Home نقدوتبصرہ آب حیات کا تنقیدی مطالعہ 

آب حیات کا تنقیدی مطالعہ 

by قندیل

تجمل حسین راحت
ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسیٹی
مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ,آب حیات, کا شمار اردو کی ان چند بنیادی کتابوں میں ہوتا ہے جو فکرو نظر کی واضح تبدیلی, نٸے تنقیدی رجحانات اور نٸے مباحث کے دور میں بھی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے یہ کتاب تذکرہ نگاری کے زمرے میں آتی ہے , تذکروں کے بارے میں عمومی شکایت ہے کہ یہ مختصر ,گنجلک ,مبہم اور کافی حد تک قافیہ بند ہوتے ہیں جس میں شعرا کے مختصر حالاتِ زندگی کا بیان اور انکی شاعری پر سرسری نگاہ اور اچٹتی ہوٸی نظر ڈالنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے اس مختصر ترین حالاتِ زندگی اور رسمیہ تبصرے سے نہ انکی زندگی کا مکمل عکس نظر آتا ہے اور نہ ہی انکی شاعری کے پورے رنگ واضح ہوتے ہیں اور یوں یہ معاملہ ادبی تنقید کے بجاٸے ذاتی پسندو نا پسند کا بن کر رہ جاتا ہے غزلوں اور نظموں کے چند مصرعے نمونے کے طور پر پیش کرکے اس پر رسمیہ انداز کے تبصرے کرتے ہیں جیسے سلاست ہے روانی ہے سوز ہے گداز ہے وغیرہ یعنی پرانے تذکرہ نگاروں کے نزدیک شعر میں سلاست و روانی کا تعین اور سوزو گداز کی کھوج ہی تنقید کی معراج تھی شاید تذکرہ نگاروں کے اسی روش سے نالاں ہوکر کلیم الدین احمد نے پرانے تذکروں کو سنڈاس کا ڈھیر قرار دیا ہے محمد حسین آزاد نے 1880 میں ,آبِ حیات , نامی ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے شاعروں کی چلتی پھرتی بولتی چالتی زندگی دکھانے کا دعوے کیا ہے, کتاب کا پہلا باب ,زبان اردو کی تاریخ ,ہے اس باب کے تحت لکھی جانے والی پہلی سطر ہی تحقیقی غلطی پر مبنی ہے وہ لکھتے ہیں ,,اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری
زبان اردو برج بھاشا سے نکلی ہے ,,اس نظرٸے کو اس وقت بھی کوٸی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی اب تو لسانی تحقیق اور لسانی نظام کے ماہرین نے دلاٸل کے ساتھ قطعی طور پر اس نظریے کو مسترد کر دیا ہے اس باب میں پراکرتوں کے بیان میں مختصراََ بدھ مذہب ,سنسکرت کے وجود اور اسکے ارتقا کا بھی ذکر آگیا ہے , تمام شعرا کو زمانی اعتبار سے پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے اس کتاب میں آزاد نے ایک خیالی مشاعرہ منعقد کیا ہے جس میں اختصار سے تمام شعرا ٕ کے حالاتِ زندگی بیان کرنے کے بعد انکا کلام پیش کرتے ہیں پھر اس پر مختصر تبصرہ کرتے ہوٸے شاعروں کے معاصرانہ چشمک اور مشاعروں کی نوک جھونک کو بڑی خوبصورتی سے لطیفے کی شکل میں پیش کرتے ہیں, ولی دکنی کے سلسلے میں ایک لطیفہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دن جوشِ ریختہ گوٸی میں ناصر علی سر ہندی کو جو علی تخلّص کرتے تھے یہ شعر لکھا ۔۔۔