آؤ کہ منصور کو سنگسار کریں!

التمش خان
مدارس میں بسم اللہ ہوتے ہی آپ کو فنون کی ہزار سالہ پرانی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ، آپ آنکھیں کھولتے ہیں، تو فارسی و عربی آپ کے سر پر سوار ہوجاتی ہیں ، پلک جھپکنے میں آپ کو” ضرب یضرب” کی گردانوں سے گزارا جاتا ہے ، اس مہم میں مولا بخش کا استعمال اس قدر ہوتا ہے کہ بعض کم ہمت پہلی وار میں میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں ، استاد جی آستین چڑھانے سے پہلے ایک جملہ کہتے تھے ” یہ گز اور یہ میدان ” اور پھر” ڈوز ڈب” کے ساتھ پٹائی شروع ہوجاتی تھی ، ہر آنے والا وار پہلے وار سے تیز ہوتا ، ایک چرواہا،جو ڈھیر ساری لکڑیاں کاٹ کر گھر لےجاتا ہے اور پھر کلہاڑی سے انہیں کاٹتے ہوئے ” ایھھ” کی آواز نکالتا ہے ، یہ آواز موسیقی کی اس دھن کی طرح ہے، جس میں طبیعت کا جبر کم،ماحول کی ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے !
عمیر نام تھا ، بارہویں پڑھ کر مدرسے آیا تھا ، پہلے دن ہی ان سے کہا گیا ، کل سے ٹائٹ پاجامہ پہن کر مت آئیے گا !
ہم تو سو” مولا بخش” کے عادی تھے ، ان کے لئے یہ انوکھا تجربہ تھا ، ان کے ہاتھوں پر پسینے زیادہ آتے تھے ، بعض لوگوں کو یہ بیماری ہوتی ہے کہ ہاتھ ہلائے تو فرشتے وضو کریں !
ان کے ہاتھ پر مولا بخش پڑتے ہی فوارے پھوٹتے جیسے پانی سے بھرے ہوئے تالاب میں آپ پتھر پھینکتے ہیں ، پانی کا سکون ختم ہو کر چھینٹوں کی شکل میں بہ جاتا ہے !
زیادہ لمبا عرصہ وہ یہ مشقت جھیل نہ سکے اور چھوڑ کر چلے گئے !
انہیں شاید بچپن میں ممکن ہے رٹنے کی عادت رہی ہو، مگر اب ان کی عمر ایسی نہ تھی کہ وہ رٹتے ، سمجھنے کی بات جب تھی ہی نہیں،تو کرنا کیا تھا ؟
طالب علمی کی آدھی زندگی رٹتے گزر جاتی ہے اور آدھی زندگی قدیم فلاسفہ کے کتابی فلسفوں کے ساتھ ، وہ فلسفے، جو آپ کی خارج میں اتنی ہی مدد کرسکتے ہیں کہ آپ کسی کو بھی تاویل کی کھونٹی سے لٹکانا سیکھ جاتے ہیں !
پھر فقہ کا دور آتا ہے ، ہماری اصطلاحات اور روز مرہ کے مسائل ماوراء النہر کے عرف سے باہر نہیں آتے ، طلاق کی وہ فرضی کہانیاں اور چیستاں کہ ہم ذاتی زندگی میں ان کی حسرت ہی کرتے رہ جاتے ہیں ، ایک بندہ اپنی بیوی کو تین طلاق نہیں ایک ہزار طلاق دیتا ہے ، تین طلاق تو پڑگئے اس کی بیوی بیچاری کو باقی 997 طلاق کی وہ بتی بنا کر کہیں سے بھی دخول خروج کرسکتا ہے !
حسرت موہانی کے لئے چکی مشقت تھی اور ہمارے لئے بخاری اور سمرقند کی مشقت !
پھر دور آتا ہے برکتیں سمیٹنے کا ، معاشرت کی احادیث کو برکت کے لئے کہ کر عبارت پڑھنے والے سے کہا جاتا ہے لگامیں کھینچ لیں ! اس وادی میں ہمارا پڑاؤ نہیں۔ قاری فل اسپیڈ سے گاڑی چلاتے ہوئے نکل جاتا ہے ، معاشرت کیا ہے ؟ یہ ہم بھی نہیں جانتے !
