آج نئی نسل کی ذہنی تربیت کی زیادہ ضرورت :مفتی سلمان منصور پوری

دارالعلوم امدادیہ گڑھی یمنا نگر میں دینی تعلیمی بورڈ ہریانہ و پنجاب کے قیام کے سلسلے میں انتخابی اجلاس کا انعقاد

یمنا نگر :(پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند کی’’ دینی تعلیمی بورڈ ‘‘تحریک اپنی نافعیت کے اعتبار سے نئی نسل کی مثبت ذہن سازی کے لئے بڑی اہمیت کی حامل بنتی جارہی ہے ،اسی تحریک کو صوبہ ہریانہ پنجاب ہماچل اور چنڈی گڑھ میں عام کرنے کے لئے دارالعلوم امدادیہ گڑھی یمنا نگر میں دینی تعلیمی بورڈ قائم کرنے کے لئے ایک انتحابی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا سید محمد سلمان منصور پوری بحیثیت مہمان خصوصی تشریف لائے ،مولانا منصور پوری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ دور مختلف قسم کے فتنوں کا دور ہے ،شراب نوشی اور زنا کاری کا دور دورہ ہے اور تعجب اس بات پر ہے کہ موجودہ حکومت اور اس کی عدلیہ کے کچھ ایسے فیصلے ابھی سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے اس وقت معاشرہ میںاخلاقی قدروں کی پامالی کا رجحان اور بڑھے گا ، ملک و ملت کے مفاد میں سماجی اور معاشرتی اعتبار سے بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے ،اور سماجی سدھار اور ملک و وطن کی ترقی کے لئے جو مثبت ذہن سازی ہوتی ہے اس کی بنیاد چھوٹے چھوٹے مکاتب اور مدارس دینیہ سے ہوتی ہے اسی لئے جمعیۃ علماء ہند نے اس جانب خاص توجہ دی ہے اور پورے ملک میں دینی تعلیمی بورڈ کے تحت مکاتب و مدارس کو بڑے منظم انداز میں پھیلانے کی جدو جہد اور کوششیں جاری ہیں ،مولانا منصور پوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دینی تعلیم سے وہ روشنی ملتی ہے جس سے انسان کی پوری زندگی روشن و تابناک ہوجاتی ہے اس لئے دینی مکاتب کے قیام کو اولیت دی جائے ،مولانا منصور پوری نے ہندوستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مقابلہ میں آج نئی نسل کی ذہنی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے۔مولانا منصور پوری کی موجودگی میں ’’دینی تعلیمی بورڈ ہریانہ پنجاب ہماچل چنڈی گڑھ ‘‘کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا اور باتفاق رائے یہ طے ہوا کہ مولانا علی حسن مظاہری ناظم اعلی جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب ہماچل چنڈی گڑھ کی سرپرستی میں حافظ و قاری محمد یامین ناظم تعلیمات دارالعلوم ادایہ گڑھی اس دینی تعلیمی بورڈ کے صدر ہونگے اور پوری محنت اور دینی و سماجی ضرورت کے پیش نظر جمیعۃ علماء ہند کے اس تعلیمی مشن کو آگے بڑھائیں۔اجلاس کی اس پہلی نششت میں مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہندکے ناظم مولانا محمد جمال قاسمی اور جمعیۃ علماء ہند کے زیر نگرانی جاری مکاتب دینیہ کے نگراں مولانا محمد خالد گیاوی نے بھی عوام سے خطاب کیا ۔
اس اجلاس کی دوسری نششت تدریب المعلمین کے عنوان سے منعقد ہوئی جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے ناظم عمومی مولانا شوکت علی بستوی کا خطاب ہوا ،مولانا بستوی کے خطاب سے پہلے دارالعلوم امدادیہ کے معلم حافظ محمد فریاد صاحب نے نورانی قاعدہ پڑھانے کے سلسلہ میں اپنے بیس سالہ تجربات کی روشنی میں کچھ اصولی باتیں بتائیں ،اسی طرح مولانا محمد عارف رانامزرعہ پانی پت نے تحفیظ قرآن کے اپنے تیس سالہ تجربات کی بناء پر حفظ قرآن کے معلمین کو کچھ رہنما اصول بتائے اس کے بعد مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے اپنے خطاب میں معلمین کی اہمیت اور ان کے انداز تعلیم سے متعلق گفتگو کی،مولانا بستوی نے رابطہ مدارس اسلامیہ کے تعلق سے بتایا کہ صدر رابطہ مدارس ہریانہ کی سربراہی میں پورے ہریانہ کے مدارس کا ایک تعلیمی بورڈ بنایا جائے جو پورے صوبہ میں اجتماعی امتحانات کا نظم کرے اور امتحان کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیتا رہے ،اس سے مدارس اسلامیہ کی نافعیت میں اور بھی اضافہ ہوگا ۔
اس اہم اجلاس میںمعلمین مکاتب کے علاوہ مولانا محمد الیاس مفتاحی پپلی مزرعہ،مولانا مہتاب صاحب ،مولانا ظہیر احمد ہماچل،حافظ مطلوب انبالہ،قاری محمد انس پنجاب،مولانا نسیم احمد ناہن،مولانا شریف پپلی مزرعہ،حافظ عبدالرحیم پنچکولہ،مولانا محمد الیاس قاسمی پاؤنٹی،حافظ سلیم احمد سرمور،چودھری کمال دین پنچکولہ،قاری نور علی ،قاری احمد علی چنڈی گڑھ اور صوبہ پنجاب ،ہماچل چنڈی گڑھ سے جمعیۃ علماء اورمدارس اسلامیہ کے اہم ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دارالعلوم امدایہ گڑھی کے معاون ناظم حافظ محمد احمد رشیدی اور جملہ اساتذہ و خدام نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور داعی اجلاس مولانا علی حسن مظاہری ناظم دارالعلوم امدادیہ کی دعا پر آخری نششت کا اختتام ہوا۔