آدھی دنیا کی دلخراش داستانِ الم

ni8
ڈاکٹر منور حسن کمال
بعض واقعات دنیا میں اس تواتر کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ ان پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے، سیکڑوں مرتبہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ عورت نے عورت کو رسوا اور خوار کیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کا واقعہ ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے کہ ایک بی جے پی ایم ایل اے نے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کو مبینہ طور پر ایسے الفاظ سے یاد کیا کہ کوئی عام عورت بھی اس طرح کے الفاظ برادشت نہیں کرسکتی۔ حالاں کہ انہوں نے بعد میں اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی ہے، لیکن زبان سے لگایا گیا زخم اتنا کاری ہے کہ وہ جلد مند مل ہوتا نظر نہیں آتا۔ مذکورہ ایم ایل اے نے ایک پروگرام میں اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ کو عورت ذات پر کلنک قرار دینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان کے خلاف بی ایس پی کی جانب سے معاملہ درج کیے جانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اس واقعے کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی ہر طبقے کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی اور یہ بات ایک مرتبہ پھردرست ثابت ہوئی کہ کھسیانی بلّی کھمبا کیوں نوچتی ہے۔ دراصل جب سے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں عام انتخابات 2019 کے لئے اتحاد ہوا ہے بی جے پی کے خیمہ میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور اس کے لیڈر اپنے مخالفین کی تذلیل کے بہانے تراشتے نظر آرہے ہیں۔ یوں تو عورتیں ہر زمانے میں عورتوں کے ذریعہ ہی جتنا شرمسار ہوئی ہیں، اتنا انہیں مردوں نے شرمسار نہیں کیا ہے۔ بات چاہے جہیز کے لئے استحصال کی ہو یا جہیز کم لانے یا نہ لانے پر شوہر کے گھر کی عورتیں ہی زیادہ ذمہ دار نظر آتی ہیں۔ شاز و نادر ہی ایسے واقعات سامنے آئیں گے جن میں اکیلے مرد عورتوں پر تشدد اور الزامات کے لئے ذمہ دار قرار دیا گیا ہو ۔ اسی ہفتے چھتیس گڑھ کی ایک رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہے۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چھتیس گڑھ میں گزشتہ ڈھائی برس میں تقریباً تین ہزار خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ خواتین نے ہیلپ لائن کے ذریعہ مدد طلب کی ہے۔ یہ صرف ایک ریاست کے اعداد و شمار ہیں پورے ملک میں کیا صورت حال ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی جان لیجئے کہ یہ اعداد و شمار وہ ہیں جس کی رپورٹ درج ہوتی ہے اور کسی نہ کسی طرح تحریری شکل میں اندراجات ہوتے ہیں، ایسی متاثرہ خواتین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے جو میکے، سسرال اور اپنے خاندان کی بدنامی کے ڈر سے زبان ہی نہیں کھولتیں اور خاموشی سے مظالم برداشت کرتی رہتی ہیں۔ ان مظالم کی سربراہ عام طور پر خاتون خانہ ہی ہوتی ہے۔
سیاسی گلیاروں میں مشہور چیرٹیبل آرگنائزیشن آکس فیم (OXFAM ) کی خواتین سے متعلق ایک رپورٹ کا ذکر زور شور سے ہو رہا ہے، آکس فیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عورتیں ہر برس دنیا میں 700 لاکھ کروڑ روپے کے ایسے کام کرتی ہیں ، جن کا انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ ہندوستان میں یہ عدد 6 لاکھ کروڑ کا ہے۔ اسی طرح یہ ایپل کے سالانہ ریونیو کا 43 فیصد ہے۔ ہندوستان سے متعلق اپنی رپورٹ میں اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں کے شہروں کی خواتین روزانہ 312 منٹ اور دیہی علاقوں کی خواتین 291 منٹ بغیر معاوضہ کے کام کرتی ہیں۔ جہاں تک مردوں کی بات ہے انہیں شہروں میں 29 منٹ اور دیہی علاقوں میں 32 منٹ ایسے کام کرنے پڑتے ہیں، جن کا انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ اگر مال دار اور کریمی لیئر کی بات کریں تو ہندوستان میں کل 119 ارب پتی ہیں ، جن میں خواتین کی تعداد صرف 9 ہے، آکس فیم نے گزشتہ برس کی سالانہ رپورٹ کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہندوستان میں ملازمت پیشہ خواتین اور مردوں کی تنخواہ میں 34 فیصد کا فرق ہے۔ اس نے یہ بھی تخمینہ ظاہر کیا ہے کہ 2006 کے مقابلے ہندوستان دس پوائنٹ نیچے آگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں عورتوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کئی قوانین ہیں۔ لیکن ان پر عمل آوری کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح ٹیکس میں تخفیف کامعاملہ ہے، اگرچہ عورتوں کے لئے آمدنی میں پچاس ہزار چھوٹ ہے، اس کے باوجود چھوٹ کا زیادہ فائدہ مردوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کے پاس پچاس فیصد زیادہ سرمایہ ہے۔ دوسری طرف 86 فیصد کمپنیوں کے سربراہ مرد ہی ہیں، اس لئے ٹیکس میں زیادہ فائدہ انہیں ہی ملتا ہے۔ ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم کے دوران اخراجات پورے نہ ہونے پر لڑکیوں کو ہی پہلے اسکول چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
عام انتخابات ہوں یا دیگر انتخابات عورتیں کم تعداد میں ہی حصہ لیتی ہیں۔ پنچایت انتخابات میں اگر چہ خواتین کی حصہ داری بڑھ گئی ہے، لیکن دوسرے انتخابات میں ابھی ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ واضح رہے کہ عام انتخابات میں خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن بل سابق وزیر اعظم دیو گوڑا کے دور حکومت میں 1996 ء میں پیش کیا گیا تھا اور 13 برس تک زیر التوا رہنے کے بعد یہ بل لوک سبھا میں تو منظور ہوا ، لیکن راجیہ سبھا میں اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ پھر آٹھ سال کے بعد راجیہ سبھا میں یہ پھر زیر بحث آیا اور چیئرمین وینکیانائیڈو سے اس پر تمام سیاسی جماعتوں کی ممبر پارلیمنٹ خواتین نے بحث کرانے کا مطالبہ کیا ۔
صورت حال یہ ہے کہ ایشیا ہو یا یوروپ یا دوسرے مغربی ممالک خواتین کے حالات ہر جگہ کم و بیش یکساں ہی ہیں۔ بس استحصال کا انداز جدا ہے۔ اگر خواتین پر تشدد کی بات کریں تو ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان پہلی صف میں ہے جب کہ امریکہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا تامل نہیں جب تک معاشرتی رویوّں میں تبدیلی نہیں کی جاتی، خواتین پر تشدد اور استحصال کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔ خواتین ایک ہی تشدد کی شکار نہیں ہیں۔ کہیں ذہنی تشدد ہے ، کہیں جسمانی تشدد ، کہیں جنسی تشدد ہے، کہیں گھریلو تشدد اور کہیں ریاستی اور ملکی سطح پر تشدد ہے۔ ان سب کا علاج ایک ہی ہے اور وہ ہے معاشرتی ریوّں میں تبدیلی۔ ویسے عورتوں کے اتحاد اور فیصلہ بدلنے کے لئے مجبور کرنے والا یہ واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہے، جب بہار حکومت میں شراب بندی کے نفاذ میں عورتوں نے اہم کردار ادا کیا تھا اور پوری ریاست میں شراب پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ملک کی دوسری ریاستوں سے بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ بھی شراب پر پابندی لگائیں۔ اس لئے کہ عورتوں پر تشدد کی ایک بڑی وجہ شراب نوشی کو بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صنفی تفریق کے خاتمے کے لئے ہر سطح پر کوششیں کی جائیں اور سب سے پہلے اپنے گھر سے اصلاح اور برابری کی داغ بیل ڈالی جائے۔ جہاں تک ممکن ہو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی جائے۔ اگر دنیوی مسائل اور کاروبارِ زندگی کو چھوڑ دیں تو اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیے، جن پر عمل آوری بہر حال ضروری ہے۔