یہ سب گزرنے کے بعد جب باری آتی ہے فقہا کے درمیان اختلاف کی،تو استاد محترم آستین چڑھا کر میدان میں اس انداز سے آتے ہیں،جیسے کسی بہت بڑے طاقتور پہلوان کا جب اپنے سے بہت کمزور سے مقابلہ ہو یا بیس دن کے بھوکے کو جب روٹی کا ٹکڑا نظر آئے !
پھر وہی مسائل اور استاد محترم کا جوش آسمان پنجم کو چھو رہا ہوتا ہے !
یوں ان طلبہ کو فارغ التحصیل کی ڈگری مل جاتی ہے ، یہ معصوم اسناد کے پلندے کسی شاپر میں رکھ کر مدارس کا رخ کرتے ہیں؛تاکہ انہیں پڑھانے کی جگہ اور دوو قت کی روٹی میسر ہو !
اس کے بعد معاشرے کی آدم خور موجیں انہیں جو تھپیڑیں رسید کرتی ہیں کہ وہ ان کا اخلاص ، تقوی ، للہیت سب کچھ بہا لےجاتی ہیں، مہتمم کی ڈیمانڈ ہوتی ہےکہ ہمیں چوبیس گھنٹے کے لئے استاد کی ضرورت ہے ، جن کی ذمے داری میں دونوں وقت کی پڑھائی ، پھر مطبخ کی نگرانی ، پھر بچوں کے تکرار اور مطالعے کی نگرانی، پھر بچوں کے سلانے کی ساری ذمےداری اور صبح ڈنڈے مار کر انہیں جگانے کی ذمے داری !
مشاہرہ پر بات آکر اٹک جاتی ہے ، مہتمم صاحب مشاہرہ متعین کرنے سے پہلے پانچ منٹ مدرسے کی غربت اور کس مپرسی پر ایمان افروز بیان کرتے ہیں، پھر دس منٹ معاونین اور مخیر حضرات کی عدم دستیابی پر اور آخری پندرہ منٹ تقوی ، زہد ، للہیت ، توکل واخلاص پر بیان دیتے ہوئے اپنی دس ہزار کی قیمتی گھڑی دو ہزار کی انگوٹھی بار بار لہراتے ہیں ، ایک آرام دہ کمرے میں بیٹھ کر ، مدرسے کے صحن میں کھڑی خوبصورت گاڑی ، وہاں گاڑی کا ڈرائیور گاڑی کے شیشے صاف کررہا ہوتا ہے ، پھر اسے مہتمم صاحب کے بچوں کو اسکول سے لینے جانا ہوگا ، یہ آخری پندرہ منٹ کی تقریر بارش کا وہ قطرہ ہے، جو اگر سیپی کے منہ پڑتا ہے، تو اس سے موتی بن جاتی ہے اور دور پڑا ایک ناخدا جس کی زندگی تمام ہونے والی ہے، اس ایک قطرے کی دور پر موت کو لبیک کہتا ہے !
مشاہرہ فقط آٹھ ہزار !
آٹھ ہزار کا سن کر بیوی بچوں کے چہرے ، بوڑھے والدین کے آنسواور قرض خواہوں کی چھیر پھاڑتی آنکھیں !
وہ ایک کرب سے گزر رہا ہے ، اس کی اوقات یہی ہے ، اس نے اپنی قسمت اس شیخ کی ہتھیلی پر لکھی دیکھی ہے،جو کسی معصوم کلی سے ایک نعرۂ تکبیر کی دوری پر ہے !
کچھ پرندے اس ڈرںے سے نکل کر آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، وہ خود کو بہت پرسکون محسوس کرتے ہیں ، مگر انسان اور بندر میں ایک چیز مشترک ہے ، ایک بندر دوسرے بندر کی کامیابی برداشت نہیں کرتا،اسی طرح انسان بھی اپنے ہم جنس انسانوں کی ٹانگیں کھینچتا ہے ، کچھ پرندے بہت دور تک کا سفر کرتے ہیں، وہ آزادی کے اس سفر میں تہذیب اور مذہب کو بیچ کھانے والے گدھوں کا شکار ہو جاتے ہیں ، وہ ایمان کی آخری سرحد پر ہوتے ہیں ، دل ناہنجار ستاتا ہے،مگر اسلام کے پانچ ارکان میں ایک بھوکے بھکاری نے چھٹا رکن "پیٹ” بھی لکھا ہے !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*