آسام میں شہریت کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے اس حساس موضوع پر جانبدارانہ سیاست نہ کی جائے:مولانااسرارالحق قاسمی

کشن گنج:31جولائی(قندیل نیوز)
آسام میں قومی شہری رجسٹریشن(این آرسی)کی حتمی فہرست کا مسودہ تیار کیاجاچکاہے جس میں چالیس لاکھ سے زائد لوگوں کااندراج نہیں کیا گیا ہے،اس معاملے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اور ایوان کے باہر بھی مرکزی و ریاستی بی جے پی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ آسام میں شہریت کا مسئلہ ایک خالص انسانی مسئلہ ہے اور اس پر جانب دارانہ سیاست کسی طوردرست نہیں ہے۔انھوں نے کہاکہ حکومت نے یہ لسٹ نہایت جلدبازی میں تیار کی ہے،جس کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد کا اندراج ہونے سے رہ گیاہے،مولاناکاکہناہے کہ اگر واقعی این آرسی سے چالیس لاکھ سے زائد افراد کو خارج کردیاجائے تواس سے نہایت اندوہناک صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جس پر حکومت کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔البتہ مولانا قاسمی نے اس پر اطمینان کا اظہار کیاکہ یہ سارا پروسیس براہ راست سپریم کورٹ کی نگرانی و سربراہی میں چل رہاہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ ملک کی معززعدلیہ آسام کی متعلقہ آبادی کو انصاف فراہم کرے گی۔البتہ ساتھ ہی مولانا قاسمی نے حکومت کی نیت پر تشویش کا بھی اظہار کیااورانھوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت اس معاملے میں عملی طورپر جانب داری کا مظاہرہ کررہی ہے اور چوں کہ متاثرین میں زیادہ مسلمان ہیں اس لئے انھیں شہریت سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔انہوں نے آسام کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ چوں کہ ابھی فہرست حتمی طورپر قابلِ عمل نہیں ہے اور قانونی اعتبار سے اسے چیلنج کرنے کا موقع موجودہے لہذابغیر کسی مایوسی اور دہشت کا شکار ہوئے قانونی طورپر اپنے حق کی لڑائی جاری رکھیں ،امن و امان برقراررکھیں اورصبرواستقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حساس معاملے میں حکومت کی ہدایات پر عمل کریں۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں آسام کے شہریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے جمعیت علمائے ہند کی جانب سے مسلسل امداد فراہم کی جارہی ہے اور کورٹ میں ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ آسام میں این آرسی میں اندراج کے سلسلے میں عوام کی رہنمائی کے لئے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں،لہذااس لسٹ میں جن لوگوں کانام آنے سے رہ گیاہے وہ سنجیدگی سے قانونی اقدامات کریں اور حکومت کو مطلوبہ دستاویزات مہیاکروائیں اور اس سلسلے میں حکومت کا تعاون کرنے کے ساتھ اپنا حق حاصل کرنے کے لئے بھر پور مستعدی کا مظاہرہ کریں۔واضح رہے کہ24؍مارچ1971ء کی نصف شب کی کٹ آف کی بنیاد پر آسام کے این آرسی کو اپڈیٹ کرنے کاکام2013ء میں یو پی اے گورنمنٹ کے دوران سپریم کورٹ کی نگرانی میں شروع ہوا تھا،جبکہ این آرسی کے لئے درخواستوں کی وصولی کا عمل مئی2015ء کے اواخر میں بی جے پی حکومت کے دوران شروع ہوا اور 31اگست کو ختم ہوا تھا،اس سلسلے میں پہلا مسودہ1.90 کروڑ درخواست دہندگان کے ناموں کے ساتھ دسمبر 2017ء میں جاری کیاگیا تھا۔