ایک وفدلے کر دہلی کی اس کانفرنس میں ہاتھ بٹانے نکل پڑے،اس کانفرنس میں اے ایم یوکی نمایندگی شروانی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے کی اور دیوبند کی نمایندگی فریدالوحیدی اور مولانا سالم قاسمی وغیرہ نے کی۔(ص:۱۴۷۔۱۴۶)
تیسری کتاب نسیم انصاری کی ’’جوابِ دوست‘‘ہے،جو خاص ’’آوازِ دوست‘‘کو سامنے رکھ کر؛بلکہ مختار سعود کو مخاطب کرکے لکھی گئی ہے،یہ دراصل ’’تہذیب الاخلاق ‘‘میں شائع شدہ سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے،چھوٹے سائز کے پونے دوسو صفحات پر مشتمل ہے،کتابی شکل میں ان کی اشاعت پہلی بار ۱۹۸۸ء میں ہوئی تھی ۔نسیم انصاری تحریکِ آزادی کے اہم ارکان مولاناسلامت اللہ کے پوتے اور مولانا محمد شفیع حجت اللہ کے صاحبزادے تھے، انھوں نے۴۷ء تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی،پھر کلکتہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اوراس کے بعد لندن سے سرجری کی تعلیم حاصل کی اوراس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں ،اے ایم یومیں میڈیکل کالج کے قیام میں ان کا کلیدی کردار تھا۔انھوں نے بھی’’جوابِ دوست‘‘میں اپنی یادداشتیں جمع کی ہیں اور علی گڑھ سمیت کلکتہ و انگلستان میں بیتے ہوئے ایام وواقعات بیان کیے ہیں،بیسویں صدی میں علی گڑھ یا اس کے باہر کمیونزم اورترقی پسند تحریک کے خدوخال واضح کرنے پر زیادہ زور دیاہے،’’جوابِ دوست‘‘آل احمد سرورکی زبان میں علی گڑھ کی ایک’’جان دار،طرح دار اور معنی خیز تصویر‘‘ہے اور یہ بھی اس تصویر سے خاصی الگہے،جوہمیں مختار مسعود ’’آوازِ دوست‘‘میں دکھاتے ہیں۔
مختار مسعود کی ’’آوازِدوست ‘‘کوریاض الرحمن شروانی کی’’دھوپ چھاؤں‘‘اور نسیم انصاری کی’’جوابِ دوست‘‘ کے ساتھ ملاکر پڑھاجائے،تو ایک سادہ دل قاری بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہونے سے بچ سکتاہے اور مختار مسعود کی پرکیف ادبیت وشیرینیِ اداکے ساتھ پروفیسر ریاض الرحمن شروانی کی عقلیت پسندی و صاف گوئی، نظر و فکر کی رواداری واعتدال اورنسیم انصاری کے حسنِ بیان وسادگیِ اسلوب سے اچھی طرح لطف اندوز ہوسکتا ہے،ساتھ ہی اس کے سامنے۱۹۳۵ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احوال کی یک رخی تصویر کی بجاے بہت ساری تصویریں سامنے آجائیں گی۔ معلومات وواقعات اور حکایات و تجربات کے کئی منفرداورباہم متضادومتشابہ مناظر سامنے آئیں گے اور کسی بھی تعلق سے کوئی رائے قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
ویسے مختار مسعود نے حسرت موہانی اور ظفر علی خاں کی ادبی و صحافتی زندگی بڑا دلنشیں تبصرہ کیا ہے ،سروجنی نائیڈو کے فکری توسع اور مسلمانوں سے ان کے ثقافتی لگاؤ کو قدرے مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیاگیا ہے۔جناح صاحب تو خیر ان کے ممدوح و محبوب ،قبلۂ آرزواور کعبۂ مقصودہی تھے،توکتاب کے اخیر میں ان سے ملاقات اور آٹوگراف کے حصول کی رودادبڑے دلچسپ پیرایے میں بیان کی ہے۔ جب ملک تقسیم ہوا،تب وہ اے ایم یومیں ایم اے کے طالب علم تھے،اگلے سال انھوں نے ایم اے پوراکیا اور اس کے بعد پاکستان چلے گئے،وہاں انھوں نے سول سروسزکے امتحانات پاس کیے،ڈپٹی کمشنراور وفاقی سکریٹری رہے ،پاکستان انڈسٹریل کارپوریشن اورایگری کلچرل ڈیولپمنٹ بینک کے چیئر مین اور ریجنل کوآپریشن فارڈیولپمنٹ کے سکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ ۱۵؍اپریل ۲۰۱۷ء کو ان کا انتقال ہوا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*