اچھل کر جا پڑے جوں مصرعے برق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر مطلع لکھوں ناصر علی کوں ,, ناصر علی نے جواب میں لکھا ,,,,باعجازِ سخن گر اوڑھ چلے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولی ہر گز نہ پہنچے گا علی کو ۔۔۔آب حیات ,کے پہلے دور میں شمس ولی اللہ ولی دکنی ,شاہ مبارک آبرو ,شیخ شرف الدین مضمون ,محمد شاکر ناجی ,غلام مصطفی یک رنگ ,وغیرہ کا تذکرہ ہے آزاد اس باب کو اپنے دلکش اور سحر انگیز اسلوب میں یوں شروع کرتے ہیں ,, یہ نظم اردو کی نسل کا آدم جب ملک عدم سے چلا تو اسکے سر پر اولّیت کا تاج رکھا گیا جس میں وقت کے محاورے نے اپنے جواہرات خرچ کٸے اور مضامین کی راج الوقت دست کاری سے مینا کاری کی جب کشورِ وجود میں پہنچا تو ایوان مشاعرہ کے صدر میں اسکا تخت سجایا گیا ,, ص 75 اور اس دل آویز تمہید کے بعد اردو شاعری میں اولّیت کا سہرا ولی دکنی کے سر باندھتے ہیں حالانکہ جدید تحقیق نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ان سے ڈیڑھ صدی پہلے بادشاہِ وقت محمد قلی قطب شاہ اردو شاعری کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوچکے تھے انکی غزلوں نظموں دوہوں اور رباعیوں میں ہندوستانی تہذیبوں کا عکس, تہواروں کا امنگ ,موسموں کی رنگا رنگی, اور مٹی کی خوشبو جا بجا موجود ہے ۔ڈاکٹر ابو بکر عباّد صاحب اپنی کتاب, تنقید سے پرے , میں لکھتے ہیں ,,ایک عرصے تک ولی دکنی کو اردو کا باوا آدم کہنے سمجھنے اور پڑھنے کے بعد اردو والوں پر جب یہ بھید کھلا کہ سلطنت اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر دراصل ولی دکنی سے ایک سو بیالیس سال پہلے گولکنڈہ کے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ کی صورت میں پیدا ہو چکا تھا تو ادبی تاریخ کے ماضی کو دریافت کرنے اور شاعری کی تقریباََ ڈیڑھ صدی ترقی سے اہل اردو کی خوشی اور افتخار میں اضافہ ہوا دریافت ہونے والا شاعر بھی کیسا جس نے حمد ,نعت ,منقبت اور مناجات, لکھے غزل, ریختی رباعی,چہار در چہار اور قطعے لکھے قصیدے ,مرثیے,مثنوی اور آزاد نظمیں لکھیں ,,ص 11, تذکرہ و سوانح جیسے خشک موضوع کو آزاد نے اپنے خوبصورت اندازِ تحریر اور دلکش پیرایہ بیان سے زندگی کی حرارت بخش دی ,آ حیات ,کی سب سے بڑی خوبی اسکا پر کشش اسلوب اور افسانوی لب و لہجہ ہے مگر بعض ناقدوں کے نزدیک یہی اسلوب کی رنگینی اور افسانوی آہنگ کتاب کے خرابی کی وجہ بھی ,شوقِ انشا پردازی اور طرزِ ادا کی رنگینی پوری کتاب پر حاوی ہے جب بات آزاد کے پسندیدہ شاعر یا استاذ کی ہو تو وہ سوانح نگاری کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری کرنے لگتے ہیں اپنے استاد ذوق کا بیان اس افسانوی ڈھنگ سے کرتے ہیں ,, جب وہ صاحب کمال عالم ارواح سے کشور اجسام کی طرف چلا تو فصاحت کے فرشتوں نے باغ قدس کے پھولوں کا تاج سجایاجن کی خوشبو شہرت عام بن کر جہاں میں پھیلی اور رنگ نے بقاٸے دوام سے آنکھوں کو طراوت بخشی وہ تاج سر پر رکھا گیا تو آب حیات اس پر شبنم ہو کر برسا کہ شادابی کو کملاہٹ کا اثر نہ پہنچے ملک الشعراٸی کا سکہ اسکے نام س موزون ہوا اور اسکے طغراٸے شاہی میں یہ نقش ہواکہ اس پر نظم اردو کا خاتمہ کیا گیا چنانچہ اب ہرگز امید نہیں کہ ایسا قادرالکلام پھر ہندوستان میں پیداہو ,,ص355 کلیم الدین احمد نے اپنی کتاب ,اردو تنقید پر ایک نظر , میں اس افسانوی ڈھنگ پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہیکہ یہ زبان ناول اور افسانے کے لٸے تو بہتر ہے مگر تنقید کیلٸے سم قاتل اور روحِ تنقید کے منافی ہے ,,دراصل تنقید نگاری گول مول بات یا انشا پردازی کے پردے میں مبہم انداز اپنانے ,نثری قصیدہ نگاری اور اور غیر قطعی فیصلہ کرنے کا نام بالکل نہیں ,قطعیت اور دو ٹوک انداز تنقید کی شرطِ اول ہے اب یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ ,آب حیات ,تنقیدی کتاب نہیں بلکہ سوانحی تذکرہ ہے اسلٸے یہاں تنقید کے تمام اصولوں کی بازیافت اور قطعیت کی تلاش بے سود ہے مگر جواب ہے کہ تذکرہ نگار ہو, کہ سوانح نگار کسی کلام پر جب اپنی راٸے پیش کرتے ہیں اور اسکے حسن وقبح کی نشاندہی چاہے جس انداز میں کرے وہ تنقید کہلاتی ہے اب یہ تنقید نگار کی ذمہ داری ہے کہ اصولوں کی روشنی میں واضح انداز میں فن پارے کا تجزیہ کرکے دو ٹوک انداز سے اپنی راٸے قاٸم کرے یا ذوقِ انشا پردازی میں قاری کو بھول بھلیا کی سیر کراٸے ,تمام ناقدوں نے ,آب حیات,میں آزاد کی جانب داری کو شدت سے محسوس کیا ہے غالب کے مقابلے اپنے استاد ذوق کو عظیم شاعر بنا کر پیش کرنا میر کی خودّاری وضعداری اور نازک مزاجی کو بدماغی ثابت کرنا , غالب کی شاعری پر تبصرے کم اورانکی مشکل معاشی زندگی کوہاٸی لاٸٹ کرنا ,انکی جانب داری کی واضح مثال ہے پہلے اڈیشن میں مومن جیسے یکتہ روزگار شاعر کو سرے سے نظر انداز کردیا مگر اہل علم نے جب اس پر تنقید کی اور جانب داری کا الزام لگایا تو مجبوراََ انہیں دوسرے ایڈیشن میں شامل کرنا پڑا
, یہ کتاب آج بھی اپنی بہت ساری خوبیوں اور تھوڑی سی خامیوں کے ساتھ اردو والوں کی ضرورت بنی ہوٸی ہے ۔۔۔۔۔۔

