آسام میں شہریت کا معاملہ: این آر سی میں اندراج کے لیے جمعیت علماے آسام نے ماہرین کی ٹیم تشکیل دی

مولانا بدر الدین اجمل نے ہر ضلع میں کیمپ لگاکر لوگوں کی مدد کرنے کی ہدایت دی
نئی دہلی:۱۰ جولائی(پریس ریلیز) آسا م میں نیشنل رجسٹر برائے سیٹیزن (این آر سی) کی دوسری لسٹ ۳۰ جولائی ۲۰۱۸ کو شائع ہونے جا رہی ہے جس کو لیکر آسام کے لوگوں میں بڑی بے چینی ہے کیونکہ انتظامیہ کے نئے نئے فرمان کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں حقیقی شہریوں کا نام شامل نہ ہوسکے گا۔ ایسے نازک وقت میں جمعیۃعلماء صوبہ آسام کے صدر ، آل انڈیا یو نا ئیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ بالکل نہ گھبرائیں جمعیۃ علماء ہمیشہ کی طرح ابھی بھی لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء صوبہ آسام ابتداء سے ہی شہریت سے متعلق مقدمات ہائی کورٹ ،ڈسٹرکٹ کورٹ، فورین ٹریبیونل میں لڑتی رہی ہے اور اس کے بعد ۲۰۰۹ میں جب شہریت کا معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تب ہی سے ہم اسے لڑ رہے ہیں کیونکہ یہ لاکھوں لوگوں کے حقوق اور وجود کی لڑائی ہے۔انہوں نے کہاکہ ۳۰، جولائی ۲۰۱۸ کو جب این آرسی کی دوسری لسٹ شائع ہوگی اور کسی وجہ سے کسی کا نام اس میں نہیں شامل ہوا تو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اسے دوبارہ اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا اسی لئے تمام لوگ ہمت اور حوصلہ سے کام لیں۔اس وقت کے حالات سے نمٹنے کے لئے جمعیۃ علماء صوبہ آسام نے پورے صوبہ کے تقریبا پندرہ سو لوگوں کا انتخاب کیا ہے جس میں وکلاء ، دانشوارن اور ماہرین شامل ہیں اور ہر ضلع میں ان وکلاء اور ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو کیمپ لگاکر ا ن لوگوں کی مدد کریں گے جن کے پاس ڈوکومنٹ ہے پھر بھی ان کانام کسی وجہ سے ۳۰ جولائی کی لسٹ میں شامل ہو نے سے رہ گیا ہو گا ۔ ہر ضلع کی ٹیم سپریم کورٹ کی ہدایات اور گائڈ لائنس کے مطابق لوگوں کو شہریت کا دعوی از سر نو دائر کرنے کے لئے جو فارم بھرا جائیگا اس میں مدد کرنے اور اس سلسلہ میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ہی ماحول کو پر امن رکھنے کی بھی کو شش کریگی۔واضح رہے کہ ۲۰۱۳ میں جب آسام میں این آر سی کی تیاری کا حکم آیا تھا ، تبھی سے جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے ذمہ داران نے ہر ضلع میں ٹیم بناکر ہزاروں کی تعداد میں ٹریننگ کیمپ ، ورک شاپ اور پبلک پروگرام کے ذریعہ لوگوں میں بیداری پیدا کی اور ان کی مدد کی ہے کہ کس طرح فارم بھر نا ہے اور کون کون سا دستا ویز ضروری ہے۔اسی طرح لوگوں کو امن و امان قائم رکھنے کی ترغیب بھی دیا ہے کیونکہ فرقہ پرستوں کی منشاء ہے کہ مسلمانوں کوبھڑ کایا جائے اور فساد بر پا کیا جائے۔مولانا اجمل نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب تک آسام میں امن و امان قائم رہاہے اور انشا ء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔ مولانا نے مزید کہا کہ ملک کی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی اور فیلڈ میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے حکومت کے ذمہ داران سے بھی الگ الگ موقعوں پر ملاقات کرکے پریشانیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا جس میں صدر جمہوریہ،وزیر اعظم، وزیر داخلہ، آسام کے گورنر ، آسام کے چیف منسٹر،نیشل سیکورٹی اڈوائزر ( قومی سلامتی مشیر)،وزارت داخلہ کے سکریٹری، رجسٹرار جنرل آف انڈیا، این آر سی کے کو آر ڈینیٹر، آسام کے وزیر اعلی شامل ہیں۔مولانا نے کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ آسام میں شہریت کا فیصلہ آسام اکورڈ کے مطابق ہو، یعنی جو لوگ ۲۵، مارچ، ۱۹۷۱ سے پہلے یہاں آچکے تھے ان کو یہاں کا شہری تسلیم کیا جائے اور جو لوگ اس تاریخ کے بعد آئے ہیں ان کو غیر ملکی سمجھا جائے چاہے وہ کسی بھی مذہب، ذات اور برادری کے ہوں۔مولانا نے کہا کہ افسوس ہے کہ اب مذہب دیکھ کرشہریت طے کرنے کی تیاری چل رہی ہے جو اس جمہوری ملک کی روح کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم بالکل واضح انداز میں کہہ دینا چاہتے ہیں کہ آسام اکورڈ کے مطابق جوغیر ملکی پایا جائے اس کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ان کے ملک بھیجا جائے مگر ہندوستان کے حقیقی شہریوں کا ان کے مذہب اور زبان کی وجہ سے استحصال بند ہو، مذہب کی بنیاد پر شہریت کا پیمانہ طے نہیں کیا جا سکتا۔اسلئے ہم ہندوستان کے حقیقی شہریوں کے لئے بلا تفریق مذہب وملت ہر محاذ پر انصاف کی لڑائی لڑ تے رہیں گے اور فرقہ پرستی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے تاکہ انصاف کی جیت ہو۔