You may also like

9 comments

محمد سلمان 15 مارچ, 2018 - 12:17

تجمل حسین صاحب کا یہ مضمون "آب حیات کا تنقیدی مطالعہ” عمدہ کاوش کا عمدہ نتیجہ ہے
اس مضمون میں انہوں نے "آب حیات” کی ادب میں کیا حیثیت ہے اسے بتایا اور پھر اس کے معائب ومحاسن کو سامنے رکھتے ہوئے zooming کا کام کیا اور اس طرح قاری کو آب حیات سے قریب کرنے کی کوشش کی حالانکہ اس سے پہلے بھی بہت سے نقادوں نے یہ کام کیا اور بہت اعلی پیمانے پے کیا تاہم یہ کوشش بھی لائق تحسین اور قابل ستائش ہے
زبان میں سلاست بھی ہے اور روانی بھی اور اسی طرح فکر کا دائرہ مناسب اور اس کا زاویہ کجی سے مبرا ہے ایک اچھے نقاد کے فریضے کو سامنے رکھتے ہوئے الفاظ کے بے جا استعمال سے اجتناب اور فکر کے الجھاؤ سے پرہیز کیا ہے
کچھ کمیاں بھی ہیں جیسے کلیم الدین احمد نے پرانے تذکروں کو سوختنی کہا اور آپ نے اس لفظ کو…………………… اور اسی طرح تذکروں کے حوالے سے جو بات کہی………. جبکہ تذکروں کے حوالے سے یہ بات مسلم ہے کہ ان تذکروں میں تنقید کے ابتدائی نقوش جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں "رد و اخذ” کے اصول اسی طرح پسند اور ناپسند….. تاثراتی تنقید کی بنیاد اسی پے استوار ہوتی ہے
اسی طرح اس مضمون میں فکری اعتبار سے کہیں کہیں ہم آہنگی مفقود ہوتی نظر آتی ہے
تاہم یہ مضمون من جملہ زبان و بیان اور فکر کے اعتبار سے عمدہ کاوش کا عمدہ مظہر ہے
آخر میں اس مضمون کے لیے بس یہ شعر کہنا چاہوں گا
طاؤس کے پاے زیست پے کر کے نگاہ
نہ کرئیے اس کے حسن کا انکار

عبدالقیوم 16 مارچ, 2018 - 17:02

[16/03, 1:18 pm] Abdul: زبیں صاحب کے بار بار اصرار پر میں نے بھی کسی طرح ?اس آرٹیکل کو پڑھا، پڑھ کر اچھا لگا مگر یہ احساس ہوا کہ آپ نے آب حیات کوشاید پڑھی نہیں ہے (ہوسکتا ہے میں غلط ہوں مگر آپ کے مطابق پڑھنے کے بعد تبصرہ بھی ضروری ہے اس لیے ??یہ کہہ رہا ہوں) کیوں کہ آپ نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے، امید تھی کہ زبیں صاحب جیسے ذمہ دار اسکالر کوئی جدید تحقیق پیش کریں گے لیکن شاید ایسا نہیں ہو سکا… کچھ چیزیں آپ نے ضرور کہی ہیں جو دعوت فکر دیتی ہیں مثلاً تذکروں کے بارے میں کہ شاعروں کے سلاست، سوز وگداز…. وغیرہ پائے جاتے ہیں اور بس……آپ کا یہ جملہ حلق سے نیچے نہیں اتر پا رہا ہے…. اسی طرح آپ نے کہا کہ محمد حسین آزاد نے اپنی کتاب کی شروعات ہی تحقیقی غلطی سے کی ہے،……. یہ بھی جملہ بھی شاید سوال کے گھیرے میں آ سکتا ہے کیونکہ اردو میں اس کے ابتدا کے تعلق سے الگ الگ نظریات ہیں.. اور کسی کے بارے میں حتمی طور پر تمام کا اتفاق بھی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا. اس لیے تحقیقی غلطی سے تعبیر شاید صحیح نہیں ہے……. بقیہ سب ٹھیک ہے لکھتے رہیں. بیان میں سلاست ہے، کچھ حد تک مزاحیہ بھی جو قاری کو گرفت میں لے لیتا ہے… دعا ہے اللہ تعالٰی آپ کے زور قلم میں مزید ترقی عطا فرمائے..آمین
[16/03, 1:27 pm] Abdul: بالاستیعا ب نہیں نہ پڑھنے کی بات ہے…

عبدالقیوم 16 مارچ, 2018 - 17:02

[16/03, 1:18 pm] Abdul: زبیں صاحب کے بار بار اصرار پر میں نے بھی کسی طرح ?اس آرٹیکل کو پڑھا، پڑھ کر اچھا لگا مگر یہ احساس ہوا کہ آپ نے آب حیات کوشاید پڑھی نہیں ہے (ہوسکتا ہے میں غلط ہوں مگر آپ کے مطابق پڑھنے کے بعد تبصرہ بھی ضروری ہے اس لیے ??یہ کہہ رہا ہوں) کیوں کہ آپ نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے، امید تھی کہ زبیں صاحب جیسے ذمہ دار اسکالر کوئی جدید تحقیق پیش کریں گے لیکن شاید ایسا نہیں ہو سکا… کچھ چیزیں آپ نے ضرور کہی ہیں جو دعوت فکر دیتی ہیں مثلاً تذکروں کے بارے میں کہ شاعروں کے سلاست، سوز وگداز…. وغیرہ پائے جاتے ہیں اور بس……آپ کا یہ جملہ حلق سے نیچے نہیں اتر پا رہا ہے…. اسی طرح آپ نے کہا کہ محمد حسین آزاد نے اپنی کتاب کی شروعات ہی تحقیقی غلطی سے کی ہے،……. یہ بھی جملہ بھی شاید سوال کے گھیرے میں آ سکتا ہے کیونکہ اردو میں اس کے ابتدا کے تعلق سے الگ الگ نظریات ہیں.. اور کسی کے بارے میں حتمی طور پر تمام کا اتفاق بھی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا. اس لیے تحقیقی غلطی سے تعبیر شاید صحیح نہیں ہے……. بقیہ سب ٹھیک ہے لکھتے رہیں. بیان میں سلاست ہے، کچھ حد تک مزاحیہ بھی جو قاری کو گرفت میں لے لیتا ہے… دعا ہے اللہ تعالٰی آپ کے زور قلم میں مزید ترقی عطا فرمائے..آمین
[16/03, 1:27 pm] Abdul: بالاستیعا ب نہ پڑھنے کی بات ہے…

تجمل حسین راحت 16 مارچ, 2018 - 18:26

عبدل صاحب کا تبصرہ بہتر اور کافی حد تک سنسنی خیز رہا [شاید دانستہ] تذکروں کے بارے میں رسمیہ انذ کی تنقید نگاری پر میرا تبصرہ تھا کہ سلاست روانی اور سوز و گداز کا تعین ہی انکی معراج تھی , بقول عبد ل صاحب کے ,آپکا یہ جملہ حلق سے نیچے نہیں اتر رہا ہے ,تو میں انہیں ایک گلاس ٹھنڈے پانی کی مدد سے حلق سے نیچے اتارنے کا مشورہ دونگا [مزاحاََ] ہو سکتا ہے میری اس بات میں مبالغہ ہو مگر پرانے تذکروں میں ایک طرح کی اکتا دینے والٕی تنقید سے انکار نہیں کیا جا سکتا رہی بات برج بھاشا والی تو دیکھٸے اس پر تمام محققین کا تقریباََ اتفاق ہے کہ برج بھاشا سے اردو نہیں نکلی ہے محققین نے اپنے اپنے معتقدات اور ذاتی نظریات کے تحت اردو کے پیداٸش کی جگہ متعین کرنی چاہی ۔ دراصل کھڑی بولی اور ہریانوی کے زیر اثر ہلی اور نواح دہلی میں اردو کا وجود ہوا جس پر اکثر محققین کا اتفاق بھی ہے تب برج بھاشا والا نظریہ خود بخود مسترد ہو جاتا ہے اور جہاں تک نٸی تحقیق نہ پیش کرنے کا الزام ہے تو ,اس باب کی شر وعات ہی تحقیقی غلطی سے ہوٸی ہے,,اس جملے کی جرات کو ہی جدید مان لیا جاٸے ۔[ یہ بھی مزاحاَ] یقیناََ میرے اس مضمون میں کچھ غلطیا ں ہیں اور سب کو کرید کرید کے پڑھواکر اپنی غلطیاں اسلٸے نکلوا رہا ہوں تاکہ آٸیندہ کوٸی نقص باقی نہ رہ جاٸے ۔۔۔۔۔عیب کا دریافت کرنا ہے ہنر مندی اسد ۔۔۔۔ نقص پر اپنے ہوا جو مطلع کامل ہوا ۔۔۔۔۔

عبدالقیوم 16 مارچ, 2018 - 17:04

رسمیہ انداز کی تنقید نورالحسن نقوی کی کتاب، سنبل نگار کی کتاب، شائستہ پروین اور کچھ اسی قسم کے گائیڈ نما کتاب تاریخ کے حوالے سے. کبھی تنقید کے حوالے سے اور کبھی شاعری کے حوالے سے… وغیرہ میں ملیں گے. اگر آپ کی یہی مراد ہے توآپ سے ہمیں گھور شکایت ہے. کیوں کہ مذکورہ لوگوں کا کام تحقیقی لحاظ سے بہت حد تک قابل اعتبار نہیں.. اور اگر آپ معتبر حضرات کی بات کریں تو ان میں بیانیہ انداز کی تنقید ہر گز نہیں ہے… آپ تھوڑا وقت نکال کر مطالعہ کریں… اور آپ سے مطالعہ ہی کی امید ہے……… بقیہ کیا لکھوں. ٹائپ کرنے میں بہت دقت ہوتی ہے….

عبدالقیوم 16 مارچ, 2018 - 17:05

رسمیہ انداز کی تنقید نورالحسن نقوی کی کتاب، سنبل نگار کی کتاب، شائستہ پروین اور کچھ اسی قسم کے گائیڈ نما کتاب تاریخ کے حوالے سے. کبھی تنقید کے حوالے سے اور کبھی شاعری کے حوالے سے… وغیرہ میں ملیں گے. اگر آپ کی یہی مراد ہے توآپ سے ہمیں گھور شکایت ہے. کیوں کہ مذکورہ لوگوں کا کام تحقیقی لحاظ سے بہت حد تک قابل اعتبار نہیں.. اور اگر آپ معتبر حضرات کی بات کریں تو ان میں رسمیہ انداز کی تنقید ہر گز نہیں ہے… آپ تھوڑا وقت نکال کر مطالعہ کریں… اور آپ سے مطالعہ ہی کی امید ہے……… بقیہ کیا لکھوں. ٹائپ کرنے میں بہت دقت ہوتی ہے….

محمد اشرف یاسین 17 مارچ, 2018 - 00:13

قندیل پورٹل کے منتظمین سے گزارش ہے کہ براءے کرم آپ حضرات اپنے اس پورٹل میں اسکرپٹ اور تحریر کا طرز بدل دیں۔ہمیں اس طرح کی تحریریں پڑھنے میں بہت سخت اذیت تکلیف اور کرب کا احساس ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہمزہ وغیرہ کے لکھنے اور پڑھنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ امید ہے منتظمین میری بات پر ہمدردانہ غور فرماءیں گے۔
محمد۔اشرف یاسین
جواہر لال نہرو یونیورسٹی
اسکول آف لینگویج 110067
8750835700

قندیل 17 مارچ, 2018 - 12:01

شکریہ

محمد مھتدی 22 مارچ, 2018 - 08:19

یہ تو بعد کی بات ہے کہ مضمون تنقیدوں معیاروں پر کھڑا اترتا ھے یا نھیں لیکن اس سے پہلے یہ ضرور دیکھنا چاھئے کہ راحت بھائی نے کس خوبصورت پیرایہ بیان اپنی باتیں کہی ہیں
آنکھ کھلی فیسبوک کھولا تو بھائی کا مضمون گردش کرتا ہوا نظر آیا سوچا سرسری نگاہ ڈال لوں تو کیا حرج ہے لیکن جب ایک مرتبہ پڑھنا شروع کیا تو پورے مضمون کو بنظر غائر پڑھتا گیا اور اسلوب نگارش پر عش عش کرتا گیا ایک اخاذ طبیعت شخص کی اچھی کاوش ۔۔۔۔۔۔۔ ایں سعادت بزور وبازو نیست
خدا کرے زور قلم اور

Leave a Comment